کفار کے ساتھ دوستی اور محبت رکھنے اور ان کے ساتھ ہر قسم کے…

کفار کے ساتھ دوستی اور محبت رکھنے اور ان کے ساتھ ہر قسم کے معاملات کرنے اور ان کے ساتھ تشبہ اختیار کرنے کا حکم


صفحہ 1 از 5

کفار کے ساتھ دوستی اور محبت رکھنے اور ان کے ساتھ ہر قسم کے معاملات کرنے اور ان کے ساتھ تشبہ اختیار کرنے کا حکم

فرمایا کہ قرآن جیسی مدعی اتحاد و ایتلاف کتاب نے بھی (جس نے سارے عالم کو ایک ہی رشتہ اخوت و مذہب میں منسلک کرنا اپنا واحد مقصد بتلایا اور وحدت و توحید کا ساری دنیا کو سبق دیا) اس اختلاف صور اور امتیاز مذاہب و اقوام کو (جب تک وہ مذاہب و اقوام ہیں) قائم رکھنے کی سعی کی ہے، تاکہ ہر قوم اپنی اپنی حدود میں پہچانی جا سکے۔ اس نے ایک طرف تو سارے انسانوں کو للکارا کہ وَّلَا تَفَرَّقُوۡا‌۔ (سورۃ آل عمران: آیت، 103)

ترجمہ: اور آپس میں پھوٹ نہ ڈالو۔ اور دوسری طرف اپنا ہی نام فرقان رکھا کہ وہ حق و باطل میں تفریق کر دیتی ہے۔ ایک طرف تو اس نے ساری دنیا کو وصل و ملاپ کی تعلیم دی اور دوسری طرف اپنا ہی نام قول فصل رکھا کہ وہ حق و باطل میں جدائی پیدا کر دیتی ہے۔

چنانچہ اس فارق و فاصل کلام نے نازل ہو کر سلسلہ تشریح میں اسلام کو کفر سے، امانت کو خیانت سے اور دین و حق کو تمام ادیان باطلہ سے بالکل جدا اور نمایاں کر دیا۔

امتوں پر خالق مخلوق کا فرق تلبیس ہو چکا تھا کسی نے خدا کی مخصوص صفات بندوں میں مان لی تھیں، اور کسی نے بندوں کی ناقص صفات خدا میں تسلیم کر لی تھیں، اس فاصل کلام نے تمام مشرکانہ جال توڑ کر توحید کو شرک سے اس طرح الگ کر دیا کہ ان میں کوئی التباس نہ رہا۔

معروف و منکر کی حدود مل گئی تھیں۔ امتوں نے معروف کو منکر اور منکر کو معروف گمان کر لیا تھا۔ اس فرقان و فصل نے معروف کی حدود متعین کر کے اس کو منکر سے جدا کر دیا۔ معروف کا تو امر کیا، اور منکر سے نہی کی۔

طیب و خبیث کا فرق امتیں بھلا چکی تھیں، اسی کلامِ فاصل نے ان میں تفریق کر دی، طیبات کو حلال کیا اور خبائث کو حرام کیا۔

پھر اسی فرقان اور قولِ فصل نے جہاں اسلام و کفر معروف و منکر، طبیب و خبیث، حلال و حرام اور حق و باطل میں تفریق کی تو اس کے ساتھ وہیں ان اقوام میں بھی دنیوی و اخروی تمیز و تفریق پیدا کر دی جو ان متضاد صفات کے اعتبار سے خیر و شر کی دو جانبوں میں بٹ گئیں تھیں۔ تاکہ سعید شقی، نیک و بد، مطیع و سرکش، مسلم و کافر اور اولیاءِ رحمٰن و اولیاءِ شیطان میں باہم کوئی تلبیس و اختلاط راہ نہ پائے۔

کہیں تو اس کتاب مبین نے کہا اَفَنَجۡعَلُ الۡمُسۡلِمِيۡنَ كَالۡمُجۡرِمِيۡنَ۔ (سورة القلم: آیت، 35)

ترجمہ: بھلا کیا ہم فرمانبرداروں کو مجرموں کے برابر کردیں گے؟

کہیں فرمایا کہ مؤمن و مفسد دو جدا جدا نوعیں ہیں جن میں کوئی التباس نہیں ہے۔ اَمۡ نَجۡعَلُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالۡمُفۡسِدِيۡنَ فِى الۡاَرۡضِ اَمۡ نَجۡعَلُ الۡمُتَّقِيۡنَ كَالۡفُجَّارِ۔ (سورۃ ص: آیت، 28)

ترجمہ: جو لوگ ایمان لائے ہیں، اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں کیا ہم ان کو ایسے لوگوں کے برابر کر دیں جو زمین میں فساد مچاتے ہیں؟ یا ہم پرہیزگاروں کو بدکاروں کے برابر کر دیں گے؟

 کہیں نیک اور بد کی تفریق بیان کی کہ ان کی موت اور زندگی سب الگ الگ ہونی چاہیے، اَمۡ حَسِبَ الَّذِيۡنَ اجۡتَـرَحُوا السَّيِّاٰتِ اَنۡ نَّجۡعَلَهُمۡ كَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۙ سَوَآءً مَّحۡيَاهُمۡ وَمَمَاتُهُمۡ‌ ؕ سَآءَ مَا يَحۡكُمُوۡنَ۔ (سورۃ الجاثية: آیت، 21)

ترجمہ: جن لوگوں نے برے برے کاموں کا ارتکاب کیا ہے، کیا وہ یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ انہیں ہم ان لوگوں کے برابر کر دیں گے جو ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں جس کے نتیجے میں ان کا جینا اور مرنا ایک ہی جیسا ہو جائے؟ کتنی بری بات ہے جو یہ طے کیے ہوئے ہیں۔  

 کہیں فرمایا کہ نیک کردار اور بدکردار آپس میں ایسے ممتاز ہیں جیسے سونکھا اور اندھا پس ایک دوسرے کے برابر نہیں ہو سکتا۔ وَمَا يَسۡتَوِى الۡاَعۡمٰى وَالۡبَصِيۡرُ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَلَا الۡمُسِىۡٓءُ ؕ قَلِيۡلًا مَّا تَتَذَكَّرُوۡنَ۔ (سورۃ غافر: آیت، 58)

ترجمہ: اور اندھا اور بینائی رکھنے والا دونوں برابر نہیں ہوتے، اور نہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے، وہ اور بدکار برابر ہیں، (لیکن) تم لوگ بہت کم دھیان دیتے ہو۔

کہیں ارشاد فرمایا کہ عبدِ مشرک اور عبدِ غیر مشرک جبکہ دو جداگانہ نوعیں ہیں تو وہ ایک کیسے ہو سکتی ہیں؟ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلًا فِيۡهِ شُرَكَآءُ مُتَشٰكِسُوۡنَ وَرَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ ؕ هَلۡ يَسۡتَوِيٰنِ مَثَلًا ‌ؕ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰهِ ‌ ۚ بَلۡ اَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ۔ (سورۃ الزمر: آیت، 29)

ترجمہ: اللہ نے ایک مثال یہ دی ہے کہ ایک (غلام) شخص ہے جس کی ملکیت میں کئی لوگ شریک ہیں جن کے درمیان آپس میں کھینچ تان بھی ہے اور دوسرا (غلام) شخص وہ ہے جو پورے کا پورا ایک ہی آدمی کی ملکیت ہے۔ کیا ان دونوں کی حالت ایسی جیسی ہوسکتی ہے؟  

کہیں فرمایا کہ ایک غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا انسان ایک با اختیار آدمی کے برابر کیسے ہو سکتا ہے، ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا عَبۡدًا مَّمۡلُوۡكًا لَّا يَقۡدِرُ عَلٰى شَىۡءٍ وَّمَنۡ رَّزَقۡنٰهُ مِنَّا رِزۡقًا حَسَنًا فَهُوَ يُنۡفِقُ مِنۡهُ سِرًّا وَّجَهۡرًا‌ؕ هَلۡ يَسۡتَوٗنَ‌۔ (سورة النحل: آیت، 75)

ترجمہ: اللہ ایک مثال دیتا ہے کہ ایک طرف ایک غلام ہے جو کسی کی ملکیت میں ہے، اس کو کسی چیز پر کوئی اختیار نہیں، اور دوسری طرف وہ شخص ہے جس کو ہم نے اپنے پاس سے عمدہ رزق عطا کیا ہے، اور وہ اس میں سے پوشیدہ طور پر بھی اور کھلے بندوں بھی خوب خرچ کرتا ہے۔ کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ 

کہیں فرمایا کہ ایک اپاہج کسی مستقیم الحال کی برابری کیسے کر سکتا ہے؟ وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلاً رَّجُلَيۡنِ اَحَدُهُمَاۤ اَبۡكَمُ لَا يَقۡدِرُ عَلٰى شَىۡءٍ وَّهُوَ كَلٌّ عَلٰى مَوۡلٰٮهُۙ اَيۡنَمَا يُوَجِّههُّ لَا يَاۡتِ بِخَيۡرٍ‌ؕ هَلۡ يَسۡتَوِىۡ هُوَۙ وَمَنۡ يَّاۡمُرُ بِالۡعَدۡلِ‌ۙ وَهُوَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ۔ (سورۃ النحل: آیت، 76)

صفحہ 1 از 5