امام بخاری رحمۃ اللہ کا مقام و مرتبہ - دفاعِ اہلِ سنت |…

امام بخاری رحمۃ اللہ کا مقام و مرتبہ

  ارشاد الحق اثری

صفحہ 2 از 2
اس داستان سرائی کا مقصد صرف یہ تھا کہ عنفوان شباب ہی میں امام بخاریؒ کی صلاحیتوں کو تسلیم کیا گیا۔ حفظِ حدیث اور معرفتِ علل و رجال میں ان کے اقوال کو قولِ فیصل کے طور پر قبول کیا گیا۔ حدیث کا شغف رکھنے والوں نے مختلف انداز میں ان کا امتحان لیا تو ہر بار وہ اس میں کامیاب ہوئے۔ اور ان کے تبحر علمی کا اعتراف کیے بغیر نہ رہ سکے۔ بلکہ ان کے فضل و کمال کا اعتراف ان کے اساتذہ کرام نے بھی کیا معاصرین نے بھی اور متاخرین نے بھی امام قتیبہ بن سعیدؒ کا شمار امام بخاریؒ کے مشہور اساتذہ میں ہوتا ہے اور وہ امام احمد، امام علی بن مدینی، امام یحییٰ بن معین، امام ابنِ ابی شیبہ، امام زہیر بن حرب، امام دارمی، امام الذہلی امام ابو زرعہ اور امام ابو حاتم رحمہم اللہ کے بھی استاذ ہیں اور امام مالکؒ امام لیثؒ وغیرہ کے شاگرد ہیں۔ امام بخاریؒ نے الجامع صحیح میں ان سے 308 احادیث روایت کی ہیں۔ یہی امام قتیبہ امام بخاریؒ کے بارے میں فرماتے ہیں۔ جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے محمد بن اسماعیل بخاریؒ جیسا کسی کو نہیں دیکھا وہ اپنے زمانہ میں ایسے تھے جیسے حضرت عمر فاروقؓ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں۔ اگر وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانہ میں ہوتے تو اللہ تعالیٰ کی ایک نشانی ہوتے۔ امام قتیبہؒ سے ایک مرتبہ یہ مسئلہ پوچھا گیا کہ نشہ کی حالت میں دی گئی طلاق کا کیا حکم ہے۔ اتفاق سے وہاں امام بخاریؒ بھی پہنچ گئے انہیں آتا دیکھ کر امام قتیبہؒ نے ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سائل سے فرمایا: 
وہ دیکھو احمد بن حنبلؒ، اسحاق بن راہویہؒ اور علی بن مدینیؒ کو اللہ تعالیٰ نے تمہارا مسئلہ حل کرنے کے لیے بھیج دیا ہے۔ ان سے مسئلہ پوچھو۔ امام قتیبہؒ ہی کا بیان ہے کہ میرے پاس علم حاصل کرنے کے لیے مشرق و مغرب سے لوگ آئے مگر محمد بن اسماعیل بخاریؒ جیسا میرے پاس کوئی نہیں آیا۔
امام بخاریؒ کے شیوخ میں ایک امام علی بن مدینی وہ استاد ہیں جن کے بارے میں خود امام بخاریؒ نے فرمایا ہے کہ ان کے علاوہ میں نے اپنے آپ کو کسی بھی صاحبِ علم کی مجلس میں چھوٹا اور حقیر نہیں پایا۔ حامد بن احمد کہتے ہیں کہ جب امام بخاریؒ کے اس قول کا ذکر امام علی بن مدینیؒ سے کیا گیا تو انہوں نے فرمایا:
"دع قوله هو ما رأى مثل نفسه"
ترجمہ: اس کی بات کو چھوڑو اس نے تو اپنے جیسا کسی کو نہیں دیکھا۔
امام اسحاق بن راہویہؒ کا شمار بھی امام بخاریؒ کے اساتذہ میں ہوتا ہے۔ یہ وہی استاد ہیں جنھوں نے امام بخاریؒ کو صحیح احادیث جمع کرنے کی ترغیب دی۔ اور انھوں نے ہی امام بخاریؒ کے بارے میں فرمایا:
"لو كان فی زمن السن البصرى لاحتاج اليه لمعرفته بالحديث وفقهه“
ترجمہ: کہ اگر یہ حسن بصریؒ کے زمانہ میں ہوتے تو معرفتِ حدیث اور فقہ کی بناء پر حسن بصریؒ ان کے محتاج ہوتے۔
امام احمدؒ سے زمانہ واقف ہے امام بخاریؒ کے وہ بھی استاد ہیں۔ فرماتے ہیں کہ خراسان کی سرزمین میں امام بخاریؒ جیسا کوئی پیدا نہیں ہوا۔ امام عبداللہ بن محمد مسندیؒ جو امام بخاریؒ کے بخارا میں ابتدائی استاد تھے 229ھ میں فوت ہوئے اور امام بخاریؒ نے الجامع الصحیح میں ان سے (44) چوالیس احادیث بیان کی ہیں۔ یہی امام مسندیؒ فرماتے ہیں محمد بن اسماعیل بخاریؒ امام ہیں جو انہیں امام نہیں مانتا اسے جھوٹا سمجھو۔ امام رجاء بن مرجیؒ محدث سمرقند فرماتے ہیں امام بخاریؒ کو لوگوں پر وہی فوقیت حاصل ہے جو مردوں کو عورتوں پر ہے وہ تو زمین پر اللہ تعالیٰ کی چلتی پھرتی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہیں۔ (ہدی الساری وغیرہ)
امام بخاریؒ کے دیگر معاصرین ان کے تلامذہ مثلاً امام مسلمؒ، امام دارمیؒ امام ترمذیؒ وغیرہ اور دیگر متاخرین کے اقوال ہدی الساری، السیر، التذکرہ، التاریخ الذہبی وغیرہ میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں حافظ ابنِ حجرؒ نے کہا ہے کہ اگر میں ان کی مدح و توصیف میں متاخرین کے اقوال کا دروازہ کھول دوں تو کاغذ ختم ہو جائیں اور عمر بھی تمام ہو جائے وہ تو ایک سمندر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں۔ 
(ہدی الساری: صفحہ، 475)

صفحہ 2 از 2