Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

جزع کی تعریف

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

جزع کی تعریف بھی حضرت امام نے بتادی ہے۔ چنانچہ دوسری حدیث میں ہے:

عَنْ جَابِرٍ عَنْ ابی جَعْفَرَ قَالَ قُلْتُ لَهٗ مَا الْجَزْعُ قَالَ أَشَدُّ الْجَزْع الصَّرَاخ بِالْوَيْلِ وَالْعَوِيلِ وَلَطمُ الْوَجْهِهٖ وَالصَّدْرِ وَجَزُّ الشَّعْرِ مِنَ النَّوَاصِیْ وَمَنْ اقَامَ النَّوَاحةَ فَقَدْ تَرَكَ الصَّبْرَ وَاخَذَ فِی غَيْرِ طَرِيقِهٖ۔ 

(فروع کافی: جلد، 1 صفحہ، 121)

ترجمہ: سیدنا جابرؒ کہتا ہے میں نے سیدنا صادقؒ سے پوچھا: جزع کیا ہے؟ فرمایا: انتہائی جزع دیل دعویل کی پکار کرنا اور منہ پر طمانچے لگانا، سینہ زنی کرنا، بال نوچنا اور جس نے نوحہ (ماتم) کیا اس نے صبر چھوڑ دیا اور غیر شرع کام کیا۔

یہ بات الم نشرح ہے کہ ماتمی لوگ یہ جملہ حرکات ویل و عویل کیا کرتے منہ پیٹتے، سینہ کوٹتے اور بال اکھیڑتے اور نوحہ کرتے ہیں اس لیے حسبِ فتویٰ امام والا مقام یہ کافر ہیں اور خلافِ شرع کام کر رہے ہیں کیا ماتمی لوگ ان صریح احادیث ائمہ اہلِ بیتؓ کو بغور پڑھ کر اس فعل شنیع سے باز آئیں گے؟

ہم نے ممانعت ماتم پر قول خدا، قولِ رسولﷺ قول جناب امیرؓ اور اقوالِ سیدنا جعفر صادقؒ پیش کر دیئے ہیں کہ خدا و رسول اللہﷺ نے صبر کا حکم دیا اور جزع سے منع کیا ہے اور جناب امیرؓ نے اپنے قول و فعل سے اختیار صبر و ترکِ جزع کا فتویٰ دے دیا ہے پھر سیدنا صادقؒ نے تو صریح الفاظ میں جزع کی تشریح فرما کر فتویٰ دے دیا ہے کہ جزع و فزع کرنے والے سب کافر ہیں ایسا ہی سیدنا حسینؓ نے بھی اپنے عمل سے بتا دیا کہ خواہ کیسی ہی مصیبت پیش آئے صبر کو ہاتھ سے نہ جانے دینا چاہیے چنانچہ فروعِ کافی: جلد، 1 صفحہ، 119 میں ہے:

كَمَا اُصِيبَ اَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ صَلَواتُ اللّٰهِ عَلَيْهِ نِعَى الْحَسَن الَى الْحُسَيْنِ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ وَهُوَ بِالْمَدَائِنِ فَلَمَّا تَرَ الْكِتَابَ قَالَ يَا لَهَا مِنْ مُّصِيبَةٍ مَا أَعْظَمَهَا مَعَ انَّ رَسُولَ اللّٰهِﷺ قَالَ مَنْ اصِيبَ مِنْكُمْ مِنْ مُّصِيبَةٍ فَلْيَذْكُر مُصَابَةٌ بِی فَاِنَّهُ لَنْ يُّصَابَ بِمُصِيبَةٍ اعْظَمَ مِنْهَا وَصَدَقَ ﷺ۔

ترجمہ: جب جناب امیرؓ کی شہادت کا واقعہ ہوا سیدنا حسنؓ نے اپنے بھائی سیدنا حسینؓ کو آپ کی وفات کی اطلاع بھیجی جب حضرت حسینؓ نے خط پڑھا فرمانے لگے کیسی بڑی مصیبت پیش آئی ہے لیکن آنحضرتﷺ نے فرمایا ہے کہ جس شخص کو کوئی مصیبت پیش آجائے وہ میرے واقعہ ہائلہ وفات کی مصیبت کو یاد کرے کیونکہ وفاتِ رسولﷺ سے بڑھ کر مسلمانوں کے لیے کوئی بڑی مصیبت نہ ہوگی اور حضورﷺ نے سچ فرمایا ہے یعنی حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اس خبرِ وحشتِ اثر کو سن کر ذرہ بھر جزع و فزع نہ کی بلکہ صبر و شکیب سے کام لیا اور یہ فرمایا کہ وفاتِ رسولﷺ سے بڑھ کر بقول آنحضرتﷺ مسلمانوں کے لیے کوئی مصیبت نہیں ہے پھر جب اس پر بھی صبر کا حکم ہے تو پھر کسی مصیبت پر بے صبری کرنا جائز ہو سکتا ہے؟