بلااطلاع عبید اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے گھر مہمان آئے
علی محمد الصلابیمدینہ کے ایک شخص نے عبید اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو تکلیف اور نقصان پہنچانا چاہا، چنانچہ وہ مدینہ کے بڑے لوگوں کے پاس گیا اور کہا کہ عبید اللہ نے تمھیں کھانے کی دعوت دی ہے، لوگ اتنی تعداد میں آئے کہ ان کا گھر بھر گیا جب کہ عبید اللہ رضی اللہ عنہ کو کوئی خبر نہیں، انھوں نے پوچھا: کیا معاملہ ہے؟ جواب ملا کہ آپ کی جانب سے ایک شخص نے جا کر کھانے کی دعوت دی ہے، آپ کو سازش کا پتہ چل گیا، چنانچہ آپ کے حکم سے دروازہ بند کردیا گیا، بازار سے مختلف پھل مالٹا، شہد، کیلا وغیرہ منگا کر لوگوں کو اسی میں مشغول کر دیا، پھر کھانا پکانے کا حکم دیا اور جلد ہی کھانا تیار ہو گیا، ابھی پھلوں سے فارغ بھی نہ ہو پائے تھے کہ کھانا پیش کر دیا گیا، جب کھا چکے تو عبید اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا جب بھی میں چاہوں تو ایسا ہوگا؟ لوگوں نے کہا: ہاں، عبیداللہ رضہ اللہ عنہ نے فرمایا: جو بھی میرے پاس آئے مجھے اس کی پروا نہیں۔
(تاریخ دمشق: جلد 39 صفحہ 357)