گیارہواں طعن
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہعمرؓ نے ایک حاملہ عورت کو بجرم زنا سنگساری کا حکم دیا تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا انا کان لک علیہا سبیل لیس لک مافی بطنہا سبیل (اگرچہ تجھے اس کی ذات پر حکم دینے کا حق ہے لیکن اس کے بچہ و شکم کو سزا دینے کا اختیار نہیں ہے) حضرت عمرؓ نے حضرت علیؓ کی اس اطلاع پر سزا ملتوی کر دی اور کہا۔ لولا علی لھلک عمر (اگر علی نہ ہوتا تو عمر ہلاک ہو گیا ہوتا) جب وہ دینی مسائل سے جاہل تھے۔ تو خلافت کا استحقاق کس طرح رکھتے تھے؟
جواب: بات یہ ہے کہ عورت محصنہ پر جرم زنا ثابت ہو گیا تھا، جس کی سزا رجم ہے۔ اس کے حمل کا حضرت علیؓ کو کسی وجہ سے علم تھا۔ لیکن حضرت عمرؓ کو یہ معلوم نہ تھا۔ کیونکہ پیٹ کی بات (حمل) کا حال جب تک زیادہ مدت نہ گزر جائے سوائے خدائے علیم کے کسی کو معلوم نہیں ہو سکتا۔ جب حضرت علیؓ نے بتا دیا کہ یہ حاملہ ہے۔ تو آپ نے سزا ملتوی کر کے حضرت علیؓ کی اس اطلاع دہی کا شکریہ ان الفاظ سے ادا کیا کہ آج اگر علیؓ حمل کی مجھے اطلاع نہ دیتے اور سزا نافذ ہو جاتی تو بچہ پر اس کا اثر پڑتا۔ وہ مر جاتا اور مجھے جب اس بات کا بعد میں علم ہوتا مجھے اس قدر رنج و غم ہوتا گویا میری ہلاکت کا باعث ہوتا۔“
نادان معترض کو یہ معلوم نہیں ہے کہ اس سے سیدنا فاروقِ اعظمؓ کی صاف باطنی و خشیت الٰہی اور بے نفسی کا ثبوت ملتا ہے۔ اور اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت علیؓ سے ہرگز کچھ کدورت نہ تھی۔ وہ آپ کو نیک مشورہ دیتے۔ آپ قبول کر کے ان کا شکریہ ادا کرتے تھے۔ اگر فی ما بین عداوت و دشمنی ہوتی تو ایسے واقعات پیش نہ آتے ۔