شہادت امام نسائی رحمۃ اللہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

شہادت امام نسائی رحمۃ اللہ

  فیض

صفحہ 2 از 3
امام نسائی یعنی ابو عبدالرحمٰن احمد بن شعیب بن علی بن سنان بن بحر النسائی رحمۃ اللہ علیہ (م303ھ) کا شمار حدیث کے مشہور اماموں علیہم الرحمہ میں ہوتا ہے اور ان کی کتاب: ’’سنن نسائی‘‘ کتب ستہ میں شامل ہے۔ امام نسائیؒ کے بارے میں عوام و خواص میں یہ قصہ مشہور ہے کہ انہیں شام کے ناصبیوں نے بہت مارا تھا اور وہ اسی مار کی وجہ سے شہید ہو گئے تھے۔
اس من گھڑت قصے کی روایات کا مختصر اور جامع جائزہ درج ذیل ہے:
حاکم نیشا پوری نے فرمایا:
فحدثني محمد بن إسحاق الأصبھاني قال: سمعت مشایخنا بمصر یذکرون أن أبا عبدالرحمٰن فارق مصر في آخر عمرہ و خرج إلٰی دمشق فسئل بھا عن معاویۃ بن أبي سفیان و ما روي في فضائلہ فقال: لا یرضی معاویۃ رأسًا برأس حتی یفضل؟ قال: فمازالوا یدفعون في حضنیہ حتی أخرج من المسجد ثم حمل إلٰی مکۃ و مات بھا سنۃ ثلاث و ثلاثمائۃ وھو مدفون بمکۃ۔
ترجمہ : پس مجھ سے محمد بن اسحاق (بن محمد بن یحییٰ بن مندہ) الاصبہانی نے بیان کیا: میں نے مصر میں اپنے استادوں کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ ابو عبدالرحمٰن (النسائی) نے آخری عمر میں مصر کو الوداع کہا اور دمشق کی طرف چلے گئے تو وہاں اُن سے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے بارے میں پوچھا گیا اور ان کے فضائل کی روایات کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا: کیا معاویہ اس پر راضی نہیں کہ ان کا معاملہ برابر برابر ہو جائے؟ چہ جائیکہ انھیں فضیلت دی جائے؟ کہا: لوگ انھیں سینے (یا خصیوں) پر مارتے رہے حتیٰ کہ وہ مسجد سے نکال دیئے گئے پھر انہیں اٹھا کر مکہ لے جایا گیا اور وہ وہیں 303 ھجری میں فوت ہوئے اور مکہ میں دفن ہوئے۔ (معرفۃ علوم الحدیث للحاکم صفحہ 83 حاشیہ 182، و عنہ ابن نقطۃ فی التقیید: جلد 1 صفحہ 154)
اس روایت کی سند میں ’’مشائخنا‘‘ سارے مشائخ مجہول ہیں، لہٰذا یہ سند ضعیف ہے اور اس پر حافظ ابن عساکر کا حاشیہ۔ تہذیب الکمال: جلد 1 صفحہ 45) بےفائدہ ہے۔
اس روایت کو حافظ ذہبی نے بغیر کسی سند کے ابن مندہ عن حمزہ العقبی المصری وغیرہ سے نقل کیا ہے۔ (سیر اعلام النبلاء: 14 صفحہ 132) یہ روایت بےسند ہونے کی وجہ سے مردود ہے)
کہا جاتا ہے کہ حاکم نے امام ابو الحسن علی بن عمر الدارقطنی رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کیا:
کان أبو عبدالرحمٰن أفقہ مشایخ مصر في عصرہ و أعرفھم بالصحیح والسقیم من الآثار و أعلمھم بالرجال فلما بلغ ھذا المبلغ حسدوہ فخرج إلی الرملۃ فسئل عن فضائل معاویۃ فأمسک عنہ فضربوہ فی الجامع فقال: أخرجوني إلٰی مکۃ فأخرجوہ إلٰی مکۃ وھو علیل و توفي بھا مقتولاً شھیدًا۔
ترجمہ: ابو عبدالرحمٰن النسائی اپنے دور کے اساتذۂ مصر میں سب سے بڑے فقیہ، صحیح اور ضعیف روایات کو سب سے زیادہ جاننے والے اور اسماء الرجال کے سب سے بڑے ماہر تھے، پھر جب وہ اس مقام پر پہنچے تو لوگوں نے ان سے حسد کیا، پھر وہ رملہ تشریف لے گئے تو ان سے سیدنا معاویہؓ کے فضائل کے بارے میں پوچھا گیا تو وہ چپ رہے پھر لوگوں نے انہیں جامع مسجد میں مارا تو آپ نے فرمایا: مجھے مکہ لے جاؤ ۔ پھر وہ آپ کو مکہ لے گئے اور آپ بیمار تھے اور مکہ میں شہادت نصیب ہوئی۔
(تہذہب الکمال للمزی: جلد 1 صفحہ 45)
(واختصرہ الذہبی فی سیر اعلام النبلاء: 14 صفحہ 133)
اگر یہ روایت حاکم یا امام دارقطنی سے باسند صحیح ثابت ہو جائے تو عرض ہے کہ امام دارقطنی 306 ھ یا 305 ھ میں پیدا ہوئے تھے اور امام نسائیؒ 303ھ میں فوت ہو گئے تھے لہٰذا یہ روایت منقطع و مردود ہے۔
یہ وہ روایات ہیں جنہیں رافضی اور اُن کے دلاّل نیم رافضی مزے لے لے کر بیان کرتے ہیں۔
مثلاً شاہ عبد العزیز دہلویؒ نے امام نسائیؒ کے بارے میں لکھا ہے: ان کی موت کا واقعہ یہ ہے کہ جب آپ مناقب مرتضوی (کتاب الخصائص) کی تصنیف سے فارغ ہوئے تو انہوں نے چاہا کہ اس کتاب کو دمشق کی جامع مسجد میں پڑھ کر سنائیں تاکہ بنی امیہ کی سلطنت کے اثر سے عوام میں ناصبیت کی طرف جو رجحان پیدا ہو گیا تھا اس کی اصلاح ہو جائے، ابھی اس کا تھوڑا سا حصہ ہی پڑھنے پائے تھے کہ ایک شخص نے پوچھا: امیر المؤمنین معاویہؓ کے مناقب کے متعلق بھی آپ نے کچھ لکھا ہے؟ تو نسائی نے جواب دیا کہ معاویہؓ کے لیے یہی کافی ہے کہ برابر برابر چھوٹ جائیں، ان کے مناقب کہاں ہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ کلمہ بھی کہا تھا کہ مجھے ان کے مناقب میں سوائے اس حدیث ’لاَ اَشْبَعَ اللہُ بَطنَہ کے اور کوئی صحیح حدیث نہیں ملی۔ پھر کیا تھا، لوگ ان پر ٹوٹ پڑے اور شیعہ شیعہ کہہ کر مارنا پیٹنا شروع کیا۔ ان کے خصیتین میں چند شدید ضربیں ایسی پہنچیں کہ نیم جان ہو گئے خادم انھیں اٹھا کر گھر لے آئے۔ پھر فرمایا کہ مجھے ابھی مکہ معظمہ پہنچا دو تاکہ میرا انتقال مکہ یا اس کے راستے میں ہو۔ کہتے ہیں کہ آپ کی وفات مکہ معظمہ پہنچنے پر ہوئی اور وہاں صفا و مروہ کے درمیان دفن کئے گئے۔ بعض کا قول یہ بھی ہے کہ مکہ جاتے ہوئے راستہ میں رملہ (فلسطین) میں انتقال ہوا۔ پھر وہاں سے آپ کی نعش مکہ معظمہ پہنچائی گئی۔ (بستان المحدثین: صفحہ 267۔268)
یہ سارا بیان زیبِ داستان ہے اور باسند صحیح ہرگز ثابت نہیں۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ امام نسائی کی وفات کہاں ہوئی تھی؟
تو اس کا جواب یہ ہے کہ امام نسائیؒ کے شاگرد ابن یونس المصری (مورخ) نے لکھا ہے:
وکان خروجہ من مصر في ذی القعدۃ سنۃ اثنتین و ثلاثمائۃ و توفي بفلسطین یوم الاثنین لثلاث عشرۃ خلت من صفر سنۃ ثلاث و ثلاثمائ۔
آپ رحمۃاللہ علیہ ذوالقعدہ 302ھ کو مصر سے روانہ ہوئے اور 13صفر 303ھ بروز سوموار فوت ہوئے ۔ (سیر اعلام النبلاء: 14 صفحہ 133، المستفاد من ذیل تاریخ بغداد: جلد 19 صفحہ 49، تاریخ ابن یونس المصری: جلد 2 صفحہ 24  55)
 امام ذہبیؒ نے اس قول کو ’’أصح‘‘ قرار دیا ہے۔ (النبلاء: جلد 14 صفحہ 133)
سوال یہ ہے کہ امام نسائیؒ کے شاگرد اور مورخِ تاریخ مصر نے اتنے اہم واقعے کا ذکر کیوں نہیں کیا (بشرطیکہ) اگر ایسا کوئی واقعہ رونما ہوا تھا؟
صفحہ 2 از 3