Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سادسا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی شخصیت

  علی محمد الصلابی

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے ساتھ چالیس ہزار ایسے لوگ تھے جنھوں نے آپ کے لیے موت کی بیعت کی تھی، اس کے باوجود انھوں نے خلافت، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دی، اگر وہ اس کے اہل نہ ہوتے تو نواسۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کے حوالے نہ کرتے، بلکہ ان سے جنگ کرتے۔ 

(الناہیۃ عن طعن امیر المومنین معاویۃ: صفحہ 57)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بے بنیاد اہل شام کے قائد نہیں تھے، سوانح نگاروں نے اس صحابی کے بہت سارے فضائل و مناقب ذکر کیے ہیں، ان میں سے بعض درج ذیل ہیں:

1: قرآن کریم میں:

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ غزوۂ حنین میں شریک تھے۔ ارشاد ربانی ہے:

ثُمَّ اَنۡزَلَ اللّٰهُ سَكِيۡنَـتَهٗ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ وَعَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَاَنۡزَلَ جُنُوۡدًا لَّمۡ تَرَوۡهَا‌ وَعَذَّبَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا‌ وَذٰلِكَ جَزَآءُ الۡـكٰفِرِيۡنَ۞ (سورۃ التوبةآیت 26)

ترجمہ: پھر اللہ نے اپنے رسول پر اور مومنوں پر اپنی طرف سے تسکین نازل کی اور ایسے لشکر اتارے جو تمہیں نظر نہیں آئے، اور جن لوگوں نے کفر اپنا رکھا تھا، اللہ نے ان کو سزا دی، اور ایسے کافروں کا یہی بدلہ ہے۔

اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ غزوۂ حنین میں شریک تھے، اور مؤمنوں میں سے تھے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے ساتھ ساتھ ان پر بھی سکینت اتاری تھی۔

(مرویات خلافۃ معاویۃ فی تاریخ البطری: خالد الغیث: صفحہ 23)

2: حدیث نبوی میں:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے درج ذیل دعائیں کی تھیں:

اَللّٰہُمَّ اجْعَلْہُ ہَادِیًا مَہْدِیًّا وَ اہْدِ بِہِ۔

(صحیح سنن: الترمذی للالبانی: جلد 3 صفحہ 236)

’’اے اللہ انھیں ہادی (راہ دکھانے والا) مہدی (ہدایت یافتہ) بنا اور ان کے ذریعہ سے لوگوں کو سیدھا راستہ دکھا۔‘‘

اَللّٰہُمَّ عَلِّمْ مُعَاوَیَۃَ الْکِتَابَ وَ الْحِسَابَ وَقِہِ الْعَذَابَ۔ 

(موارد الظمآن: جلد 7 صفحہ 249۔ اس کی سند حسن ہے۔)

’’اے اللہ! معاویہ کو قرآن مجید اور حساب و کتاب سکھا اور انھیں عذاب سے بچا۔‘‘

نیز ارشاد نبوی ہے:

أَوَّلُ جَیْشٍ مِنْ أُمَّتِیْ یَغْزُوْنَ الْبَحْرَ قَدْ أَوْجَبُوْا، قَالَتْ أُمُّ حَرَامٍ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ أَنَا فِیْہِمْ؟ قَالَ: أَنْتِ فِیْہِمْ۔ ثُمّ قَالَ النَّبِیُّ صلي الله عليه وسلم : أَوَّلُ جَیْشٍ مِنْ أُمَّتِیْ یَغْزُوْنَ مَدِیْنَۃَ قَیْصَرَ مَغْفُوْرٌ لَّہُمْ فَقُلْتُ: -أَیْ أُمَّ حَرَامٍ- أَنَا فِیْہِمْ یَا رَسُوْل اللّٰہِ؟ قَالَ: لَا۔

(صحیح البخاری: حدیث نمبر 2924)

’’میری امت کی پہلی فوج جو سمندری راستے سے لشکر کشی کرے گی ان کے لیے جنت واجب ہے۔ ام حرام رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ان میں رہوں گی؟ تو آپﷺ نے فرمایا: تم ان میں رہو گی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کی پہلی فوج جو قیصر کے شہر(قسطنطنیہ) پر لشکر کشی کرے گی مغفور لہ ہو گی۔ میں(یعنی ام حرام) نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ان میں رہوں گی؟ کہا: نہیں۔‘‘

مہلب کہتے ہیں: اس حدیث میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی منقبت اور فضیلت ہے، اس لیے کہ انھوں نے ہی پہلے سمندری راستے سے لشکر کشی کی تھی۔

(فتح الباری: جلد 6 صفحہ 120)