نبی کریمﷺ کی طرف سے بنی ھشام ابن مغیرہ کی بیٹی سے نکاح کرنے…

نبی کریمﷺ کی طرف سے بنی ھشام ابن مغیرہ کی بیٹی سے نکاح کرنے کی علی ابن ابی طالب کو ممانعت

  جعفر صادق

صفحہ 3 از 5
ذرا غور کیجیے، ابوسفیان کی بیٹی، ہند بنتِ عتبہ (مشہور ہند جگر خوار) کی لختِ جگر، جس کی پھوپھی وہ عورت تھی جسے قرآن میں حَمَّالَةَ الۡحَطَبِ‌ۚ‏ ۞ (سورة المسد: آیت، 4) کا خطاب دیا گیا ہے، جس کا نانا عتبہ بن ربیعہ نبی اکرمﷺ کا بدترین دشمن تھا۔ اس خاندان سے اور اس ماحول سے نکل کر وہ حضرت عمر فاروقؓ اور حضرت حمزہؓ سے بھی پہلے ایمان لاتی ہیں، اپنے شوہر کو مسلمان کرتی ہیں، خاندان والوں کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر مہاجرینِ حبشہ کے ساتھ ہجرت کر جاتی ہیں۔ حبشہ جا کر شوہر عیسائی ہو جاتا ہے اور وہ دین کی خاطر اس کو بھی چھوڑ دیتی ہیں۔ غریب الوطنی کی حالت میں تن تنہا ایک چھوٹی سی بچی کے ساتھ رہ جاتی ہیں اور ان کے عزمِ ایمانی میں ذرّہ برابر تزلزل نہیں آتا۔ کئی برس اس حالت میں جب گزر جاتے ہیں اور ایک بے سہارا خاتون دیارِ غیر میں ہر طرح کے مصائب جھیل کر یہ ثابت کر دیتی ہے کہ دین کو جس پائے کا خلوص، جس مرتبے کی سیرت اور جس درجے کا کردار مطلوب ہے، وہ سب یہاں موجود ہے، تب نبی اکرمﷺ کی نگاہِ انتخاب ان پر پڑتی ہے اور آپﷺ حبشہ ہی میں ان کو نکاح کا پیغام بھیجتے ہیں۔ غزوۂ خیبر کے بعد وہ حبشہ سے واپس آ کر حرمِ نبوی میں داخل ہوتی ہیں۔ اس کے تھوڑی ہی مدت بعد قریش صلح حدیبیہ کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوتے ہیں اور ان کو اندیشہ ہوتا ہے کہ نبی کریمﷺ اب مکے پر چڑھائی کر دیں گے۔ اس موقع پر ابو سفیان صلح کی بات چیت کے لیے مدینے آتا ہے اور اس امید پر بیٹی کے ہاں پہنچتا ہے کہ اس کے ذریعے سے صلح کی شرائط طے کرنے میں سہولت ہو گی۔ برسوں کی جدائی کے بعد پہلی مرتبہ باپ سے بیٹی کو ملنے کا موقع ملتا ہے، مگر جب وہ رسول اللہﷺ کے فرش پر بیٹھنے کا ارادہ کرتا ہے تو بیٹی فوراً یہ کہہ کر فرش اٹھا لیتی ہے کہ رسول انورﷺ کے فرش پر ایک دشمنِ اسلام نہیں بیٹھ سکتا۔ ایسی خاتون کا خانوادۂ رسالت میں داخل ہونا تو ہیرے کا ہار میں ٹھیک اپنی جگہ پا لینا تھا۔ اس سے کسی فتنے کے رونما ہونے کا کوئی بعید ترین امکان کیا، وہم بھی نہ ہو سکتا تھا۔ البتہ اس لڑکی کا اس خاندان میں آنا ضرور فتنے کے امکانات اپنے اندر رکھتا تھا جسے اور جس کے خاندان کو صرف فتح نے اسلام میں داخل کیا تھا اور اسلام میں آئے ہوئے جس کو ابھی صرف چند مہینے ہی ہوئے تھے۔ اسی کے بارے میں یہ سوال پیدا ہو سکتا تھا کہ اسلام اور نبی اکرمﷺ کی عداوت کے اثرات سے اس کا اور اس کے خاندان والوں کا دل پوری طرح پاک ہوا ہے یا نہیں ۔
نبی کریمﷺ نے بنی ھشام ابنِ مغیرہ کے بیٹوں کو سیدنا علی ابنِ ابی طالبؓ سے نکاح کرنے سے منع کیا تو کیا یہ حکم فقط حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کے لیے خاص تھا یا آپﷺ کی تمام صاحبزادیوں کے لیے ہے؟
الجواب: یہ حکم تمام بیٹیوں کے لیے تھا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ یہ ناممکن ہے کہ اللہ کے رسولﷺ کی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک گھر میں جمع ہوں۔
(صحيح مسلم: حدیث نمبر، 6307 باب: سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کی فضیلت)
صحيح مسلم
كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب
15: باب فَضَائِلِ فَاطِمَةَ بِنْتِ النَّبِی عَلَيْهَا الصَّلاَةُ وَالسَّلاَمُ
باب: سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کی فضیلت
حدیث نمبر، 6307
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ يُونُسَ، وَ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ كلاهما، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ ابْنُ يُونُسَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ عُبَيْدِ اللّٰهِ بْنِ أَبِی مُلَيْكَةَ الْقُرَشِی التَّيْمِی، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَهُوَ يَقُولُ: "إِنَّ بَنِی هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ اسْتَأْذَنُونِی أَنْ يُنْكِحُوا ابْنَتَهُمْ عَلِی بْنَ أَبِی طَالِبٍ، فَلَا آذَنُ لَهُمْ، ثُمَّ لَا آذَنُ لَهُمْ، ثُمَّ لَا آذَنُ لَهُمْ، إِلَّا أَنْ يُحِبَّ ابْنُ أَبِی طَالِبٍ أَنْ يُطَلِّقَ ابْنَتِی، وَيَنْكِحَ ابْنَتَهُمْ، فَإِنَّمَا ابْنَتِی بَضْعَةٌ مِنِّی يَرِيبُنِی مَا رَابَهَا، وَيُؤْذِينِی مَا آذَاهَا"
ترجمہ: حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا: "بنو ہشام بن مغیرہ نے مجھ سے اجازت چاہی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کی شادی حضرت علی بن ابی طالبؓ سے کر دیں، میں انھیں اس کی اجازت نہیں دیتا، پھر میں انھیں اس کی اجازت نہیں دیتا، پھر میں انھیں اس کی اجازت نہیں دیتا، الاّ یہ کہ ابنِ ابی طالب پسند کرے تو میری بیٹی کو طلاق دے دے اور ان کی بیٹی سے شادی کر لے کیونکہ میری بیٹی میرے جسم کا حصہ ہے جو چیز اسے پریشان کرے وہ مجھے پریشان کرتی ہے۔ جو چیز اس کو ایذا دے وہ مجھے ایذا دیتی ہے۔"
(الشيخ محمد حسين ميمن حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاری: 5278)  
اسلام قبول کرنے والی مشرک عورتوں سے نکاح اور ان کی عدت کا بیان 
عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ الزُّهْرِی، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِی صَلَّى اللّٰهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: "إِنَّ بَنِی الْمُغِيرَةِ اسْتَأْذَنُوا فِی أَنْ يَنْكِحَ عَلِی ابْنَتَهُمْ، فَلَا آذَنُ
ترجمہ: سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ بنی مغیرہ نے اس کی اجازت مانگی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے وہ اپنی بیٹی کا نکاح کر لیں لیکن میں انہیں اس کی اجازت نہیں دوں گا۔“ 
(صحيح البخاری، كتاب الطلاق: 5278)
صحیح بخاری کی حدیث نمبر: 5278 کا باب: بَابُ نِكَاحِ مَنْ أَسْلَمَ مِنَ الْمُشْرِكَاتِ وَعِدَّتِهِنَّ:
باب اور حدیث میں مناسبت: 
امام بخاری رحمۃ اللہ نے ترجمۃ الباب میں میاں بیوی کے مابین ناچاکی اور نااتفاقی کے امور کی وضاحت فرمائی ہے جب کہ تحت الباب جس حدیث کا ذکر فرمایا ہے اس میں بظاہر کوئی ایسے الفاظ وارد نہیں ہیں جو باب سے مناسبت رکھتے ہوں۔ 
علامہ کرمانیؒ رقم طراز ہیں: 
صفحہ 3 از 5