علی رضی اللہ عنہ پر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا ناراض ہونا
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہجلاء العیون اردو صفحہ 137 میں ہے کتاب ملل الشرائع و بشارت المصطفی اور مناقب خوارزمی بسند ہائے معتبر ابو ذر رضی اللہ عنہ و ابن عباس سے روایت ہے کہ جب جعفر طیار حبشہ میں تھے ان کے لیے کسی نے ایک کنیز ہدیہ بھیجی کہ اس کی قیمت چار ہزار درہم تھی اور جب جعفر طیار مدینہ میں آئے اس کنیز کو بطور ہدیہ اپنے بھائی علی بن ابی طالب کے پاس بھیجا کنیز جناب امیر رضی اللہ عنہ کی خدمت کرتی تھی ایک دن حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا گھر میں آئیں انہوں نے دیکھا کہ سر جناب امیر رضی اللہ عنہ کا اس کنیز کے دامن میں ہے۔ جب وہ حالت ملاحظہ فرمائی متغیر ہوئیں اور پوچھا آیا اس کنیز سے تم نے کوئی تعلق کیا ہے جناب امیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا بخدا سوگند میں نے اس کے ساتھ کوئی عمل نہیں کیا اب جو کچھ تمہیں منظور ہو بیان کرو کہ میں بجا لاؤں جناب سیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا مجھے میرے پدر بزرگوار کے گھر جانے کی اجازت دو جناب امیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے اجازت دی پس جناب فاطمہ نے سر پر چادر اوڑی اور اس پر برقہ ڈال کر متوجہ خانہ پدر بزرگوار ہوئیں اور قبل اس کے کہ جناب فاطمہ رضی اللہ عنہا اپنے باپ کی خدمت میں پہنچیں جبرائیل علیہ السلام آزاد جانب خداوند جلیل حاضر ہوئے اور کہا حق تعالیٰ آپ کو سلام فرماتا ہے اور ارشاد کرتا ہے کہ جناب فاطمہ تمہارے علی بن ابھی طالب کی شکایت کرنے آئی ہیں تم حق علی رضی اللہ عنہ میں کوئی چیز فاطمہ رضی اللہ عنہا سے قبول نہ کرنا جناب فاطمہ رضی اللہ عنہا داخل سرائے پدر بزرگوار ہوئیں۔ حضرت رسول اللہﷺ نے فرمایا علی رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور کہو میں تم سے راضی ہوں پس فاطمہ رضی اللہ عنہا جناب امیر رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائیں اور تین مرتبہ کہا کہ میں تم سے راضی ہوں
اس روایت سے معلوم ہوا کہ جناب سیدہ ایسی زود رنج تھیں کہ کنیز کو جناب کے پاس دیکھ کر خفا ہو گئیں اور جناب امیر کی قسم پر بھی اعتبار نہ کیا اور ناراض ہو کر میکے چلی گئیں حتیٰ کہ جبرائیلؑ کو جناب امیر رضی اللہ عنہ کی صفائی کرنے کی ضرورت پڑی اور جناب رسول کے فرمانے پر واپس بخانہ ہوئیں۔