آٹھواں طعن - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

آٹھواں طعن

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

صفحہ 2 از 3

”حمران بن اعین امام محمد باقر کے گھر گیا جب اٹھنے لگا تو کہا کہ اے امام! خدا آپ کی عمر دراز کرے اور ہمیں آپ کی ذات سے نفع بخشے۔ ہم آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ کی خدمت سے اٹھتے وقت ہمارے دل بڑے نرم ہوئے ہوتے ہیں اور دلوں کو دنیا سے کتنا تعلق ہو جاتا ہے اور مال و متاع دنیا کو ہم حقیر سمجھتے ہیں جب آپ کے پاس سے نکل کر لوگوں اور بیو پاریوں سے ملتے ہیں پھر ہمیں مال دنیا سے محبت ہو جاتی ہے۔ امام باقر نے فرمایا دل کبھی سخت ہو جاتے ہیں اور کبھی نرم، پھر کہا اصحابِؓ رسولﷺ کہتے تھے یا رسول اللہ ہمیں اپنے منافق ہو جانے کا اندیشہ ہے آپ نے فرمایا، کیوں اصحاب نے کہا جب آپ کی خدمت میں ہوتے ہیں اور آپ ہمیں پند و نصیحت کرتے ہیں ترغیب و ترہیب کرتے ہیں، ہم ڈر جاتے ہیں اور دنیا بھول جاتے ہیں حتیٰ کہ اپنی آنکھوں سے آخرت اور بہشت اور دوزخ کو دیکھ لیتے ہیں، پھر جب آپ سے اٹھ کر نکلتے ہیں اور گھروں میں داخل ہوتے ہیں اور اولاد کو پیار کرتے ہیں اور اہل و عیال کو دیکھتے ہیں تو یہ حالت ہو جاتی ہے کہ گویا ہماری وہ حالت جو آپ کے حضور میں ہوتی ہے تبدیل ہونے کو ہے کیا آپ ہم پر نفاق کا اندیشہ کرتے ہیں؟ حضورﷺ نے فرمایا ہرگز نہیں، یہ شیطانی وسوسے ہیں جو تمہیں دنیا کی رغبت دیتے ہیں، بخدا اگر تم اس حالت پر نہ ہو جو تم نے ذکر کیا ہے تو آسمان کے فرشتے تم سے مصافحہ کرے اور تم پانی پر چلنے لگو۔

دوسری حدیث کتاب مذکور کے صفحہ 574 میں ہے: 

عن حمران انا ابي جعفر عليه السلام قال ان رجلا اتى رسول اللہﷺ فقال يا رسول اللہ اني نافقت فقال واللہ نافقت ولو نافقت ما ايتنی فعلمني ما الذي رابك الظن العدو الحاضر اتك فقال لك من خلقك فقلت اللہ خلقني فقال من خلق اللہ فقال اي والذي بعثك بالحق لكان كذا فقال ان الشيطان اتاكم من قبل الاعمال فلم يقوا عليكم فاتكم من هذا الوجه لك يستزلكم فاذا كان كذلك فليذكر احدكم اللہ وحده 

”حمران روایت کرتا ہے امام باقر سے، ایک شخص ان آنحضرتﷺ کی خدمت میں آیا اور کہا، حضورﷺ میں نے نفاق کیا ہے آپ نے فرمایا ”خدا کی قسم تو نے نفاق نہیں کیا اور اگر تو نفاق کرتا تو میرے پاس نہ آتا پھر فرمایا بتا کس چیز نے تجھ کو شک میں ڈالا ہے؟ میں گمان کرتا ہوں کہ شیطان تیرے پاس آیا ہے اور تجھے کہا ہے کہ کس نے تجھے پیدا کیا ہے۔ اور تو نے کہا، خدا نے پھر کہا خدا کو کس نے پیدا کیا ہے۔ وہ شخص کہنے لگا بخدا حضورﷺ اور یہی بات ہے آپ نے فرمایا شیطان نے اعمال کے بارے میں تم ایک گمراہ کرنا چاہا تو اس بات پر قادر نہیں ہو سکا پھر اس نے یہ طریق اختیار کیا ہے تاکہ تمہیں لغزش دے جب ایسا ہو تو تم خدائے وحدہ کا ذکر کیا کرو تاکہ شیطان رفع ہو جائے۔“

ان دو احادیث نے جو شیعہ کی مستند کتاب اصولِ کافی سے با روایت ائمہ اہلِ بیت مذکور ہیں، حدیث حنظلہؓ کی تشریح کر دی ہے، جن کا مضمون بعینہٖ وہی ہے بلکہ اس سے بھی کچھ زائد ہے کہ اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین کمال خوفِ الہٰی سے ذرا ذرا باتوں سے کانپ جاتے تھے اور آنحضرتﷺ کہ حضور میں حاضر ہو کر استفسار کیا کرتے تھے کہ ایسے وسوسوں سے ہماری ایمانی حالت میں کچھ خلل تو نہیں آ جاتا۔ حضورﷺ ان کی تشفی فرمایا کرتے تھے کہ خدا کی قسم تمہاری ایمانی حالت میں ان باتوں سے تغیر نہیں ہوتا۔ اور جن کے ایمان میں کچھ خلل ہو ان کو ہماری سرکار میں آنے اور استفسار کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ یہ معمولی شیطان کی حرکات ہیں جو ایک ڈاکو چور کی طرح تمہارے خزانہ ایمان کو غارت کرنا چاہتا ہے اعمال کی وجہ سے تو تم پر اس کا کوئی بس نہیں چل سکتا کہ تمہیں پھسلا سکے نا چار دلوں میں وسوسہ ڈالنے کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ لیکن ایسی خفیف حرکات سے اس کو کس طرح کامیابی ہو سکتی ہے۔ تم لوگ راسخ الایمان صالح الاعمال ہو اور یہی تمہارے کامل ایمان کی علامت ہے کہ شیطان کے ایسے حملوں کے وقت تم حصن حصین دربارِ رسالتﷺ کی پناہ لے لیتے ہو۔

 امید ہے کہ معترض کی کسی قدر تشفی ہو گئی ہوگی۔ ہاں ہم یہ بھی لکھ دیں کہ خاصانِ خدا کا یہ خاصہ ہوتا ہے کہ باوجود عدم صدور ذنب کے وہ خود کو گنہگار کہتے ہیں۔ اصولِ کافی میں صفحہ 573 میں ایک حدیث ہے کہ واللہ ان ینجر من الذنب الا من اقربہ (بخدا گناہ سے وہ شخص نجات پاتا ہے جو گناہ کا اقراری ہو) دیکھو حضرت یوسف علیہ السلام جو پیغمبر معصوم تھے کہتے ہیں مَاۤ اُبَرِّئُ نَفْسِیْ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ(میں اپنے نفس کو بری نہیں سمجھتا کیونکہ نفس بدی کی رغبت دلاتا ہے) کیا معترض اس سے یہ استدلال کیا کرے گا کہ حضرت یوسف علیہ السلام معاذ اللہ گناہ سے مبرّا نہ تھے بلکہ نفس کے تابع حُکم تھے؟ ایسا خیال کرنا ایک نبی کی نسبت کفر ہے۔ 

ہاں یہ بتاؤ کہ نبی آخر الزمانﷺ کو تو تم معصوم مانتے ہو لیکن اصول کافی صفحہ 202 میں ایک حدیث ہے:

عن ابی عبداللہ علیہ السلام قالا کان رسول اللہ یستغفر اللہ عزوجل کل یوم سبعین مرۃ 

” حضرت جعفر صادق رحمۃاللہ کا قول ہے کہ رسولﷺ دن میں 70 دفعہ اللہ سے طلبِ مغفرت کرتے تھے۔“

کیا اس سے یہ قیاس ہو سکتا ہے کہ العیاذ باللہ آپ گنہگار تھے، اس لیے طلب مغفرت فرماتے تھے۔ پھر جناب امیرؓ جن کو شیعہ معصوم سمجھتے ہیں اپنی خطاؤں کا زیل میں اقرار فرما کر طلب مغفرت کرتے ہیں:

ذنوبی بلانی فما حیلتی اذا

اذا کنت فی الحشر حما لھا

اتیتک باکیا فارھم بکائی

رجائی منک اکثر خطائی

یظن الناس بی خیر وانی

اشر الناس ان لم یعف عنی 

ترجمہ: میرے گناہ میرے لیے مصیبت ہیں، اور میرا چارہ کیا ہوگا جب کہ قیامت میں ان کا بوجھ میرے سر پر ہوگا، الٰہی تیرے حضور میں روتا ہوا آیا ہوں، میری گریۂ زاری پر رحم کیجیو، تیرے فضل کے امید میری خطا سے بڑھ کر ہے، لوگ مجھے اچھا سمجھتے ہیں اور سب سے برا ہوں اگر تو مجھے معاف نہ کرے۔“

اب بتاؤ ان اشعار سے خارجی یہ استدلال کر سکتا ہے کہ اس کی منطق کی زد اُلٹی اس کے مذہب پر اور پیشوائے مذہب حضرت علی المرتضیؓ پر پڑتی ہے، ذرا ہوش کیجیے: 

اے چشمِ اشکبار! ذرا دیکھ تو سہی

یہ گھر جو بہہ رہا ہے کہیں تیرا گھر نہ ہو 

صفحہ 2 از 3