ایک بدوی عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے گھرانے میں داخل ہوا، اس کے ایک کنارے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما تھے جو ہر سوال کا جواب دیتے تھے، اور دوسری طرف عبید اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما تھے جو ہر آنے والے کو کھانا کھلاتے تھے، چنانچہ بدوی نے کہا: جسے دنیا و آخرت کی بھلائی یکجا چاہیے وہ عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے گھرانے میں آئے، یہ فتویٰ دیتے ہیں اور لوگوں کو شریعت کے احکام سے آگاہ کرتے ہیں اور یہ کھانا کھلاتے ہیں۔
(تاریخ دمشق: جلد 39 صفحہ 356)
مصعب بن عبداللہ سے مروی ہے کہتے ہیں بعض اہل علم کا قول ہے: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما لوگوں کو خوش دلی کے ساتھ علم دیتے تھے، اور عبید اللہ رضی اللہ عنہ انھیں فراخی کے ساتھ کھانا دیتے تھے
(تاریخ دمشق: جلد 39 صفحہ 356)
اور عبید اللہ رضی اللہ عنہ (آخرت کی) تجارت کرتے تھے۔
(الإصابۃ: جلد 4 صفحہ 331)