Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

رضا کا حصول کس طرح ہوسکتا ہے؟

  علی محمد الصلابی

حصول رضا کا سب سے اہم ذریعہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں میں اپنی رضا رکھی ہے انھیں لازماً اختیار کیا جائے، یہ چیز مقام رضا تک پہنچا دے گی۔

یحییٰ بن معاذؒ سے پوچھا گیا: بندہ کب مقامِ رضا کو پہنچ جاتا ہے،جواباً عرض کیا جب بندہ اپنے اور اپنے رب کے معاملات میں چار اصولوں کا پابند ہو جائے اور کہے تیری دی ہوئی چیز مجھے قبول، تیری منع کردہ چیز پر میں راضی، اگر تو مجھے ترک بھی کرتا ہے تو میں تیری عبادت کرنے والا ہوں، اور اگر تو مجھے بلاتا ہے تو میں تیرے بلاوے پر لبیک کہنے والا ہوں۔

جنیدؒ کا قول ہے: رضا دل تک اثر کرنے والے صحیح علم کو کہتے ہیں۔ جب حقیقی علم دل میں رچ بس جائے تو وہ مقامِ رضا تک پہنچا دیتا ہے۔ رضا اور محبت، رجاء اور خوف کے مانند نہیں ہیں، رضا اور محبت جنتیوں کے دو لازمی احوال ہیں جو ان سے نہ تو دنیا میں جدا ہوتے ہیں نہ برزخ میں اور نہ ہی آخرت میں، بخلاف خوف اور رجاء کے کہ یہ متوقع چیز کے حصول اور خوف والی چیز کے ختم ہو جانے پر جدا ہو جاتے ہیں۔

ابن عطاءؒ کا قول ہے: رضا اللہ کی مقرر کردہ تقدیر پر راضی برضا رہنے کا نام ہے۔

(مدراج السالکین: جلد 2 صفحہ 174، 175)

بعض اللہ والوں کا قول ہے: جو اللہ پر توکل کرتا ہے اور اس کی قضا و قدر پر راضی رہتا ہے، وہ ایمان کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے، اپنے آپ کو کسب خیر کے لیے فارغ کر لیتا ہے اور ان اعلیٰ اخلاق کو حاصل کر لیتا ہے جو بندے کے معاملے کو درست کر دیتے ہیں۔ مقام رضا اللہ اور لوگوں کے ساتھ حسنِ خلق کا دروازہ کھول دیتا ہے، اور صاحبِ رضا کو صائم و قائم کے درجے تک پہنچا دیتا ہے، بدخلقی نیکیوں کو ایسے ہی کھا جاتی ہے جیسے آگ ایندھن کو، رضا تمام امور سے متعلق قضا و قدر پر دل کی خوشی، اور ہر حال میں قلبی اطمینان و سکون کا باعث ہوتی ہے، اسی لیے بعض اللہ والوں نے رضا کا دوسرا نام اللہ کے ساتھ حسنِ خلق کو قرار دیا ہے، بلاشبہ وہ اللہ کی بادشاہت پر اعتراض اور حسن خلق کو برباد کر دینے والی فضول گفتگو کو ترک کرنے کا باعث ہوتا ہے۔

(صلاح الأمۃ: جلد 4 صفحہ 512، نقلا عن مدارج السالکین)

شاعر کہتا ہے:

العبد ذو ضجر و الرب ذو قدر و الدھر ذو دول و الرزق مقسوم

’’بندہ کبیدہ خاطر ہونے والا اور رب صاحب قضا و قدر ہے۔ زمانے میں تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں اور روزی بٹتی رہتی ہے۔‘‘

و الخیر أجمع فی ما اختار خالقنا و فی اختیارہ سواہ اللوم و الشوم

’’خالق ہی کی پسند میں سراسر بھلائی ہے اسے چھوڑ کر بندہ کچھ پسند کرتا ہے تو اس میں خرابی ہی خرابی ہے۔‘‘

شاعر کہتا ہے:

إذا ارتحل الکرام إلیک یوما لیلتمسوک حالا بعد حال

’’جب سخی حضرات تیری جانب کوچ کرتے ہیں تاکہ وہ بار بار تجھ سے طلب کریں۔‘‘

فإن رحالنا حطت لترضی بحلمک عن حلول وارتحال

’’تو ہم کوچ کرنے سے باز رہتے ہیں، تاکہ تو اپنی بردباری کے باعث راضی ہوجا۔‘‘

أنخنا فی فنائک یا الٰہی إلیک معرضین بلا اعتدال

’’اے الہٰی! بلا حیلہ بہانہ سب سے منہ موڑ کر تیری بارگاہ میں ہم حاضر ہیں۔‘‘

فسُسْنا کیف شئت و لا تکلنا إلی تدبیرنا یاذا المعالی

(صلاح الأمۃ فی علو الھمۃ: جلد 4 صفحہ 529)

’’اے اللہ! تو ہمارے ساتھ جیسا چاہے تصرف کر، اور ہمیں ہمارے تصرف کے حوالے نہ کرے۔‘‘

مقام رضا کے یہ چند مفاہیم ہیں جو امیر المؤمنین حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے اس قول کی وضاحت کرتے ہیں:

مَنِ اتَّکَلَ عَلَی حُسْنِ اخْتِیَارِ اللّٰہِ لَہُ لَم یَتَمَنَّ أَنْ یَکُوْنَ فِی غَیْرِالْحَالَۃِ الَّتِی اخْتَارَ اللّٰہُ لَہٗ، وَہَذَا حَدُّ الْوُقُوْفِ عَلَی الرِّضَا بِمَا تَصَرَّفَ بِہِ الْقَضَائُ

(صلاح الامۃ فی علوم الہمۃ: جلد 4 صفحہ 529)

’’جس نے اللہ کے حسن اختیار پر بھروسا کیا وہ اپنے لیے منجانب اللہ اختیار کردہ حالات کے علاوہ کسی دوسری حالت کی تمنا نہیں کرتا، اور یہی قضا و قدر پر راضی ہونے کا مفہوم ہے۔‘‘