Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کی وفات

  علی محمد الصلابی

عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کی وفات 80ھ میں ہوئی، اس سال کو ’’عام الجُحاف‘‘ کہا جاتا ہے،

(الطبقات بتحقیق السلمی: جلد 2 صفحہ 25)

 اس لیے کہ اس سال ایسا سیلاب آیا تھا جو مکہ کی ہر چیز بہا لے گیا، وادی مکہ سے حاجیوں، لدے لدائے اونٹوں، مردوں اور عورتوں کو بہا لے گیا، کوئی انھیں بچا نہیں سکا۔ پانی ’’حجون‘‘(الحجون: مکہ کے بالائی حصہ پر ایک پہاڑ کا نام ہے۔ معجم البلدان: جلد 2 صفحہ 215) 

تک پہنچ گیا، بہت سی مخلوق ڈوب گئی، ایک روایت کے مطابق سیلاب اس قدر بڑھا کہ قریب تھا کہ خانۂ کعبہ کو ڈبو دے۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 12 صفحہ 296)

ایک دوسری روایت کے مطابق آپ کی وفات 84ھ یا 85ھ میں ہوئی، اور اس وقت آپ کی عمر اسّی سال تھی۔ ابن عبدالبر نے 80ھ میں عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کی وفات کو راجح قرار دیا ہے۔ عبدالملک بن مروانؒ کی جانب سے مدینہ کے گورنر ابان بن عثمان نے صلاۃِ جنازہ پڑھائی۔

(الاستیعاب: جلد 3 صفحہ 881)

 ان کی قبر کے پاس درج ذیل دونوں شعر لکھے گئے:

مقیم إلی أن یبعث اللّٰہ خلقہ لقاؤک لا یرجی و أنت قریب

’’تاقیامت آپ یہیں رہیں گے، قریب ہونے کے باوجود آپ سے ملاقات نہیں ہوگی۔‘‘

تزید بلی فی کل یوم و لیلۃ و تُنسی کما تبلی و أنت حبیب

(تاریخ دمشق: جلد 28 صفحہ 204)

’’ہر دن آپ کی بوسیدگی میں اضافہ ہوگا، آپ محبوب ہونے کے باوجود جیسے جیسے بوسیدہ ہوں گے بھلا دیے جائیں گے۔‘‘