اکتالیسواں مسئلہ
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہشیعہ حضرات شیخینؓ کو لعنت و تبرا کہنا اتنا بڑا ثواب سمجھتے ہیں کہ ایک دفعہ لعنت کرنے سے سات کروڑ نیکی کا درجہ ملتا اور سات کروڑ گناہ بخشے جاتے ہیں چنانچہ شیعہ کا فخر المحققین مرزا ابو الفضل اسے یوں نقل کرتا ہے۔
بالجملہ خاتمہ ایں بحث رابنقل یک حدیث درثواب لعن جبت و طاغوت کہ در عرف اہلِ بیتؓ عبارت ازتیم وعدی است وگاہ بمطابق غاصبین حقوق ثمرات زاکیہ تاویل شدہ اختصار میکنم فاضل زاہد ورع اخوند ملا محمد کاظم ہزار جریہی کہ تلامزہ استاد عالم آقائے بہبہانی قدس سرہ بودہ و خود از فضلاۓ محدیثین وعرفاۓ مخلصین است۔ در کتاب اجمع الفضائح از ابو حمزہ شمالی رضی اللہ عنہ حدیث میکند کہ وے از امام ہمام زین العابدین وسید الساجدین علیہ السلام روائت کردہ۔
قَالَ مَنْ لَعَنَ الْجِبْتَ وَاطَّاغُوْتَ لَعْنَة واحِدَة كَتَبَ اللّٰه لَهٗ سَبْعِيْن اَلْف اَلْف حَسَنَةٍ وَحَسَنَةٍ وَ وَحَىٰ عَنْهُ اَلْف اَلْف سَيِّئَةٍ وَرَفعَ لَهٗ سَبْعِيْنَ اَلْف اَلْف دَرَجَةَ وَمَنْ اَمْسىٰ يَأ مَنُهَا لَعْنَةًوٓاحِدَةًكُتِبَ مِثْلَ ذٰلِکَقَالَ مُوْلانَاعَلِيُّ بْنُ.الحْسيْنُ فَدَخَلَتُ عَلىٰ مولٰينا اَبِىْ جَعْفَر مُحَمَّدِ الْبَاقٓر فَقُلْتُ يَا مَوْلائىْ حَدِيْث سَمِعْتُهٗ مِنْ اَبِيْكَ قَالَ هَاتَ يَا شَمَالِىُّ فَاعْدتُ عَلَيْهِ الحَدِيْث قَالَ نِعْمَ يَا شَمَالِىُّ اَتُحِبُّ أَنْ اَزْدِيْكَ فَقُلْتُ بَلٰى يَا مَوْلائىْ فَقَالَ مَنْ لَعْنَهُمَا لَعْنَةً واحِدَة فِىْ كُلِّ عَداةٍ لَمْ يَكْتَب عَلَيْهِ ذنْبٌ فِىْ ذٰلِکَ الْيَوْمُ حَتّٰی يُمْسِىْ وَمَنْ اَمْسٰی وَ لَعْنَهُمَا لَمْ يُكْتَب عَلَيْهِ ذنْبٌ فِىْ لَيْلَةٍ حَتّٰی صُبِحَ قَالَ فَمَضىٰ أَبُو جَعْفَرَ فَدَخَلْتَ عَلٰى مُوْلانَا الصَّادِقِ فَقُلْتُ حَدِيْثٌ سَمِعْتُهٗ منْ اَبِيْكَ وَجَدِّكَ فَقَالَ يَا اَبَا حَمْزَةَ فَاعْدتُ عَلَيْهِ الحَدِيْثُ فَقَالَ حقاً يَا اَبَا حَمْزَةَ ثُمَّ قَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَيُرْدَفَعُ اَلْف اَلْف دَرَجَةَ ثُمَّ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ وَاسِعٌ كَرِيْمٌ۔
ترجمہ: یہ جو شخص جبت و طاغوت ابوبکرؓ عمرؓ کو ایک دفعہ لعنت کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو سات کروڑ نیکی کا ثواب دیتا ہے اور اس کے سات کروڑ گناہ معاف کرتا ہے اور اس کے سات کروڑ درجے بلند کرتا ہے جو شام کو ان دونوں پر ایک دفعہ لعنت کرے اور اسی قدر اس کو ثواب حاصل ہوتا ہے کہا جب سیدنا زین العابدینؒ گزر گئے تو میں سیدنا باقرؒ کے پاس آیا اور کہا کہ جناب میں نے ایک حدیث آپ کے والد ماجد سے سنی ہے فرمایا بتاؤ اے شمالی میں نے وہ حدیث سنائی تو فرمایا ہاں ٹھیک ہے کیا تو چاہتا ہے کہ میں مزید بتاؤں میں نے کہا ہاں ہاں حضور آپ نے فرمایا جو شخص ہر صبح کو ایک دفعہ دونوں پر لعنت کرے اس رات کو اس کا کوئی گناہ نہیں لکھا جاتا شام تک اور جو شام کو ان دونوں پر لعنت کرے اس رات کو اس کا کوئی گناہ نہیں لکھا جاتا صبح تک کہا جب محمد باقرؒ گزر گئے تو میں صادقؒ کے پاس گیا اور کہا کہ میں نے آپ کے باپ دادا سے ایک حدیث سنی ہے آپ نے فرمایا بتاؤ میں نے حدیث سنائی فرمایا بتاؤ اے ابوحمزہ میں نے حدیث سنائی فرمایا بالکل درست ہے پھر فرمایا اس کے سات کروڑ درجے بھی بلند ہوتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ وسیع الرحمت اور کریم ہے۔
جائے غور ہے کہ اللہ تعالیٰ دو بتوں کو بھی برا کہنے سے منع کرے اور سیدنا باقرؒ فرمائیں کہ سباب المؤمن فسوق وقتاله کفر یعنی مسلمان کو برا کہنا بھی جرم ہے اور اس سے لڑنا کفر ہے امام محدوح کے متبع لعنت کو ثوابِ عظیم اور باعثِ رفع درجات سمجھتے ہیں اگر یہ درست ہے تو شیعوں کو نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ وغیرہ عبادات کی ادائیگی کہ کیا ضرورت ہے جب وہ لعنت لعنت کا ورد کریں پھر لعنتی بن جائیں تو؛ تو نیکیاں ان کے نامہ میں درج ہو جاتی ہیں اور کروڑوں گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور کروڑوں درجے بلند ہو جاتے ہیں دن کو لعنت کا وظیفہ کر لیں تو پھر گناہ کرتے پھریں ان کا کوئی گناہ شام تک نہیں لکھا جاتا اور رات کو وظیفے کے بعد صبح تک کوئی بدی نہیں لکھی جاتی تو چلو چھٹی ہوئی چوری، زنا، شراب، نوشی، حرام کاری وغیرہ سب بدمعاشیاں کرتے رہیں ان کو کوئی باز پرس نہ ہوگی ایسے عقائد، ایسے مذہب کا کیا کہنا؟