اٹھارہواں مسئلہ
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہنمازی مرد نماز میں کھڑا ہو اور کسی چیز کی ضرورت ہو تو اشارے سے مانگ سکتا ہے عورت کو کسی چیز کی حاجت ہو تو وہ تالی پیٹے یا رانوں پر ہاتھ مارے من لایحضرہ الفقیہ میں ہے:
عَنْ أَبِی عَبْدِاللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِی الرَّجُلِ أَرَادَ الحَاجَةَ وَهُوَ يُصَلِّىْ فِى الصَّلوٰةِ قَالَ يُشيُرُ بِيَدِهٖ وَالمرأة إِذَا أَرَادَ بِالحَاجَةِ تَصْفَق۔
ترجمہ: سیدنا صادقؒ نے فرمایا نمازی مرد کو نماز میں کھڑا ہو اور کسی چیز کی حاجت ہو تو ہاتھ سے اشارہ کر کے مانگ لے اور عورت کو کوئی چیز مطلوب ہو تو وہ تالی بجائے۔