کفار کے ساتھ دوستی اور محبت رکھنے اور ان کے ساتھ ہر قسم کے…

کفار کے ساتھ دوستی اور محبت رکھنے اور ان کے ساتھ ہر قسم کے معاملات کرنے اور ان کے ساتھ تشبہ اختیار کرنے کا حکم


صفحہ 5 از 5

نیز جبکہ یہ عداوت کسی نفسانی داعیہ سے نہیں بلکہ محض اس لیے قائم ہوئی کہ انہوں نے حق کے خلاف علم بغاوت بلند کیا، تو اس کی بنا محض صداقت پر ہوئی اس لیے بے دھڑک اس عداوت کا اعلان بھی کر دو تاکہ اللہ تعالیٰ جل شانہ کے دشمن تم کو اپنی طرف کھینچنے اور ملا لینے سے مایوس ہو جائیں۔ جیسا کہ قومِ ابراہیم نے اعلان کیا تھا اور صاف طور پر پکار دیا تھا کہ۔ كَفَرۡنَا بِكُمۡ وَبَدَا بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكُمُ الۡعَدَاوَةُ وَالۡبَغۡضَآءُ اَبَدًا حَتّٰى تُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَحۡدَهٗۤ۔ (سورۃ الممتحنة: آیت، 4)

ترجمہ: ہم تمہارے (عقائد کے) منکر ہیں، اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے دشمنی اور بغض پیدا ہو گیا ہے جب تک تم صرف ایک اللہ پر ایمان نہ لاؤ۔ 

پھر فرمایا کہ اعلانِ عداوت کے بعد خاموش نہ بیٹھ جاؤ بلکہ حسبِ استطاعت سامانِ جنگ کی تیاری بھی جاری رکھو تاکہ یہ عداوت اس وقت تک مستحکم رہے جب تک وہ کفر سے تائب نہ ہو جائیں۔

 وَاَعِدُّوۡا لَهُمۡ مَّا اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ قُوَّةٍ وَّمِنۡ رِّبَاطِ الۡخَـيۡلِ تُرۡهِبُوۡنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَعَدُوَّكُمۡ وَاٰخَرِيۡنَ مِنۡ دُوۡنِهِمۡ‌۔ (سورۃ الأنفال: آیت، 60)

ترجمہ: اور (مسلمانو) جس قدر طاقت اور گھوڑوں کی جتنی چھاؤنیاں تم سے بن پڑیں ان سے مقابلے کے لیے تیار کرو جن کے ذریعے تم اللہ کے دشمن اور اپنے (موجودہ) دشمن پر بھی ہیبت طاری کر سکو، اور ان کے علاوہ دوسروں پر بھی نہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ کفار کے ساتھ مسلمانوں کی آمادگئ عداوت پھر اعلانِ عداوت پھر ابقاءِ عداوت کے سبب ان کا خطاب ہی بارگاہِ الٰہی سے اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ۔ (سورۃ الفتح: آیت، 29) نازل ہو گیا اور وہ خدا تعالیٰ کی فوج کے سپاہی بن گیا۔ جن کو اللہ تعالیٰ جل شانہ نے اپنے دشمنوں کے مقابلہ کے لیے چن لیا۔ پس مسلم و کافر دو نوعیں ہیں جو ہمیشہ ایک دوسرے کے بالمقابل، صف آراء اور جنگ آزما رہی ہیں۔ 

(اسلامی تہذيب و تمدن: صفحہ، 61)


صفحہ 5 از 5