اتباع سنت کی تاکید
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ1: جلاء العیون اردو جلد 1 صفحہ 42 میں ہے کہ شیخ مفید و شیخ طوسی نے روایت کی ہے کہ جب حضرت محمدﷺ نے حجۃ الوداع سے مراجعت فرمائی اور حضرت محمدﷺ کو معلوم ہوا کہ اب زمانہ وفات قریب ہے ہمیشہ خطبہائے بلیغ فرماتے تھے اور لوگوں کو اپنے احکام کی مخالفت اور اپنے بعد فتنہ و فساد کرنے سے منع فرماتے اور ڈراتے تھے اور وصیت فرماتے تھے کہ میرے طریقہ سنت سے دستبردار نہ ہونا۔
2: کتاب مذکورہ جلد 1 صفحہ 205 میں جناب امیرؓ کی آخری وصیت کے الفاظ یوں درج ہیں: میری وصیت تم سے یہ ہے کہ شرک با خداوند بزرگوار نہ لانا اور کسی چیز کو اس کی عبادت میں شریک نہ کرنا اور سنت و طریقہ حضرت محمدﷺ کو ضائع نہ کرنا۔
3: نہج البلاغت صفحہ 128 میں ہے میں تم کو دو چیزوں کی وصیت کرتا ہوں ایک خدا کو واحد سمجھنا دوسری محمدﷺ کی سنت کو ضائع نہ کرنا۔
4: کتاب مذکورہ صفحہ 142 میں ہے: امام وہ ہے جو سنتِ نبویﷺ کا حامل ہو۔
5: فروعِ کافی میں ہے فمن رغب عن سنه فليس منی جو شخص میری سنت سے روح گردان ہوا وہ مجھ سے نہیں ہے۔
دیکھیے رسول اللہﷺ اور جناب امیرؓ نے جو وصیت بوقتِ پردہ فرما جانے کے فرمائی وہ اتباعِ سنت رسول اللہﷺ ہیں امام کی تعریف ہی یہ بیان کی کہ جو سنتِ نبویﷺ کا عامل ہو اور جو سنتِ نبویﷺ کو زندہ کرے پھر جو لوگ سنتِ رسول یا اہلِ سنت پر تمسخر کرتے ہیں اور رسول اللہﷺ اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے اقوال کو جھٹلاتے ہیں بے شک بقول رسول و ائمہ اہلِ بیتؓ بشہادت کتاب شیعہ وہی فرقہ حقہ ناجی ہے جو اہلِ سنت کہلاتا ہے ہاں شیعہ کی ہسٹری قرآن سے پڑھ چکے ہو اور یہ بھی کہ لفظ شیعہ کا اطلاق قرآن میں جابجا فرعونی گروہ کفار و مشرکین یہود و نصارٰی پر ہوا ہے پھر تعجب ہے کہ شیعہ کہتے ہوئے نہیں شرماتے کہ شیعہ کا ذکر تو قرآن میں ہے لیکن اہلِ سنت کا قرآن میں نام و نشان تک نہیں ٹھیک ہے،
اول ہی سے بشر کو ہے رغبت خلاف سے
لیتا تھا کام منہ کا شکم میں یہ ناف سے