امیر شریعت سید عطاءاللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ اور شیعہ سنی…

امیر شریعت سید عطاءاللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ اور شیعہ سنی اتحاد ایک حقیقت آج کل یہ بات بڑی زور و شور سے کہی جا رہی ہے کہ سید عطاءاللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ نے بھی تو شیعوں کے ساتھ ختم نبوت کے معاملے پر اتحاد کیا تھا:


صفحہ 2 از 2

جناب والد صاحب مولانا (کرم الدین دبیرؒ) نے ایک دفعہ خود بیان کیا تھا کہ بٹالہ ضلع گورداسپور میں انجمن شباب المسلمین کا جلسہ تھا، جس میں میری تقریر بھی تھی اور امیرِ شریعتؒ کی تقریر بھی تھی جلسہ کے منتظمین نے میری تقریر کا اعلان کیا تو میں نے کہا کہ میری تقریر کے بعد متصل مولانا عطاءاللہ شاہ بخاریؒ کی تقریر نہ رکھیں، ممکن ہے کہ وہ میری تقریر سے اختلاف کریں لیکن منتظمین نے میری تقریر کے بعد ہی بخاری صاحبؒ کی تقریر رکھ دی میں نے تقریر شروع کی تو بخاری صاحبؒ اور مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانوی صاحبؒ دونوں میری تقریر میں آ کر بیٹھ گئے، میں نے شیعیت کی تردید کی اور ان کی کتابوں سے ان کے باطل عقائد بیان کیے، میری تقریر کے بعد بخاری صاحبؒ اسٹیج پر آئے تو کہا کہ میں نے مولوی کرم الدین صاحب کی تقریر سنی ہے جب وہ شیعوں کے عقائد بیان کر رہے تھے تو میں یہ سمجھتا تھا کہ میرے سینے پر کوئی ہتھوڑے مار رہا ہے کہ تو ان شیعوں کو ساتھ ملاتا ہے جن کے ایسے ایسے عقائد ہیں۔

میرے محترم قارئین کرام!

اب آپ دیانت داری کے ساتھ فیصلہ کریں کہ امیرِ شریعتؒ کے الفاظ کہ میرے سینے پر کوئی ہتھوڑے مار رہا ہے الخ- کیا یہ شیعہ سنی اتحاد کے نظریہ سے رجوع پر دلالت نہیں؟ کیا یہ شیعوں کے ساتھ کیے جانے والے اتحاد پر ندامت کا اظہار نہیں؟ اگر ہے اور یقیناً ہے تو پھر امیرِ شریعتؒ کے اس عمل سے دلیل پکڑنا کہاں کی دانش مندی ہے۔

خنزیر اور کتے کی مثال تحقیق کے آئینے میں:

جب بھی شیعہ سنی اتحاد کے شرعی اور غیر شرعی کا سوال اٹھتا ہے تو فوراً خنزیر اور کتے کی مثال بیان کر کے اس سوال کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں اور حضرت امیرِ شریعتؒ کے اس قول کو دلیل بنایا جاتا ہے- جس میں حضرت امیرِ شریعتؒ فرماتے ہیں کہ میں خنزیر کے شکار کو نکلا تھا تو ان کتوں کو بھی ساتھ ملا لیا۔

نوٹ: امیرِ شریعتؒ اپنے اس قول سے رجوع فرما چکے ہیں جیسا کہ آپ نے اوپر ملاحظہ فرمایا ہے۔

محترم قارئین کرام!

سب سے پہلے تو اس بات کو سمجھیں کہ خنزیر کے شکار کے لیے کس کتے کی ضرورت ہوتی ہے؟ کیونکہ کلب (کتے) کی دو قسمیں ہیں۔ کلب معلم۔ کلب غیر معلم۔ جب کہ شکار کے لیے کلب معلم کا ہونا ضروری ہے۔ (ھدایۃ: جلد نمبر 4: صفحہ نمبر 506)

اب ذرا انصاف کے ساتھ فیصلہ کریں کہ کیا شیعہ کلب معلم ہے؟ کیا کلب معلم کی تعریف اہلِ تشیع پر صادق آتی ہے؟ بقول شیعہ سنی اتحاد کے حامیوں کے اگر واقعی شیعہ کلب معلم ہیں تو پھر ذرا آزما کر دیکھیں کیا شیعہ آپ کے کہنے پر اپنے عقیدہ امامت جو حضور اکرمﷺ کی ختمِ نبوت کے خلاف پُر فریب بغاوت ہے، سے رجوع کرنے کو تیار ہے؟ کیا شیعہ اپنے اجماعی عقیدے تحریفِ قرآن سے بیزاری کا اظہار کرنے کو تیار ہے؟ کیا شیعہ اپنے اذان سے علی ولی اللہ، و وصی رسول اللہ و خلیفتہ بلا فصل کہ کفریہ الفاظ حذف کرنے کو تیار ہے؟ کیا شیعہ اصحابِؓ رسول اکرمﷺاور ازواجِ مطہراتؓ پر تبرا بازی سے بھرپور کتب کو جلانے اور ان کے مصنفین کو کافر کہنے کے لیے تیار ہے؟ اگر شیعہ یہ سب باتیں آپ کی ماننے کے لیے تیار نہیں تو پھر یہ کلب معلم کیسے بن گئے؟ 

جب کلب معلم نہیں تو پھر اسلامی نظام کے نفاذ کا نعرہ لگا کر ختمِ نبوت کے بد ترین منکروں اصحابِؓ رسولﷺ کے دشمن شیعوں کے ساتھ اتحاد جو قرآن و سنت اور اکابر علمائے حق کے فتاویٰ جات کی روشنی میں مکمل طور پر غیر شرعی ہے۔ ان کو خنزیر اور کتے والی مثال کے ساتھ تشبیہ دینا کہاں کی دانشمندی اور دین کی خدمت ہے؟

اپنی اداؤں پہ خود ہی غور کرو ذرا

عرض کیا اگر ہم نے تو شکایت ہو گی

شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ کا فعل شرعی حجت نہیں ہے:

سوال: کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے میں کہ زید نے ایک شیعہ اثناء عشری کا جنازہ پڑھایا ہے اور اس بارے میں مولانا شبیر احمد عثمانی صاحبؒ کا فعل بطورِ دلیل پیش کرتا ہے کہ مولانا شبیر احمد عثمانی صاحبؒ نے بانی پاکستان محمد علی جناح کا جنازہ پڑھایا تھا جو کہ ایک شیعہ تھا، اور جس شخص کا زید کہتا ہے کہ میں نے جنازہ پڑھایا ہے اس کا اور محمد علی جناح کا عقیدہ ایک ہے، تو اگر محمد علی جناح کا جنازہ پڑھانے سے مولانا شبیر احمد عثمانی صاحبؒ پر کوئی جرم از روئے شریعت عائد نہیں ہوتا تو مجھ پر بھی کوئی جرم نہیں-

اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ زید کا مولانا شبیر احمد عثمانی صاحبؒ کے فعل سے دلیل پکڑنا صحیح ہے یا نہیں؟ اور زید کا شیعہ اثناء عشری کا جنازہ پڑھانا از روئے شریعت جرم ہے یا نہیں؟ کیا اس قسم کے جرم سے زید کی امامت میں کوئی فرق آتا ہے، اگر زید کسی مسجد کا امام ہو تو اس کی اقتداء میں نماز کیسی ہے؟

جواب: موجودہ وقت میں پاکستان کے شیعہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے سب (گالی دینے) کو حلال موجبِ ثواب سمجھتے ہیں، یہ اسلام سے خارج، ان کا جنازہ پڑھنا جائز نہیں، پیشِ امام مذکور دینی غیرت سے محروم ہے، ایسے شخص کی امامت جائز نہیں اسے معزول کر دینا واجب ہے۔ حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی صاحبؒ کے فعل سے استدلال صحیح نہیں ہے وہ اپنے فعل کے خود ذمہ دار ہے ان کا فعل شرعی حجت نہیں-

(فتاویٰ مفتی محمودؒ: جلد، 3 صفحہ، 66)

میرے محترم قارئین کرام!

امیرِ شریعتؒ کے موقف کو دلائل سے مزین ملاحظہ کرنے کے با وجود اگر کسی کا پھر بھی شرح صدر نہیں ہوتا تو پھر ہم اسے وہی جواب دیں گے جو امام انقلاب حضرت مولا مفتی محمود صاحبؒ نے اپنے فتویٰ میں دیا کہ امیرِ شریعتؒ کہ فعل سے استدلال صحیح نہیں وہ اپنے فعل کے خود ذمہ دار ہے ان کا فعل کوئی شرعی حجت نہیں-

اب جس کے جی میں آئے وہ لے اس سے روشنی 

ہم نے تو دل جلا کر سرِ عام رکھ دیا بے


صفحہ 2 از 2