شیعہ کا ایک خط
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہشیعہ کی مستند کتاب جلاء العیون صفحہ 340 میں ایک خط شیعیان کوفہ کا بدین مضمون مسطور ہے:
بسم الله الرحمن الرحیم یہ نامہ سلیمان بن مروہ مسبب بن نحبہ اور رفاعہ بن حبیب بن مطاہر اور جمیع شیعیان و مؤمنین و مسلمین اہلِ کوفہ کی جانب سے بخدمت حضرت حسین بن علیؓ بن ابی طالب ہے آپ پر سلامِ خدا ہو اور ہم اس نعمتہائے کاملہ خدا پر جو ہم پر ہیں حمد کرتے ہیں اور ہم خدا کا شکر کرتے ہیں کہ اس نے آپ کے دشمن جبار معاند کو بغیر رضامندی امت ان پر حاکم ہوا تھا ہلاک کیا اور وہ بجور عدوان امت پر حاکم ہوا اور ان کے اموال میں ناحق تصرف کیا اور نیکانِ امت کو قتل کیا اور بداطواروں کو نیکوں پر مسلط کیا اور اموالِ خدا کو مالداروں اور جباروں پر تقسیم کیا خدا اسے نفرین کرے جس طرح قوم ثمود پر نفرین کی اور واضح ہو کہ اس وقت ہمارا کوئی امام پیشوا نہیں پس آپ ہماری طرف توجہ کیجیے اور ہمارے شہر میں قدم رنجہ فرمائیے کہ ہم سب آپ کے مطبع ہیں شاید حق تعالیٰ حق کو آپ کی برکت سے ظاہر کرے اور نعمان بن بشیر حاکم نہایت ذلیل و خوار دار الامارت میں بیٹھا ہے اور ہم جمعہ و عيدين کو وہاں پڑھنے نہیں جاتے ہیں اور جب آپ کی خبر تشریف آوری کی ہم کو ملے گی تو ہم اسے کوفہ سے نکال دیں گے۔