سیدنا حسن اور ابوذر رضی اللہ عنہما کے نزدیک رضا کا مفہوم -…

سیدنا حسن اور ابوذر رضی اللہ عنہما کے نزدیک رضا کا مفہوم

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

اس کی الوہیت پر رضا مندی کا تقاضا ہے کہ صرف اس کی محبت، خوف و رجاء، اسی کی جانب رجوع و یکسوئی، اسی کی جانب چاہت و محبت کی کشش پر راضی رہا جائے، یہ چیزیں اس کی عبادت اور اخلاص کی متقاضی ہیں۔

اس کی ربوبیت پر رضا مندی کا تقاضا یہ ہے کہ اس کی تدبیر کائنات پر راضی رہا جائے، صرف اسی پر توکل کیا جائے، اسی سے مدد طلب کی جائے، اسی پر بھروسا و اعتماد کیا جائے، اس کے ہر ایک کام پر راضی رہا جائے، پہلی رضا مندی اس کے ہر حکم پر اور دوسری اس کی تقدیر پر راضی ہونے کی متقاضی ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر رضا مندی کا تقاضا ہے کہ آپﷺ کی مکمل اتباع کی جائے، آپﷺ کے ہر حکم پر سر تسلیم خم کیا جائے، دنیائے انسانیت میں آپﷺ کو ممتاز مقام پر فائز سمجھا جائے، آپﷺ کی خصوصیت اور مقام و مرتبہ میں کسی کو شریک نہ سمجھا جائے، آپﷺ کی احادیث ہی سے رہنمائی حاصل کی جائے، آپﷺ ہی کو حکم تسلیم کیا جائے، کسی طرح کے ظاہری وباطنی حکم میں، ایمان کے حقائق و مقامات میں، الہٰی اسماء و صفات اور افعال میں صرف آپﷺ کا فیصلہ تسلیم کیا جائے، آپﷺ کا فیصلہ نہ ملنے کی صورت میں کسی دوسرے کو فیصل بنانے کا معاملہ اس مجبور شخص کے معاملے کی طرح ہونا چاہیے جو بحالت اضطرار مردار کھا کر اپنی جان بچاتا ہے، سمجھنے کے لیے اس کی بہترین مثال اس مٹی کی ہے جس سے تیمم اس وقت کیا جاتا ہے جب پانی کا استعمال ممکن نہ ہو۔

اس کے دین پر رضا مندی کا مفہوم یہ ہے کہ اس کے ہر قول، حکم، امر اور نہی پر مکمل راضی رہا جائے، اس کے ہر فیصلہ کو دل سے قبول کیا جائے، چاہے وہ فیصلہ اس کی ذات و خواہش، امام و شیخ اور اس کی جماعت کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔

(مدارج السالکین: جلد 2 صفحہ 172، 173)

مزید فرماتے ہیں: رضا توکل کا آخری مرحلہ ہے، سرتسلیم خم کرنے اور توکل میں جس کے قدم مضبوطی سے جم گئے اسے لازماً رضا کا مقام حاصل ہو جاتا ہے، لیکن یہ چیز بہت سارے لوگوں کے لیے مشکل ہوتی ہے، اسے لوگ قبول نہیں کرتے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر رحم اور آسانی کرتے ہوئے اسے واجب تو نہیں قرار دیا، لیکن انھیں اس جانب رغبت دلائی ہے، اہل رضا کی تعریف کی ہے، نیز یہ بھی بتایا ہے کہ اس کا ثواب رضائے الہٰی ہے جو جنت اور اس کی نعمتوں سے بڑھ کر ہے، چنانچہ جو اپنے رب سے راضی ہو جاتا ہے رب اس سے راضی ہو جاتا ہے، بلکہ اللہ سے بندے کی رضا مندی اس سے اللہ کی رضا مندی کا نتیجہ ہوتی ہے، چنانچہ بندہ رب کی دو رضامندیوں سے گھرا ہوتا ہے، اس کے دل کی رضا جس نے اس پر لازم کر دیا کہ وہ اپنے رب سے راضی ہو جائے، اس کے بعد کی رضا جو رب سے بندے کی رضا مندی کا ثمرہ ہے، اسی لیے رضا اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا سب سے بڑا دروازہ، دنیاوی جنت، عارفین کے لیے باعث راحت، محبت کرنے والوں کی زندگی، عبادت گزاروں کی نعمت، شوق دید رکھنے والوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔


صفحہ 2 از 2