تینتیئسواں مسئلہ
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہشیعہ مذہب کے رو سے خصی مرد سے عورتوں کو پردہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے فروعِ کافی جلد، 2 صفحہ، 231 میں ہے:
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِسْمَاعِيْلَ بْنِ بُزَيْعٍ قَالَ سأَلْتُ اَبَاالْحَسَنِ الرضَا عَلَيْهِ السَّلَامُ عَنْ تَنَاعِ الْحَرَائِرِْ مِنَ الْخُصْيَانِ قَالَ كَانُوْ يَدْخُلُوْنَ عَلىٰ بَنَاتِ اَبِىْ الْحَسَن عَلَيْهِ السَّلَامُ وَلَا يَتَقَنَّعْنَ قُلْتُ فَكَانُوا اَحْرَار يُتَقَنَّعُ مِنْهُمْ قَالَ لَا۔
ترجمہ: محمد بن اسماعیل کہتا ہے میں نے سیدنا رضا سے پوچھا کیا اصیل عورتوں کو خصی مردوں سے پردہ کرنا چائیے آپ نے کہا خصی مرد ابو الحسن کی لڑکیوں کے سامنے ہوا کرتے تھے راوی نے کہا کیا وہ مرد اصیل تھے کہا نہیں پھر راوی نے کہا کیا اصیل خصی مرد سے پردہ کرنا چاہیے کہا نہیں۔