کفار کے ساتھ دوستی اور محبت رکھنے اور ان کے ساتھ ہر قسم کے…

کفار کے ساتھ دوستی اور محبت رکھنے اور ان کے ساتھ ہر قسم کے معاملات کرنے اور ان کے ساتھ تشبہ اختیار کرنے کا حکم


صفحہ 4 از 5

سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کے اس مکالمہ سے قطع تعلقات و معاملات اور اس کی پنہانی حکمت کا پورا پورا اندازہ ہو سکے گا، جس کو امام احمد بن حنبلؒ نے اپنی مسند میں سندِ صحیح کے ساتھ روایت فرمایا ہے۔

سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

میں نے حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میرے یہاں ایک نصرانی کاتب ملازم ہے۔ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔

تجھے کیا ہوا، خدا تجھے غارت کرے، کیا تو نے اللہ تعالیٰ جل شانہ کا یہ حکم نہیں سنا کہ یہود و نصاریٰ کو دوست مت بناؤ، کیوں نہ تو نے کسی مسلمان کو ملازم رکھا؟

میں نے کہا اے سیدنا امیر المؤمنینؓ میرے لیے اس کی کتابت ہے اور اس کے لیے اس کا دین ہے۔ (مجھے اس کے دین سے کیا تعلق؟)

سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

 میں ان کی تکریم نہیں کروں گا جن کی اللّٰه تعالیٰ جلّ شانہ نے توہین کی اور میں ان کو عزت نہ دوں گا ، جن کو اللہ تعالیٰ جل شانہ نے ذلیل کیا، اور میں انہیں مقرّب نہ بناؤں گا جن کو اللہ تعالیٰ جل شانہ نےدور کیا ہے۔

اس پُر مغز مکالمہ سے (جو سیدنا فاروق اعظمؓ جیسے بیدار مغز خلیفۂ رسالت کی ہدایت پر مشتمل ہے) یہ واضح ہو جاتا ہے کہ۔

  1.  جب تک کوئی مضطرانہ ضرورت داعی نہ ہو، اصل یہی ہے کہ غیر مسلمین سے استغاثہ اور وہ بھی ایسی کہ جس میں ان کی تکریم ہوتی ہو قرینِ عقل و دین نہیں۔
  2.  یہ عذر کسی طرح قابلِ سماعت نہیں کہ ہمیں صرف ان کی خدمات درکار ہیں، نہ کہ ان کا مذہب۔ کیونکہ اس تحصیلِ خدمات کے ذیل میں ان کے ساتھ معیت اس شدت و تغلیظ کو کم یا محو کر دے گی جو ایک مسلمان کا اسلامی شعار بتلایا گیا ہے۔ اور یہی قلتِ تغلیظ بالآخر مداہنت، چشم پوشی اور اعراض عن الدین کا مقدمہ لے کر کتنے ہی شرعی منکرات کے نشو و نما کا ذریعہ ثابت ہو گی۔
  3. سیدنا فاروق اعظمؓ اور حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کے بعد کوئی شخص ان جیسا دین نہیں لا سکتا۔ لیکن اگر بالفرض لے بھی آئے تو کوئی وجہ نہیں کہ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ تو کفار کی خدمات حاصل کرنے کے سے روک دیئے جائیں اور اسے نہ روکا جائے۔ مانا کہ ایک شخص پختہ اور راسخ الایمان بھی ہے اور اس اشتراکِ عمل سے اس میں کوئی تزلزل بھی نہیں آ سکتا لیکن یہ تو ہو سکتا ہے کہ ایسی ذمہ دار ہستی کا اشتراکِ عمل عامہ المسلمین کے لیے بڑی استعانت اور زیادہ سے زیادہ اختلاط کا دروازہ کھول دے۔ عوام اپنے لیے اس طرزِ عمل کو حجت شمار کریں اور اس طرح یہ اختلاط و التباس عام ہو کر نا قابلِ تدارک مفاسد کا باعث بن جائے۔ 
  4. جس مخلوق کی اس کے خالق نے تکریم نہ کی اور ان کے لیے عزت کا کوئی شمہ گوارا نہ کیا اس خالق کے پرستاروں کی غیرت و حمیت کے خلاف ہے کہ وہ اس کے دشمنوں کی تکریم کریں۔ وہ جسے پھٹکار دے یہ اسے پیار کریں، ورنہ یہ تو پھر اسلام کے نام سے شرائعِ الٰہی کی توہین اور خود افعالِ باری ہی کی صریح تکذیب ہو جائے گی۔ (نعوذ باللہ منہ) 
  5. اسلام میں سیاستِ محضہ مقصود نہیں بلکہ محض دین، سیاسی الجھنیں محض تحفظ دین کے لیے گوارا کی جاتی ہیں، پس اگر سیاست ہی کا کوئی شعبہ تخریبِ دین یا مداہنت و حق پوشی کا ذریعہ بننے لگے تو بے دریغ اس کو قطع کر کے دین کی حفاظت کی جائے گی، ورنہ در صورت خلاف قلبِ موضوع اور انقلابِ ماہیت لازم آ جائے گا، کہ وسیلہ مقصود ہو جائے اور مقصود وسیلہ کے درجہ پر بھی نہ رہے۔

ترکِ مجالست:

پھر اس تحفظِ خود اختیاری اور رفعِ التباس میں شریعت نے ایک قدم اور بڑھایا کہ غیر مسلموں کے ساتھ مجالست بھی ترک کر دی جائے۔ اگر ان کے ساتھ نشست و برخاست اور میل جول عام ہو جائے تو رفتہ رفتہ اسی موالات اور مودت کی تولید کا پھر قوی اندیشہ ہے جس سے مسلمانوں کے مخصوص قومی و مذہبی شعائر التباس کی زد میں آ جائیں اور دین ضائع ہو جائے، کیونکہ مجالسِ کفر و نفاق کا عام انداز تحقیرِ دین اور استہزاءِ آیات اللہ کے ساتھ مسلمانوں کو ان کے دین سے بدظن بنانے کے سوا کیا ہو سکتا ہے۔ اس لیے قرآن کریم نے فرمایا۔

وَقَدۡ نَزَّلَ عَلَيۡكُمۡ فِى الۡـكِتٰبِ اَنۡ اِذَا سَمِعۡتُمۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ يُكۡفَرُ بِهَا وَيُسۡتَهۡزَاُبِهَا فَلَا تَقۡعُدُوۡا مَعَهُمۡ حَتّٰى يَخُوۡضُوۡا فِىۡ حَدِيۡثٍ غَيۡرِهٖۤ‌۔ (سورۃ النساء: آیت، 140)

ترجمہ: اور اس نے کتاب میں تم پر یہ حکم نازل کیا ہے کہ جب تم اللہ کی آیتوں کو سنو کہ ان کا انکار کیا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے تو ایسے لوگوں کے ساتھ اس وقت تک مت بیٹھو جب تک وہ کسی اور بات میں مشغول نہ ہو جائیں۔

نیز جبکہ ایک منافق محض ظاہری میل جول اور زبانی جمع خرچ کی بناء پر مسلم کہلایا جا سکتا ہے تو کیا ایک مسلم حنیف پر اس ظاہری مشارکت یا مجالست کے سبب کفر و نفاق کے احکام جاری نہیں ہو سکتا؟ قرآن کریم نے خود ہی فیصلہ فرما دیا۔ اِنَّكُمۡ اِذًا مِّثۡلُهُمۡ‌۔ (سورۃ النساء: آیت، 140)

ترجمہ: ورنہ تم بھی انہی جیسے ہو جاؤ گے۔ 

اعلان بغض و عداوت:

قلب و قالب کے یہ تمام رشتے منقطع کر دینے کے بعد اب شریعت نے ایک اور قدم اٹھایا کہ مسلمین ان اللہ تعالیٰ جل شانہ کے دشمنوں سے اگر کوئی تعلق رکھیں تو وہ عداوت اور بغض فی اللہ کا تعلق ہونا چاہیے نہ کہ حب اور انس کا۔ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ جل شانہ کے دشمن ہیں اور مسلمانوں کو وہ سب کے سب اور ان کا قائد اعظم (شیطان) اپنی انتہائی عداوت کے سبب جہنم کی طرف دھکیل دینا چاہتے ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔

اِنَّ الشَّيۡطٰنَ لَـكُمۡ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوۡهُ عَدُوًّا ؕ اِنَّمَا يَدۡعُوۡا حِزۡبَهٗ لِيَكُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰبِ السَّعِيۡرِ۔(سورۃ فاطر: آیت، 6)

ترجمہ: یقین جانو کہ شیطان تمہارا دشمن ہے، اس لیے اس کو دشمن ہی سمجھتے رہو۔ وہ تو اپنے ماننے والوں کو جو دعوت دیتا ہے وہ اس لیے دیتا ہے تاکہ وہ دوزخ کے باسی بن جائیں۔

صفحہ 4 از 5