Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اللہ کی قسم اگر اللہ نے ہم سے اخروی نعمتوں کا وعدہ کیا ہے تو آپ نے دنیوی نعمت کو پہلے پیش کردیا ہے

  علی محمد الصلابی

محمد بن عبید اللہ بن ابوملیکہ سے مروی ہے، وہ اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا: ابن ابی عمار (جو ان دنوں اہل حجاز کے فقیہ تھے) ایک غلام فروش کے پاس گئے، اس سے ایک لونڈی دکھانے کے لیے کہا، چنانچہ انھیں ان کے پاس موجود قیمت سے زیادہ قیمتی ایک لونڈی دکھائی، وہ بہت خوبصورت تھی، اس پر فدا ہو گئے، ان کی حالت کافی دگرگوں ہو گئی، غلام فروش اسے تاڑ گیا، چنانچہ خوب زیادہ قیمت بتائی، وہ اس کی یاد میں پاگل ہو گئے، عطاء، طاؤس اور مجاہد ان کے پاس جا کر ملامت کرنے لگے تو جواباً انھوں نے کہا:

یلومنی فیک أقوام أجالسہم فما أبالی أطار اللوم أم وقعا

’’تمھارے بارے میں میری ملامت وہ لوگ کرتے ہیں جن کے ساتھ میں اٹھتا بیٹھتا ہوں، مجھے ملامت کی کوئی پروا نہیں۔‘‘

کہتے ہیں اس کی خبر عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کو پہنچی، انھوں نے لونڈی کے آقا کو بلا بھیجا، اس سے اس لونڈی کو چالیس ہزار درہم میں خرید لیا، اپنی لونڈیوں کی ذمہ دار کو حکم دیا کہ اس کا بناؤ سنگار کر دے، زیورات پہنا دے، اس نے ایسا کیا، آپ مدینہ آئے، لوگ آپ سے ملنے آتے رہے، اہل حجاز کے اکثر لوگ آئے، آپ نے کہا: کیا بات ہے میں ملاقاتیوں میں ابن ابی عمارہ کو نہیں دیکھ رہا ہو؟ اس کی خبر انھیں دی گئی، چنانچہ آپ کے پاس آئے، جب جانے کا ارادہ کیا تو انھیں بیٹھا کر کہا: فلاں سے تمھاری محبت نے کیا اثر کیا ہے؟ کہا: اس کی محبت گوشت پوست، ہڈی و خون، دل و دماغ، رگ و ریشہ میں سرایت کر گئی ہے، پھر ان سے پوچھا: کیا دیکھ کر اسے پہچان جاؤ گے؟ کہا: میں آپ پر قربان جاؤں، جب جب تصور کرتا ہوں،اس کا سراپا میری آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے، آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم جب سے میں اس کا مالک ہوا ہوں، اس کو دیکھا نہیں، اے لونڈی اسے نکال، چنانچہ بہترین لباس اور زیورات زیب تن کیے ہوئے نکلی تو پوچھا: کیا وہ یہی ہے؟ تو وہ کہنے لگے:

ہی التی ہام قلبی من تذکرہا و النفس مشغولۃ أیضا بذکراہا

’’یہی ہے جس کی یاد میں میرا دل دیوانہ ہے، اس کی یاد جان و دل پر چھائی ہوئی ہے۔‘‘

آپ نے کہا: تمھارا معاملہ اس کے ساتھ ہے، اس کو لے جاؤ، اللہ تعالیٰ تمھیں اس میں برکت عطا کرے،

انھوں نے کہا: میں آپ پر قربان جاؤں، آپ نے ایسی چیز دے دی جس کے دیے جانے کی اللہ کے علاوہ کسی اور سے امید نہیں تھی، جب اسے لے کر وہ جانے لگے تو کہا: اے غلام! اس کے ساتھ ایک لاکھ درہم بھی دے دو، تاکہ دونوں میں سے کسی کو دوسرے سے کوئی دکھ نہ پہنچے، یہ سن کر ابن ابی عمار کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو چھلک پڑے، پھر یہ آیت پڑھی:

اَللّٰهُ اَعۡلَمُ حَيۡثُ يَجۡعَلُ رِسٰلَـتَهٗ‌۞ (سور الأنعام آیت 124)

ترجمہ: (حالانکہ) اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ اپنی پیغمبری کس کو سپرد کرے۔ 

اللہ کی قسم میں آپ پر قربان جاؤں اگر اللہ نے ہم سے اخروی نعمتوں کا وعدہ کیا ہے تو آپ نے دنیوی نعمت کو پہلے پیش کر دیا ہے۔

(تاریخ دمشق: جلد 29 صفحہ 195)