شہادت امام نسائی رحمۃ اللہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

شہادت امام نسائی رحمۃ اللہ

  فیض

صفحہ 1 از 3
امام نسائی رحمۃاللہ علیہ اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ
محترم قارئینِ کرام: رافضی اور اُن کے دلاّل نیم رافضی بغضِ حضرت امیر معاویہؓ میں اتنے اندھے ہوگئے ہیں کہ انہیں دن میں سورج نظر نہیں آ رہا ایک پوسٹ رافضی اور اُن کے دلاّل نیم رافضیوں کی دیکھنے میں آئی۔ حضرت امام نسائیؒ کی کتاب میں یہ رافضی اور اُن کے دلاّل نیم رافضی حضرت شاہ عبدالعزیز دہلویؒ کا حوالہ دے رہا ہے جبکہ امام نسائیؒ کا زمانہ اور شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ کے زمانے میں کم و بیش ایک ہزار سال کا فرق ہے۔ حضرت امام نسائیؒ کی ولادت 215 ہجری میں اور وفات 303 ہجری میں ہوئی اور حضرت شاہ عبدالعزیز دہلویؒ کی ولادت 1159 ہجری اور وفات 1239 ہجری میں ہوئی نہ جانے رافضیوں اور اُن کے دلاّل نیم رافضیوں کو امام نسائیؒ کی کتاب سے شاہ عبدالعزیز دہلویؒ کا حوالہ کیسے مل گیا کہنا پڑے گا یہ بھی رافضیوں اور اُن کے دلاّل نیم رافضیوں کی مکاریاں ہیں جو عوامِ اہل سنت کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں جب حضرت امام نسائیؒ کی بات آ ہی گئی ہے تو حضرت امام نسائیؒ کا حضرت امیر معاویہؓ کے تعلق سے عقیدہ بھی ملاحظہ کر لیجیے۔ حضرت امام المزیؒ حضرت امام نسائیؒ کا قول نقل فرماتے ہیں: 
سئل أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ النَّسَائي عَنْ معاوية بْن أَبي سفيان صاحب رَسُول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَقَالَ: إنما الإسلام كدار لها باب، فباب الإسلام الصحابة، فمن آذى الصحابة إنما أراد الإسلام، كمن نقر الباب إنما يريد دخول الدار، قال: فمن أراد معاوية فإنما أراد الصحابة
ترجمہ: حضرت ابوعبدالرحمٰن المعروف امام نسائیؒ سے سیدنا معاویہ بن سفیان صحابی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (رضی اللہ عنہما) کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: اسلام گویا ایک گھر ہے جس کے دروازے ہیں اسلام کے دروازے صحابہ رضی اللہ عنہم ہیں پس جس نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو اذیت دی گویا اس نے اسلام کو اذیت دینے کا ارادہ کیا کیونکہ جو دروازہ توڑنا چاہتا ہے وہ گھر میں داخل ہونا چاہتا ہے پس جو سیدنا معاویہؓ کے درپے ہوتا ہے تو وہ جمیع صحابہ رضی اللہ عنہم کے درپے ہوتا ہے۔ 
(تہذیب الکمال: جلد 1 صفحہ 339، 349 مؤسسۃ الرسالہ)
حضرت امام نسائیؒ نے بھی رافضیوں اور اُن کے دلاّل نیم رافضیوں کے منہ پر جوتا لگایا ہے۔ لہٰذا رافضیوں اور اُن کے دلاّل نیم رافضیوں کو اب امام نسائیؒ کے حوالے سے غلط بیانی کرنے سے باز آجانا چاہیے اور کسی گندی نالی میں ڈوب کر مر جانا چاہیے۔
معلوم ہوا صحابیِ رسولﷺ سیدنا امیر معاویہؓ سے سوء اعتقاد رکھنے والا صرف حضرت سیدنا امیر معاویہؓ ہی کی تنقیص پر نہیں رکتا ہے بلکہ وہ جمیع اصحابِ نبوی رضی اللہ عنہم پر تبراء سے بھی پھر باز نہیں آتا ہے جس کا بالکل آج کل مشاہدہ ہو رہا ہے۔
یہ بھی معلوم ہوا امام نسائیؒ سیدنا امیر معاویہؓ سے عقیدت رکھتے تھے۔ امام نسائیؒ کے واقعہ سے غلط مفہوم گھڑ کر جو حضرت سیدنا امیر معاویہؓ کی تنقیص کرتے ہیں وہ امام نسائیؒ کے اس قول کو آنکھیں کھول کر پڑھیں شائد اگر ضمیر زندہ ہو تو توبہ رجوع کی توفیق مل جائے اللہ تعالیٰ ہم سب کو آل و اصحاب کا ادب نصیب فرمائے آمین۔
حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور امام نسائیؒ کی شہادت کی جھوٹی داستان
محترم قارئینِ کرام: بعض لوگ حضرت سیدنا امیر معاویہؓ کی فضیلت کا انکار کرنے کےلیے امام نسائیؒ کی شہادت کے قصے سے دلیل لیتے ہیں، جس میں مذکور ہے کہ امام نسائیؒ نے سیدنا امیر معاویہؓ کی فضیلت کی نفی کی لیکن یہ واقعہ باسند صحیح ثابت نہیں اس کی سند میں مجہول اور غیر معتبر راوی موجود ہیں لہٰذا ایسی بےسروپا روایات کا کوئی اعتبار نہیں۔ نبی کریمﷺ سے حضرت سیدنا امیر معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما کی فضیلت میں کچھ بھی ثابت نہیں۔
 (تاريخ دمشق لابن عساكر: جلد 59 صفحہ 105، سير أعلام النبلاء للذهبي: جلد 3 صفحہ 132)
اس بات کو ذکر کرنے کے بعد حافظ جمال الدین مزیؒ لکھتے ہیں یہ بات امام نسائیؒ کی سیدنا امیر معاویہؓ کے متعلق سوءِ اعتقاد پر دلالت نہیں کرتی بلکہ ان کے متعلق برائی سے روکنے پر دلالت کرتی ہے۔
یہ قول ثابت نہیں ہو سکا کیونکہ اس کی سند میں ابوالعباس اصم کے والد یعقوب بن یوسف بن معقل، ابوفضل، نیشا پوری کی توثیق نہیں ملی۔ بعض کتب میں اس سند سے ابوالعباس اصم کے والد کا واسطہ گر گیا ہے۔
 سیدنا امیر معاویہؓ کے فضائل کا انکار کرنے کے لیے چھپے رافضی اور کھلے رافضی جھوٹ اور ہٹ دھرمی دیکھاتے ہیں اور انہیں ہم بار بار بتا چکے ہیں کہ جو روایات آپ لوگ پیش کر رہے ہیں وہ بےسند ہیں۔ ضعیف ہیں۔ اگر ثابت بھی ہیں تو ان کا وہ مطلب نہیں ہے جو آپ لوگ نکالنا چاہتے ہیں لیکن چھپے رافضی اور کھلے رافضیوں کی ہٹ دھرمی کی انتہاء ہے کہ وہی بےسند روایات بار بار بیان کرتے ہیں جیسا کہ: امام نسائیؒ کی شہادت کی جھوٹی داستان، چھپے رافضی اور کھلے رافضی کہتے ہیں کہ: امام نسائیؒ دمشق میں گئے وہاں لوگ تین سو سال گزرنے کے بعد منبروں پر سیدنا علیؓ کو بُرا بھلا کہتے تھے، امام نسائیؒ کو بڑا غصہ آیا، انہوں نے ارادہ کیا کہ میں حضرت علیؓ کے فضائل پر کتاب لکھوں تو وہاں لوگوں نے کہا کہ حضرت سیدنا امیر معاویہؓ کی فضیلت میں بھی کوئی حدیث بیان کریں تو انہوں نے میرے والی بات کہ میری زبان بند ہی رہنے دو تو وہاں کے لوگوں نے اصرار کیا کہ آپ بتائیں تو امام صاحب نے فرمایا کہ اللہ معاویہ کو صحابی ہونے کی وجہ سے چھوڑ دے تو تمہارے لیے کافی نہیں؟ اور پھر کہا کہ مجھے تو معاویہ کے بارے میں صرف ایک صحیح حدیث کا پتہ ہے جو صحیح مسلم میں موجود ہے کہ اللہ معاویہ کا پیٹ نہ بھرے، پس اتنی بات تھی کہ ناصبی ان پر ٹوٹ پڑے اور ان کو اتنا مارا کہ ان کی شرمگاہ پر بھی زخم بن گئے حتیٰ کہ وہ قریب المرگ ہو گئے پھر ان کو ان کی خواہش کے مطابق مکہ لے کر جایا گیا اور وہاں ہی ان کو دفن کر دیا گیا ۔
صفحہ 1 از 3