ام المؤمنین سیدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا - دفاعِ اہلِ سنت…

ام المؤمنین سیدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 2
سیدنا حاطب بن ابی بلتعہؓ: تو پھر آپ بتائیے کہ جب ان کی قوم نے انہیں چاروں طرف سے گھیر لیا اور انہیں سولی دینے کا ارادہ کیا اور پھر اللہ انہیں آسمان پر اٹھا کر لے گیا تو انہوں نے اس بات کی دعا کیوں نہیں کی کہ ان کا رب بنی اسرائیل کو ہلاک کر دے؟
شاہِ مقوقس کا اعتراف:
آپ ایک حکیم عقل مند (آدمی ہیں اور ایک حکیم) دانا آدمی کی طرف سے آئے ہیں۔ میں محمدﷺ کے لیے یہ تحفے آپ کے ساتھ بھیجتا ہوں اور یہ نگہبان مابور نام تھا جو آپ کے علاقے تک آپ کی نگہبانی کریں گے۔ اس کے بعد رسول اللہﷺ کے خط کا جواب لکھوایا۔
شاہِ مقوقس کا خط:
لمحمد بن عبدالله، من المقوقس عظيم القبط
سلام عليك!
أما بعد! فقد قرأت كتابك، وفهمت ما ذكرت فيه، وما تدعوا إليه، وقد علمت أن نبيا بقی، وكنت أظن أنه يخرج بالشام، وقد أكرمت رسولك، وبعثت لك بجاريتين لهما مكان فی القبط عظيم، وبكسوة وهديت إليك بغلة لتركبها۔
والسلام عليك
ترجمہ: محمد بن عبداللہ کے حضور منجانب مقوقس عظیم القبط!
اما بعد! میں نے آپ کا گرامی نامہ پڑھا اور جو کچھ اس میں تحریر تھا اور جس کی آپ نے دعوت دی، میں نے اس سمجھ لیا۔ میں جانتا ہوں ایک نبی نے آنا تھا لیکن میرا خیال ہے اس کا ظہور ملک شام سے ہوگا۔بہرحال! میں نے آپ کے قاصد کی عزت کی ہے، میں آپ کی طرف دو کنیزیں ماریہ اور سیرین کو بھیجتا ہوں جو کہ قبط میں عظیمُ المرتبت ہیں اور کچھ لباس و تحائف بھی پیش خدمت کرتا ہوں اور خچر بھی آپ کی سواری کے لیے روانہ کر رہا ہوں۔
آپ پر سلامتی ہو۔
شاہِ مقوقس کے تحائف:
خط کے ہمراہ چند تحائف بھی آپﷺ کی خدمت میں بھیجے جن میں دو کنیزیں سیدہ ماریہ قبطیہؓ اور سیدہ سیرینؓ بھی تھیں۔ اس کے علاوہ ایک اونٹ، ایک سفید رنگ کا خچر، ایک نیزہ، قیمتی لباس، قیمتی خلعت اور ہزار مثقال سونا شامل تھا۔ بعض روایات میں یہ بھی ملتا ہے کہ شاہِ مقوقس نے ایک طبیب معالج، حکیم، ڈاکٹر بھی ساتھ بھیجا جسے آپﷺ نے یہ کہہ کر واپس بھیج دیا کہ: إِنَّا قَوْمٌ لَا نَأكُلُ حَتّٰى نُجُوْع، وَإِذَا أَكَلْنَا لَا نَشْبَعُ۔
ترجمہ: ہم لوگ سخت بھوک کے وقت کھانا کھاتے ہیں اور ابھی بھوک باقی ہوتی ہے ہم کھانے سے ہاتھ اٹھا لیتے ہیں۔
اور سیدنا حاطب بن ابی بلتعہؓ کو شاہِ مقوقس نے تحفے میں سو مثقال سونا اور پانچ قیمتی لباس دیے تھے۔
سیدہ ماریہؓ و سیدہ سیرینؓ کا قبول اسلام:
دوسرے دن چار افراد سیدنا حاطب بن ابی بلتعہؓ، سیدہ ماریہؓ، سیدہ سیرینؓ اور مابور پر مشتمل چھوٹا سا قافلہ اونٹ، خچر اور دیگر سامان کے ہمراہ مصر سے مدینہ کی طرف روانہ ہوا۔ راستہ میں سیدنا حاطب بن ابی بلتعہؓ نے قافلے کی تمام افراد کو اسلام کی دعوت دی۔ مابور نےانکار کیا جب کہ سیدہ ماریہؓ اور سیدہ سیرینؓ نے راستے میں ہی اسلام قبول کر لیا۔
مدینہ منورہ آمد:
کئی دنوں کی طویل مسافت کے بعد یہ قافلہ مدینہ منورہ داخل ہوا۔ سیدنا حاطب بن ابی بلتعہؓ سیدہ ماریہؓ اور سیدہ سیرینؓ کو لے کر سیدھے سیدہ ام سلیم بنتِ ملحانؓ کے گھر تشریف لے گئےاور اس کے بعد رسول اللہﷺ کے دربار میں حاضر ہو کر سلام عرض کیا اور شاہِ مقوقس کا خط نکال کر پیش کیا۔
سیدہ ماریہؓ امِ ولد بنتی ہیں:
سیدہ ماریہ قبطیہؓ کو سیدہ عائشہؓ کے پڑوس میں سیدنا حارثہ بن نعمانؓ کے مکان میں ٹھہرایا گیا اگرچہ آپؓ کنیز تھیں لیکن اس کے باوجود آپؓ کو دیگر ازواجِ مطہراتؓ کی طرح پردہ میں رہنے کا حکم دیا گیا۔ اس وقت ان کی عمر مبارک 20 سال کی تھی۔کچھ عرصہ بعد سیدہ ماریہ قبطیہؓ امید سے ہوگئیں۔آپؓ کی دیکھ بھال کے لیے سیدنا ابورافعؓ کی اہلیہ سیدہ سلمیٰؓ گاہے بگاہے تشریف لاتیں۔ سیدہ ماریہؓ ایک بچے کی ماں بن گئیں لونڈی جب بچے کی ماں بنے تو اسے "اُمِّ وَلَدْ" کہتے ہیں سیدہ سلمیؓ نے اپنے خاوند کو بچے کی خوشخبری دینے کے لئے رسول اللہﷺ کے پاس بھیجا، انہوں نے جا کر اطلاع دی، آپﷺ بہت خوش ہوئےاور "ابراہیم" نام رکھا۔
قبطیوں سے حسنِ سلوک کا حکم:
آپﷺ نے ارشاد فرمایا: قبطیوں کے ساتھ حسنِ سلوک کرو اس لئے کہ ان سے عہد اور نسب دونوں کا تعلق ہے۔ ان کے نسب کا تعلق کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ (حضرت حاجرہ علیہا السلام) اور میرے بیٹے ابراہیمؓ دونوں کی ماں اسی قوم سے ہے اور عہد کا تعلق یہ ہے کہ ان سے معاہدہ ہوچکا ہے۔
سیدنا ابراہیمؓ کی وفات:
پیدائش کے بعد 18 ماہ تک سیدنا ابراہیمؓ زندہ رہے اور پھر وفات پاگئے۔ سیدنا فضل بن عباسؓ نے فرزندِ رسول کو غسل دیا اور ایک چھوٹے سے تختے پر اٹھا کر بقیع کی طرف چل پڑے۔ نمازِ جنازہ رسول اللہﷺ نے خود پڑھائی۔ آپﷺ سے پوچھا گیا کہ ان کو کہاں دفن کریں؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: سیدنا عثمان بن مظعونؓ کے پاس۔ چنانچہ سیدنا ابراہیمؓ کی قبر وہاں کھودی گئی تو اس میں سیدنا اسامہ بن زیدؓ اترے اور سیدنا ابراہیمؓ کو آسودہ خاک فرمایا۔
سیدہ ماریہؓ کی وفات:
سن 16 ہجری محرمُ الحرام میں سیدہ ماریہ قبطیہؓ نے وفات پائی سیدنا عمرؓ نے نماز جنازہ پڑھائی اور آپؓ کو جنتُ البقیع میں دفن کر دیا گیا۔
نوٹ: امہات المومنینؓ کے مبارک تذکرے کے بعد سیدہ ماریہ قبطیہؓ کا ذکر اس لیے ضروری سمجھا کہ یہ آپﷺ کے فرزند سیدنا ابراہیمؓ کی والدہ ہیں۔ جب کہ سیدہ سیرینؓ رضی اللہ عنہا سیدنا حسان بن ثابتؓ کے پاس رہیں اور ان سے عبدالرحمٰن پیدا ہوئے۔

صفحہ 2 از 2