کفار کے ساتھ دوستی اور محبت رکھنے اور ان کے ساتھ ہر قسم کے…

کفار کے ساتھ دوستی اور محبت رکھنے اور ان کے ساتھ ہر قسم کے معاملات کرنے اور ان کے ساتھ تشبہ اختیار کرنے کا حکم


صفحہ 3 از 5

ترجمہ: اور تم میں سے جو شخص ان کی دوستی کا دم بھرے گا تو پھر وہ انہی میں سے ہو گا۔ یقیناً اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

پھر ترکِ مودت و قطعِ موالات کے سلسلہ میں ایک مسلم فرد کا اولین فرض ہی یہ ہے کہ وہ سب سے پہلے آیاتِ مذکورہ کے ماتحت اہلِ کفر سے اپنے قلبی تعلقات کا رشتہ کلیۃً منقطع کر دے جس طرح ان آیات کے ماتحت حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے اپنے کافر باپ سے قلبی تعلقات منقطع کر لیے تھے کہ بالآخر بدر میں خود ہی ان کے قاتل بھی بنے، جس طرح اسی تعلیم شدت على الكفار کے ماتحت حضرت مصعب ابنِ عمیرؓ نے اپنے بھائی عبید بن عمیر سے قطع مودت کر کے خود ہی اُحد میں اُسے قتل کیا۔ حضرت عمرؓ نے اپنے ماموں عاص ابنِ ہشام کو بدر میں قتل کیا۔ سیدنا علیؓ و سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عبید بن حارثؓ نے عتبہ، ولید بن عتبہ اور شیبہ ابنِ ربیعہ کو بدر میں قتل کیا جو ان حضرات کے قریبی رشتہ دار تھے۔ اور ایسا کر کے اسلامی غیرت اور صلابت فی الدین کی کیسی زبردست مثال قائم فرما دی جو ہمیشہ اُمت کو غیرت و حمیت کی دعوت دیتی رہے گی۔

تبرّى:

پھر قرآنِ کریم نے اس پر بس نہیں کیا بلکہ حکم دیا کہ اپنی اس ترکِ موالات اور قلبی تنفر کا عام اعلان بھی کر دو، تاکہ غیر مسلم تمہارے قلب و قالب میں کوئی طمع نہ رکھ سکیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ جل شانہ نے اپنے رسول اکرمﷺ کی برأت بھی علی الاعلان پکار دی تھی۔ اِنَّ الَّذِيۡنَ فَرَّقُوۡا دِيۡنَهُمۡ وَكَانُوۡا شِيَـعًا لَّسۡتَ مِنۡهُمۡ فِىۡ شَىۡءٍ‌۔ (سورۃ الأنعام: آیت، 159)

ترجمہ: (اے پیغمبر) یقین جانو کہ جن لوگوں نے اپنے دین میں تفرقہ پیدا کیا ہے، اور گروہوں میں بٹ گئے ہیں، ان سے تمہارا کوئی تعلق نہیں ہے۔ 

صفائی سے یہ تفریق واضح کر دی گئی کہ لَسۡتَ مِنۡهُمۡ

 (تو ان میں سے نہیں) لَسۡتَ مِنۡهُمۡ کی حقیقت اس کی ضد اَنۡتَ مِنۡهُمۡ سے واضح ہو سکتی ہے۔ یہ ایک کھلی ہوئی بات ہے کہ دو شخصیتیں واحد نہیں ہو سکتیں۔ 

زید اور عمرو جب دو ہیں تو ایک نہیں ہو سکتے۔ اس لیے جب یہ کہا جائے کہ میں تجھ سے ہوں اور تو مجھ سے تو اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ تو میری نوع سے ہے، میرے اُمور میں شریک ہے، مجھ جیسا ہے اور میں تجھ جیسا ہوں، تیرا شریک اور تیرا ہمنوا ہوں۔

مسلمانوں کے ذات البین اور ان کے باہمی اختلاف و ارتباط کو اسی قسم کے الفاظ میں ظاہر فرمایا ہے کہ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ۔ (سورۃ آل عمران: آیت، 195)

تم آپس میں ایک ہی ہو۔ یعنی یہ سب بعض بعض مل کر ایک ہی نوع مقصود کے دو شریک ہیں۔

آنحضرتﷺ نے حضرت علیؓ کی نسبت فرمایا

انت منّی وانا منک۔

ترجمہ: تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔ یعنی تیری اور میری ایک بات ہے، ہمارا معاملہ واحد ہے، ایک خاص حقیقت میں ہم متحد ہیں۔ 

پس جب یوں فرمایا گیا کہ لَسۡتَ مِنۡهُمۡ۔ (تو ان میں سے نہیں) تو یہ نفی اس پچھلے اثبات پر وارد ہوگی۔ یعنی تیری اور ان کی ایک بات نہیں، تیرا اور ان کا معاملہ ایک نہیں، تو اور وہ کسی نوعِ مقصود کے دو شریک نہیں بلکہ الگ الگ ہیں۔ اسی حقیقت کو حق تعالیٰ جل شانہ نے فرمایا کہ، اے رسولﷺ لَّسۡتَ مِنۡهُمۡ فِىۡ شَىۡءٍ‌۔ یعنی تو کسی چیز کے اعتبار سے کفار میں سے نہیں، ان کا شریک نہیں، ان کے ساتھ متحد نہیں، تو جس نوعِ مقصود کا ایک فرد ہے، وہ اور ہے اور کفار جس نوع کے شرکاء ہیں وہ اور ہیں۔ اسی لیے سورہ کافرون میں اس تبری و علیحدگی کو واضح کر دیا گیا۔

قُلْ يٰٓاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ۔ لَاۤ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ۔ وَلَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُ۔ وَلَاۤ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدْتُّمْ۔ وَلَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُ۔ لَكُمْ دِيْنُكُمْ وَلِيَ دِيْنِ۔ (سورۃ الكافرون)

ترجمہ: تم کہہ دو کہ اے حق کا انکار کرنے والو۔ میں ان چیزوں کی عبادت نہیں کرتا جن کی تم عبادت کرتے ہو۔ اور تم اس کی عبادت نہیں کرتے جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔ اور نہ میں (آئندہ) اس کی عبادت کرنے والا ہوں جس کی عبادت تم کرتے ہو۔ اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔ تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین۔

یہ تبری اور برأت ایسی ہے جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی کافر قوم اور اپنے کافر باپ سے فرمائی تھی۔ وَاِذۡ قَالَ اِبۡرٰهِيۡمُ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖۤ اِنَّنِىۡ بَرَآءٌ مِّمَّا تَعۡبُدُوۡنَ۔ (سورۃ الزخرف: آیت 26)

ترجمہ: اور وہ وقت یاد کرو جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تھا کہ میں ان چیزوں سے بیزار ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو۔

پس جبکہ انبیاء کرام علیہم السلام کا طریقہ، کفار سے تبری کا اعلان کر دینا ہے تو ان کے پیرو اور حلقہ بگوش کیوں اسی طریق کے رہروی پر مجبور نہ کیے جائیں گے۔ آخر رسول نے اپنا ہی طریقہ تو اس کے سامنے پیش کیا ہے، جس کی پیروی کے وہ مدعی بھی ہیں۔

بہرحال قلب اور انسان دونوں کے ذریعہ کفار کا تعلق مسلمین سے منقطع کرا دیا گیا، اور یہی دو چیزیں انسان میں واصل ہیں۔ بقول شاعر،

آدمی آدھا زبان ہے اور آدھا دل، 

آگے سوائے خون اور گوشت کے اس میں اور کیا باقی رہا۔

ترکِ معاملات

پھر شریعثِ الٰہی نے صرف اتنی ہی مجانبت اور قطعِ اختلاط و التباس پر کفایت نہیں کی بلکہ اس امتیاز و تفریق کو اور زیادہ یوں نمایاں فرما دیا کہ ان سے معاملات بھی منقطع کر لو۔ اگر اسلام سطوت و صولت اور اس کی حکومت کا علم لہرا رہا ہو، محاکمِ شرعیہ اور عدالتیں کھلی ہوئی ہوں تو خلافتِ راشدہ اور حکومتِ دینیہ کے دستور العمل کے موافق مسلمان کفار سے استعانت و استمداد نہ لیں گے، سیاسیات میں ان کو شریک نہ کریں گے اور اشتراکِ عمل سے حتیٰ الامکان بچیں گے۔ کیونکہ یہ معاملات کی ظاہری شرکت بھی آخر کار وہی موالات و موانست پیدا کر دیتی ہے۔ سیدنا فاروق اعظمؓ کی گہری سیاست نے اس پر کافی روشنی ڈال دی۔ ممالکِ خلافت میں حضرت فاروق اعظمؓ کا یہ فرمان شائع کیا گیا تھا کہ

ذمیوں کے ساتھ مکاتبت کا تعلق مت رکھو، کہیں تم میں اور ان میں اس بہانہ سے مودت نہ پیدا ہو جائے اور ان کو پناہ مت دو اور تم ان کو ذلیل رکھو مگر ہاں ان پر تعدی نہ کرو۔

صفحہ 3 از 5