کفار کے ساتھ دوستی اور محبت رکھنے اور ان کے ساتھ ہر قسم کے…

کفار کے ساتھ دوستی اور محبت رکھنے اور ان کے ساتھ ہر قسم کے معاملات کرنے اور ان کے ساتھ تشبہ اختیار کرنے کا حکم


صفحہ 2 از 5

ترجمہ: اور اللہ ایک اور مثال دیتا ہے کہ دو آدمی ہیں ان میں سے ایک گونگا ہے جو کوئی کام نہیں کر سکتا، اور اپنے آقا پر بوجھ بنا ہوا ہے، وہ اسے جہاں کہیں بھیجتا ہے، وہ کوئی ڈھنگ کا کام کر کے نہیں لاتا، کیا ایسا شخص اس دوسرے آدمی کے برابر ہو سکتا ہے جو دوسروں کو بھی اعتدال کا حکم دیتا ہے اور خود بھی سیدھے راستے پر قائم ہے؟  

پھر اس فاصل قرآن نے تشریحی امر بھی فرمایا تو یہ کہ اے بندگانِ الٰہی جبکہ ان تکوینیات کی طرح سلسلۂ تشریعیات میں دو متضاد چیزوں (حق و باطل) میں فطرۃً آشتی اور یکجہتی نا ممکن ہے تو اسی فطرت کا اقتضاء یہ ہے کہ تم اپنے اختیار سے بھی حق اور باطل کو الگ الگ ہی رکھو اور ان میں اس مہلک اختلاط (تشبہ) کو دخل مت دو۔

وَلَا تَلۡبِسُوا الۡحَـقَّ بِالۡبَاطِلِ وَتَكۡتُمُوا الۡحَـقَّ وَاَنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ۔ (سورۃ البقرة: آیت، 42)

ترجمہ: اور حق کو باطل کے ساتھ گڈ مڈ نہ کرو، اور نہ حق بات کو چھپاؤ جبکہ (اصل حقیقت) تم اچھی طرح جانتے ہو۔

پس قرآنِ مجید باوجود داعئ اتحاد ہونے کے ادیان و اہل ادیان میں تفریق و امتیاز ہی کا حامی ہے۔ ہاں اس کا مطلوب اتحادِ وحدت یہ ہے کہ ساری ملتیں مٹ کر اسلام میں آ ملیں اور اس طرح اُمتیں نہ رہیں۔ وہ ایسا اتحاد نہیں چاہتا کہ بُرائی اپنی صورت پر قائم رہتے ہوئے نیکی کے ساتھ مل جائے، ظلمت اپنی رو سیاہی سمیت نور میں آ کر ملتبس ہو جائے، اور اس طرح نہ حقیقی نیکی رہے نہ بدی، نہ ظلمت رہے نہ نور، بلکہ کوئی اور تیسری چیز تیار ہو جائے۔ اگر قرآنِ کریم ایسے اتحاد کو گوارا کرتا جو التباسِ حق بالباطل سے نمایاں ہو تو وہ یقیناً اسے بھی گوارا کرتا کہ نہ قرآن رہے نہ قرآنی امت، نہ اسلام کی حقیقی دعوت رہے نہ امتِ اسلام۔ کیونکہ ہم ثابت کر چکے ہیں کہ التباس ہی وہ تاریکی ہے کہ جس میں ہر شئی کا اصلی وجود پہلے چھپتا اور پھر باطل ہو جاتا ہے۔

پس قرآنِ کریم نے ایک طرف تو متعدد امثلہ سے تلبیس اور تسویۂ حق و باطل کے متعلق اپنی نا مرضی ظاہر فرمائی اور پھر امر اور حکم کے ذریعہ تلبیس کی ممانعت فرمائی۔ اور پھر اسی پر اکتفا نہیں فرمایا بلکہ متعدد آیات میں قطع تلبیس کا ایک عملی پروگرام بھی پیش فرمایا جس میں صرف تشبہ ہی نہیں بلکہ بطورِ سدِّ ذرائع ہر اس حرکت سے روکا ہے جو تشبہ تک منجز ہو، تاکہ مسلم و کافر میں کوئی صوری یا باطنی اشتراک، کوئی مناسبت اور کوئی مشابہت پیدا نہ ہونے پائے۔

ترکِ موالات:

اس نے حکم دیا کہ کوئی مسلم کسی کافر کے ساتھ موالات و مودّت اور قلبی حُب کا تعلق نہ رکھے۔ کیونکہ جب قلب اقلیم تن کا سلطان ہے، تو قلبی تعلقات ہی آخر کار نیت و ارادہ اور افعال پر بھی چھا جائیں گے، اور اس طرح ایک مسلم قلباً و قالباً کفار سے ملتبس اور مشتبہ ہو جائے گا۔ حالانکہ التباس و مشابہت قرآنی مرضیات کے صراحتاً خلاف ہے۔

پس ایک جگہ تو اس نے یہود و نصاریٰ سے ترکِ موالات کا حکم دیا کہ يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الۡيَهُوۡدَ وَالنَّصٰرٰۤى اَوۡلِيَآءَ۔ (سورۃ المائدة: آیت، 51)

ترجمہ: اے ایمان والو یہودیوں اور نصرانیوں کو یار و مددگار نہ بناؤ۔

پھر اہلِ کتاب اور عام اہلِ کفر سے اور پھر ان لوگوں سے بھی یہ رشتۂ موالات منقطع کر دینے کا حکم دیا جو دین کے مسائل کے ساتھ تمسخر اور استہزاء سے پیش آتے ہیں۔ يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَـتَّخِذُوا الَّذِيۡنَ اتَّخَذُوۡا دِيۡنَكُمۡ هُزُوًا وَّلَعِبًا مِّنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ وَالۡـكُفَّارَ اَوۡلِيَآءَ‌۔ (سورۃ المائدة: آیت، 57)

ترجمہ: اے ایمان والو جن لوگوں کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی ان میں سے ایسے لوگوں کو جنہوں نے تمہارے دین کو مذاق اور کھیل بنا رکھا ہے اور کافروں کو یار و مددگار نہ بناؤ۔

پھر ایک جگہ فرمایا کہ کافر تو کافر ایک مسلمان تو کسی ایسے آدمی سے بھی رتی بھر محبت نہیں رکھ سکتا جو اللہ تعالیٰ اور رسولﷺ کے بر خلاف ہو، خواہ کفر کر کے ہو خواہ علانیہ فسق اور ابتداع کا ارتکاب کر کے۔ لَا تَجِدُ قَوۡمًا يُّؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ يُوَآدُّوۡنَ مَنۡ حَآدَّ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَلَوۡ كَانُوۡۤا اٰبَآءَهُمۡ اَوۡ اَبۡنَآءَهُمۡ اَوۡ اِخۡوَانَهُمۡ اَوۡ عَشِيۡرَتَهُمۡ‌ؕ اُولٰٓئِكَ كَتَبَ فِىۡ قُلُوۡبِهِمُ الۡاِيۡمَانَ وَاَيَّدَهُمۡ بِرُوۡحٍ مِّنۡهُ‌۔ (سورۃ المجادلة: آیت، 22)

ترجمہ: جو لوگ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں، ان کو تم ایسا نہیں پاؤ گے کہ وہ ان سے دوستی رکھتے ہوں، جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی ہے، چاہے وہ ان کے باپ ہوں، یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کے خاندان والے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے د لوں میں اللہ نے ایمان نقش کردیا ہے، اور اپنی روح سے ان کی مدد کی ہے۔

حقیقت یہی ہے کہ اگر کسی اسلامی دل میں موالاتِ کفار اور محبتِ منکرین کا کوئی شائبہ موجود ہے تو ماننا پڑے گا کہ اسی درجہ میں اسلامی عظمت و محبت کی کمی بھی اس قلب میں جاگزین ہے ورنہ پھر اسلام و کفر کا تضاد ہی باقی نہیں رہ سکتا۔ اس حقیقت کو سمجھ کر اربابِ حقیقت نے دعویٰ کیا ہے کہ مودتِ کفار سے ایمان میں فساد آ جاتا ہے، بلکہ حضرت سہل ابنِ عبداللہ تستریؒ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ جس کا ایمان و توحید خالص ہے وہ کسی مبتدع سے بھی انس نہیں رکھ سکتا چہ جائیکہ کفار سے، اور وہ بھی مودّت و محبت کی شکل میں؟

اور امام مالکؒ نے اس آیت کی معادات اور ان سے ترکِ مجالست پر استدلال کیا ہے۔

اگر مسلم قلوب میں سے کفار کی جانب سے یہ شدت و تغلیظ نکل جائے تو ضرور ہے کہ اس کی جگہ موالات و محبت لے لے گی اور قلبی محبت قائم کرنے کے بعد وہ دن دور نہیں رہتا کہ یہ مسلم فرد انجام کار اسی گروہِ کفر میں جا ملے اور صورت و سیرت سے ان کا ہم آہنگ بن جائے۔

قرآن کریم نے اس ترکِ موالات کی آیت میں موالات کا یہ نتیجہ بھی بیان فرما دیا ہے کہ وَمَنۡ يَّتَوَلَّهُمۡ مِّنۡكُمۡ فَاِنَّهٗ مِنۡهُمۡ‌ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِى الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ۔ (سورۃ المائدة: آیت، 51)

صفحہ 2 از 5