شیعہ کا ادعائے قدامت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ کا ادعائے قدامت

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

صفحہ 2 از 3

ان تمام آیات میں لفظ شیعہ کا اطلاق کفار، مشرکین، فتنہ باز، فسادیوں، یہود و نصارٰی، سرکش شیطان صفت گروہ پر ہوا ہے پھر شیعہ خود ہی غور کریں کہ کیا وہ اس لفظ کا مصداق بننا چاہتے ہیں؟ اگر لفظ شیعہ پر ناز ہے تو لیجیے ان آیات کا مصداق بننا گوارا کیجیے آخر قرآن ہی کے الفاظ تو ہیں بقول شخصے:

کعبے سے ان بتوں کو نسبت ہے دور کی

 گو واں نہیں، وہاں سے نکالے ہوئے تو ہیں!

ہاں ان دو آیات میں لفظ شیعہ کا اطلاق بظاہر اچھے معنیٰ میں نظر آتا ہے جس سے شیعہ اپنی قدامت پر استدلال بھی کیا کرتے ہیں۔

1: هٰذَا مِنۡ شِيۡعَتِهٖ وَهٰذَا مِنۡ عَدُوِّهٖ‌ الخ۔

(سورۃ القصص: آیت 15)

یہ اس گروہ سے ہے اور یہ اس کے دشمنوں سے شیعہ کا معنیٰ دوست و رفیق ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے رفقاء کو بھی شیعہ کہا جاتا تھا لیکن محض شیعہ کی نافہمی اور عدم تدبر فی القرآن کا نتیجہ ہے وہ پہلا شخص گو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قبیلے بنی اسرائیل میں سے تھا مگر منافق و مشرک تھا اور اسی گروہ میں سے تھا جو اس سے پہلے گوسالہ پرستی میں مبتلا ہوئے تھے بلکہ مفسرین فرماتے ہیں کہ اس کا نام سامری تھا جو گوسالہ پرستوں کا استاد تھا یہی وجہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پہلے دن بھی اسی شیعہ کو لفظ مجرمین میں شمار کیا پھر دوسرے دن تو اس کی نسبت صاف صاف (قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَىَّ فَلَنۡ اَكُوۡنَ ظَهِيۡرًا لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ‏ 

(سورۃ القصص: آیت 17)

ترجمہ: حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا اے رب جیسا تو نے مجھ پر فضل کیا پھر میں کبھی گنہگاروں کا مددگار نہ ہوں گا یعنی ایک مفسد بدکار کی مدد کر کے ایک جان کو ضائع کیا ہے پھر ایسا کبھی نہ کروں گا۔

2: فَاَصۡبَحَ فِى الۡمَدِيۡنَةِ خَآئِفًا يَّتَرَقَّبُ فَاِذَا الَّذِى اسۡتَـنۡصَرَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهٗ‌ قَالَ لَهٗ مُوۡسٰٓى اِنَّكَ لَـغَوِىٌّ مُّبِيۡنٌ 

(سورۃ القصص: آیت 18)

صبح کو حضرت موسیٰ علیہ السلام اٹھا اس شہر میں گھبرایا ہوا راہ دیکھتا اچانک وہی شخص نظر آیا جس نے کل مدد مانگی تھی اس سے فریاد کرتا ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا بے شک تو صریح گمراہ ہے یہ وہی شیعہ تھا جس نے پہلے روز اشتعال دلا کر ایک آدمی مروا ڈالا دوسرے روز پھر اسی طرح چلاتا ہوا آپ کو اکسانے کے لیے آیا تو آپ نے اسے کہہ دیا ہے جاؤ تم ایک مفسد صریح گمراہ آدمی ہو۔ 12 مفسد بدخواہ بظاہر گمراہ ہے) 

پھر یہاں بھی لفظ شیعہ کا اطلاق اچھے شخص پر نہیں بلکہ برے شخص پر ہوا ہے یہ شخص حضرت موسیٰ علیہ السلام کا دوست نما دشمن منافق تھا جس کی وجہ سے آپ کو شہر چھوڑ کر مدین کی طرف بھاگ جانا پڑا بڑی صعوبات سفر برداشت کرتے ہوئے ایک نیک مرد شعیب کے ہاتھ جا کر پناہ لی کئی سال اپنے وطن سے جلا وطن رہے غرض اس آیت سے بھی شیعہ کا مدعا پورا نہیں ہوتا بلکہ ان کی تردید ہوتی ہے۔

12: وَاِنَّ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ لَاِبۡرٰهِيۡمَ‌ۘ 

(سورۃ الصافات: آیت 83)

اِذۡ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ 

(سورۃ الصافات: آیت 84)

اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَاذَا تَعۡبُدُوۡنَ‌

(سورۃ الصافات: آیت 85)

ترجمہ: یعنی اس کے گروہ میں تھا ابراہیم جبکہ آیا رب اپنے کی طرف سے سلامت دل لے کر۔

شیعہ کہتے ہیں یہاں شیعہ کا لفظ ابراہیم علیہ السلام پیغمبر پر اطلاق ہوا ہے اور ابراہیم شیعہ تھے لیکن یہ بھی ان کی خوش فہمی اور قرآن دانی کا نتیجہ ہے معنیٰ آیت کا یہ ہے کہ ابراہیم کا تولد قوم شیعہ کفار میں ہوا جس سے نکل کر آپ اپنے رب کی طرف صاف صاف دل ہو کر آئے اسے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ خود شیعہ تھے بلکہ مطلب یہ ہے کہ قومِ شیعہ یعنی اس قوم سے نکل کر آپ ہدایت یافتہ ہو کر اپنے رب کے پاس آگئے جو نوح علیہ السلام کے مخالف گمراہ قوم چلی آتی تھی اور نوح علیہ السلام کے وعظ و نصیحت سے ان کو کچھ اثر نہ ہوا تھا یہ اس آیت کی تصدیق ہے جس کا مضمون ہے کہ اے رسول تجھ سے پہلے اگلے شیعوں میں بھی ہم رسول بھیج چکے ہیں جو پیغمبروں کو تکلیف پہنچاتے تھے یہ دونوں آیات بھی پہلی آیات کی طرح شیعوں کے مخالف ہیں ہاں ان کی سمجھ کا فرق ہے۔

ہرگز نہ ہوئے مغز سخن سے آگاہ 

لا حول ولا قوۃ الا باللہ! 

شیعہ یہ بھی کہتے ہیں کہ سنیوں کا قرآن میں کہیں ذکر نہیں اس لیے ہم لفظ سنت کو قرآن میں تلاش کرتے ہیں۔

قرآن میں لفظ سنت کی تعریف

1: سُنَّةَ اللّٰهِ فِى الَّذِيۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلُ وَكَانَ اَمۡرُ اللّٰهِ قَدَرًا مَّقۡدُوۡرَا 

(سورۃ الاحزاب: آیت 38)

عمدة البیان: جلد، 3 صفحہ، 64 میں ہے کہ سنت طریقہ اللہ کا ہے جو چلا آیا ہے اگلے پیغمبروں میں

2: يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُبَيِّنَ لَـكُمۡ وَيَهۡدِيَكُمۡ سُنَنَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ وَيَتُوۡبَ عَلَيۡكُمۡ‌ الخ۔

(سورۃ النساء: آیت 26)

عمدة البیان: جلد، 1 صفحہ، 232 میں ہے کہ ہدایت کرے اللہ تم کو طریقے ان لوگوں کے جو پہلے تم سے مثل ابراہیم اور اسماعیل گزرے۔

3: سُنَّةَ مَنۡ قَدۡ اَرۡسَلۡنَا قَبۡلَكَ مِنۡ رُّسُلِنَا‌ وَلَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحۡوِيۡلًا 

(سورۃ الاسراء: آیت 77)

 سنت طریقہ ان رسولوں کا ہے جو پہلے بھیجے ہم نے اور نہ پائے گا تو میری سنت دستور میں تفاوت۔

یعنی سب رسولوں میں اسی طرح میری سنت کا طریقہ چلا آیا ہے عمدۃ البیان جلد 2 صفحہ 285 میں ہے طریقہ رکھنا ان رسولوں کا کہ تحقیق بھیجا ہم نے ان کو تجھ سے پہلے پیغمبروں سے کہ جو کوئی پیغمبروں کو جھٹلا دے تو ہم ہلاک کر دیتے ہیں اس کو اور نہ پائے گا تو اے محمدﷺ واسطے اس سنت اور طریقے ہمارے کے پھر جانا۔

4: سُنَّةَ اللّٰهِ فِى الَّذِيۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلُ وَلَنۡ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبۡدِيۡلًا 

(سورۃ الاحزاب: آیت 62)

عمدہ البیان: جلد، 3 صفحہ، 272 میں ہے یعنی سنت طریقہ اللہ کا ہے اس کو کوئی تغیر کرنے والا نہیں ہے۔

5: وَقَدۡ خَلَتۡ سُنَّةُ الۡاَوَّلِيۡنَ‏ 

(سورۃ الحجر آیت 13)

ترجمہ: گزر چکا پہلے لوگوں کا طریقہ۔

6: اِلَّاۤ اَنۡ تَاۡتِيَهُمۡ سُنَّةُ الۡاَوَّلِيۡنَ الخ۔

(سورۃ الکہف: آیت 55)

عمدہ البیان: جلد، 2 صفحہ، 288 میں ہے یعنی پہنچا ان کو طریقہ خدا کا ہلاک کرنے والا اگلوں کو۔

صفحہ 2 از 3