شہادت امام نسائی رحمۃ اللہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

شہادت امام نسائی رحمۃ اللہ

  فیض

صفحہ 3 از 3
امام ذہبیؒ نے بغیر کسی سند کے وزیر ابن حنزابہ (جعفر بن الفضل) سے نقل کیا ہے کہ میں نے محمد بن موسیٰ (بن یعقوب بن مامون) المامونی (الہاشمی، وثقہ الذہبی فی تاریخ الاسلام) صاحب النسائی سے سنا: ابو عبدالرحمٰن النسائیؒ نے حضرت علیؓ کے خصائص (مناقب) پر جو کتاب لکھی، میں نے کچھ لوگوں کو اس کا انکار کرتے ہوئے سنا اور فضائلِ شیخین پر کتاب نہ لکھنے کا انکار کرتے ہوئے سنا تو میں نے اس بات کا ان (نسائی) سے ذکر کیا، پھر انھوں نے فرمایا: میں دمشق میں داخل ہوا، اور وہاں سیدنا علیؓ کے مخالفین بہت زیادہ تھے تو میں نے کتاب الخصائص لکھی۔ مجھے یہ امید تھی کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس کتاب کے ذریعے سے ہدایت دے گا۔ پھر اس کے بعد انہوں نے صحابہؓ کے فضائل پر کتاب لکھی تو میرے سامنے انہیں کہا گیا: آپ سیدنا معاویہؓ کے فضائل نہیں لکھتے؟ تو انھوں نے کہا: ان کے لیے میں کیا لکھوں؟ کیا وہ حدیث جس میں آیا ہے: ’’اللھم! لا تشبع بطنہ‘‘ اے اللہ! اس کے پیٹ کو سیر نہ کرنا؟ تو وہ سائل خاموش ہو گیا۔ (النبلاء: جلد 14 صفحہ 129) ۔
 یہ من گھڑت قصہ بھی بےسند ہے اور اگر کہیں ثابت بھی ہو جائے تو کسی قسم کی مارکٹائی کا اس قصے میں نام و نشان تک نہیں۔ اگر کوئی رافضی و نیم رافضی کہے کہ ان قصوں میں صحیح یا حسن سند کا ہونا ضروری نہیں تو عرض ہے کہ یہ اصول غلط ہے۔
فقیر کہتا ہے کہ یہ جھوٹی روایت ہے، چھپے رافضی اور کھلے رافضی خود کہتے ہیں کہ تاریخ کی جھوٹی روایات کھوٹے سکوں کی مانند ہیں تو ہم پوچھتے ہیں کہ یہ کھوٹے سکے آپ کیوں بیان کرتے ہیں؟ 
ہم پہلے بھی کئی بار بیان کر چکے ہیں کہ امام نسائیؒ کی شہادت کا واقعہ ثابت نہیں ہے پھر چھپے رافضی اور کھلے رافضیوں نے ایک ڈھونگ بنانے کی کوشش کی اور کہا کہ ”ان کی شہادت کا واقعہ تو تواتر کے ساتھ ساری کتابوں میں نقل ہو رہا ہے۔
واہ چھپے رافضیوں اور کھلے رافضیو! ہم نے اس پر ایک مضمون لکھا تھا ”ضعیف روایات اور متواتر کا ڈھونگ” اس میں ہم نے بتایا تھا کہ جو روایت ضعیف ہو اور وہ چھپے رافضی اور کھلے رافضیوں کے حق میں ہو اس کو کہہ دیتے ہیں کہ یہ متواتر ہو گئی ہےاور کچھ روایتیں بہت ساری کتابوں میں موجود ہوتی ہیں لیکن ان کو ماننا نہیں ہوتا تو صاف انکار کر دیتے ہیں۔
ہم نے اس وقت بھی پوچھا تھا کہ اگر آپ اسے متواتر کہتے ہیں تو متواتر کی شرطیں کیا ہیں؟ متواتر تو تب ہو گی جب اس کو ہر دور میں اتنی بڑی تعداد بیان کرے کہ ان کا جھوٹ پر اکٹھا ہونا ناممکن ہو۔
چھپے رافضی اور کھلے رافضیو سب کو چھوڑیں، چھپے رافضیو اور کھلے رافضیو صرف سات ثقہ ایسے بندے پیش کر دیں جو امام نسائیؒ کی شہادت کے دور میں اس واقعہ کو بیان کرتے ہوں، سات کو چھوڑیں چھپے رافضی اور کھلے رافضیو صر ف تین بندے ہی پیش کر دو جو اس واقعہ کو امام نسائیؒ کی شہادت کے دور میں بیان کرتے ہوں، تین کو بھی چھوڑیں، چھپے رافضی اور کھلے رافضیو! صرف دو بندے ہی ایسے پیش کر دو جو امام نسائیؒ کی شہادت کے دور میں اس واقعہ کو بیان کرتے ہوں، تاقیامت اس کا جواب دینا چھپے رافضیوں اور کھلے رافضیوں پر فرض بھی ہے اور قرض بھی، ہم چھپے رافضیوں اور کھلے رافضیوں کو چیلنج کرتے ہیں کہ آپ اس واقعہ میں متواتر کی شرطیں ثابت کریں یا پھر اس کے ضعیف ہونے پر علی الاعلان توبہ کریں اور اس سے رجوع کریں، اللہ آپ لوگوں کو توفیق عطا فرمائے۔



صفحہ 3 از 3