انتالیسواں مسئلہ
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہشیعہ کی معتبر کتاب فروعِ کافی' جلد، 4 کتاب الروضہ: صفحہ، 110 میں ہے کہ سیدنا زین العابدینؒ نے یزید کی بیعت کی عبارت یہ ہے:
ثُمَّ اَرْسَلَ اِلىٰ علِّى ابْن الْحُسَيْنُ عَلَيْهِما السَّلَامُ فَقَالَ لَهٗ مِثْلَ مَقَالَتِهٖ لِلْقَرْشِی فَقَالَ لَهٗ عَلِىُّ بْنُ الْحُسَيْنِ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ أرَأَيْتَ إِنْ لَمْ اُفِزْلَكَ اَلَيْسَ تَقُتُلَّنِىْ كَمَا قَتَلَ الرَّجُلَ بِالَامْسِ فَقَالَ لَهٗ يَزَيْدُ لَعَنَةُ اللّٰه بَلٰی فَقَالَ لَهٗ عَلِىْ بْنُ حُسَيْنِ عَلَيْهِما السَّلَامُ قَدْ اَقرَرْتُ لك بِمَا سأَلْتَ أَنَا عَبْدٌ مُكْرةٌ لَك فَانْ شِئْتَ فَأَسِكَ وَاِنْ شِئْتَ فَبِعْ فَقَالَ لَهٗ يَزَيْدُ لَعَنَةُ اللّٰه اَوْلٰی لَكَ حَقَنْتَ دَمَكَ وَلَمْ يَنْقُصْكَ ذٰلِکَ مِنْ شَرَفكَ۔
ترجمہ: پھر یزید نے سیدنا زین العابدینؒ کے پاس آدمی بھیجا اور ان کو وہی بات کہہ جو قریش کے مرد کے ساتھ کہی تھی امام نے کہا یہ تو بتاؤ کہ میں (تمہاری بیعت کا) اقرار نہ کروں تو مجھے قتل کر دے گا جیسا کہ کل مرد قریش کو قتل کر دیا گیا یزید نے کہا ایسے ہی ہو گا سیدنا زین العابدینؒ نے کہا میں تیری خلافت کو تسلیم کرتا ہوں میں تمہارا غلام ہوں خواہ مجھے اپنے پاس رکھو یا فروخت کر دو یزید نے کہا تیری شان میں کمی نہیں ہوئی۔
غور کرو شیعہ کہا کرتے ہیں کہ اہلِ سنت و الجماعت یزید کو خلیفہ مانتے ہیں اہلِ سنت و الجماعت اس فاسق کو کبھی خلیفہ تسلیم نہیں کرتے لیکن شیعہ ہیں کہ سیدنا زین العابدینؒ کی بیعت کے قائل ہیں بھلا یہ کس طرح جانا جا سکتا ہے کہ ایک قریشی تو اس ملعون کی بیعت کرنے پر موت کو ترجیح دے اور سیدنا سجاد زین العابدینؒ جو اس عالی مقام کے فرزند ہیں جنہوں نے صرف بیعت نہ کرنے کی وجہ سے اپنی اور اپنے اہلِ بیتؓ کی جان قربان کر دی، ان سے یزید کے غلامی کا اقرار اپنی اکیلی جان کی خاطر کب متصور ہو سکتا تھا اس سے تو ثابت ہوتا ہے معاذ اللہ! ایک عام قریشی بھی امام موصوف سے استقامت میں بڑھ نکلا کہ ایک فاسق و فاجر کی بیعت پر اپنی جان کی قربانی کو ترجیح دے لیکن امام نے جان کو ایمان سے زیادہ عزیز سمجھا۔
(اِنْ ھٰذَا اِلاَّ بُھْتَانُ عَظِیْمُ)