سیدنا حسن اور ابوذر رضی اللہ عنہما کے نزدیک رضا کا مفہوم -…

سیدنا حسن اور ابوذر رضی اللہ عنہما کے نزدیک رضا کا مفہوم

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

ابوالعباس محمد بن یزید مبرد کا قول ہے: سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے کہا گیا کہ ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے نزدیک غربت مالداری سے اور بیماری تندرستی سے زیادہ محبوب ہے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ ابوذر رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے، میں تو کہتا ہوں: جس نے بھی اپنے لیے اللہ کے حسن اختیار پر بھروسا کرلیا وہ اپنے لیے منجانب اللہ منتخب کردہ حالت کے علاؤہ کی تمنا نہیں کرے گا، یہی قضا و قدر پر راضی ہونے کا مفہوم ہے۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 11 صفحہ 199)

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما اپنی اس گفتگو میں اعمال قلوب میں سے ایک عمل کو بیان کر رہے ہیں، یہ اس اہم عمل سے ان کی آگاہی کی دلیل ہے، چنانچہ اعمالِ قلوب میں رضا کی اہمیت وہی ہے جو اعمال جوارح میں جہاد کی ہے، ان میں سے ہر ایک ایمان کے اعلیٰ مقام پر فائز ہے۔

(مدارج السالکین: جلد 2 صفحہ 214)

رضا محبت الہٰی کا ثمرہ ہے، یہ اللہ کے مقربین کا اعلیٰ مقام ہے، مگر اکثر لوگ اس کی حقیقت سے ناآشنا ہوتے ہیں، یہ اللہ تک رسائی کا اہم ذریعہ، عارفین کے دل کی ٹھنڈک اور دنیا کی جنت ہے، اس لیے جو اپنے آپ کا خیرخواہ ہو اس سلسلے میں اس کی رغبت شدید ہونی چاہیے، اس کے بدلے کسی اور چیز کو قبول نہ کرے، بندے سے اللہ کی رضا مندی جنت و ما فیہا سے بہتر ہے، اس لیے کہ رضا اللہ کی صفت ہے اور جنت اس کی مخلوق ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے اس قول:

وَعَدَ اللّٰهُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا وَمَسٰكِنَ طَيِّبَةً فِىۡ جَنّٰتِ عَدۡنٍ‌ ۞ (سورۃ التوبة آیت 72)

ترجمہ: اللہ نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے وعدہ کیا ہے ان باغات کا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اور ان پاکیزہ مکانات کا جو سدا بہار باغات میں ہوں گے۔ 

کے بعد فرمایا: وَرِضۡوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكۡبَرُ‌ ذٰلِكَ هُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ۞ (سورۃ التوبة آیت 72)

ترجمہ: اور اللہ کی طرف سے خوشنودی تو سب سے بڑی چیز ہے۔ (جو جنت والوں کو نصیب ہوگی) یہی تو زبردست کامیابی ہے۔

یہ رضا مندی ان لوگوں کا بدلہ ہے جن سے اللہ تعالیٰ دنیا میں راضی رہا، اور جب یہ بدلہ سب سے اچھا بدلہ ہے تو اس کا سبب سب سے افضل عمل ہوگا، اور عدم رضا ہموم و غموم، دل کی پراگندگی، پریشان حالی اور اللہ کے بارے میں سوء ظن کا ذریعہ ہے، رضا سے انسان ان تمام چیزوں سے نجات پاجاتا ہے، اس سے اس کے لیے اخروی جنت سے پہلے دنیوی جنت کا دروازہ کھل جاتا ہے، رضا سے اس کو اطمینان، دلی سکون اور ٹھنڈک حاصل ہوتی ہے، عدم رضا دل کے اضطراب، شک، جھنجھلاہٹ اور بے اطمینانی کا موجب ہے، عدم رضا سے بندے کی حالت اللہ کے تئیں ایک نہیں رہتی، چنانچہ وہ وہی چیزیں پسند کرتا ہے جو اس کے مزاج اور طبیعت کے موافق ہوں جب کہ من جانب اللہ مقدر امور حسبِ تقدیر ہی وجود پذیر ہوتے ہیں چاہے اس کی طبیعت کے موافق ہوں یا نہ ہوں، اس کی طبیعت کے خلاف وجود پذیر ہونے والے امور اس کو ناراض کر دیتے ہیں، چنانچہ وہ عبودیت پر برقرار نہیں رہ پاتا، انسان جب ہر حال میں اپنے رب سے راضی ہوتا ہے تو وہ عبودیت پر برقرار رہتا ہے، اس لیے بندے کی بے قراری رضا ہی سے ختم ہوسکتی ہے، رضا سے دل صرف اللہ کے لیے فارغ ہو جاتا ہے، اور عدم رضا سے دل اللہ سے بالکل بیزار ہو جاتا ہے، جس کا دل رضا سے بھرپور ہوگیا، اللہ تعالیٰ اس کے سینے کو قناعت، غنا اور امن سے بھر دیتا ہے، اس کے دل کو اپنی محبت، اپنی جانب رجوع اور توکل کے لیے فارغ کر دیتا ہے، اور جو رضا سے محروم رہا اس کا دل مذکورہ چیزوں کی ضد سے بھر جاتا ہے، سعات و کامیابی کی چیزوں سے دور ہو جاتا ہے، ابتدائی رضا بندہ اپنی کوشش سے حاصل کرتا ہے، یہ من جملہ مقامات میں سے ہے، اور انتہائی رضا من جملہ احوال میں سے ہے جسے بندہ اپنی کوشش سے نہیں حاصل کرتا، اس طرح اس کی ابتداء مقام ہے اور اس کی انتہا حال ہے، رضا والوں کی اللہ تعالیٰ نے تعریف کی ہے، انھیں اس کے لیے آمادہ کیا ہے، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انھیں اس کی قدرت حاصل ہے، فرمان نبویﷺ ہے:

ذَاقَ طَعْمَ الْاِیْمَانِ مَنْ رَضِیَ بِاللّٰہِ رَبَّا وَّ بِالْاِسْلَامِ دِیْنًا وَّ بِمُحَمَّدٍ رَسُوْلَہٗ

(صحیح مسلم: جلد 1 صفحہ 62، رقم: 43)

’’اسے ایمان کی مٹھاس مل گئی جو اللہ سے بحیثیت رب اور اسلام سے بحیثیت دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بحیثیت رسول راضی ہوگیا۔‘‘

نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مَنْ قَالَ حِیْنَ یَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ: وَ أَنَا أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہٗ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ، رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَبَّا، وَّ بِمُحَمَّدٍ رَسُوْلًا وَّ بِالْاِسْلَامِ دِیْنًا غَفَرَاللّٰہُ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذُنُوْبِہِ۔

(صحیح مسلم: جلد 1 صفحہ 290، رقم: 386)

’’مؤذن کے اذان کو سن کر جس نے کہا: اور میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ معبود حقیقی صرف اللہ وحدہٗ لا شریک ہے اور اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اسی کے بندے اور رسول ہیں، میں اللہ سے بحیثیت رب، محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بحیثیت رسول اور اسلام سے بحیثیت دین راضی ہوگیا تو اللہ تعالیٰ اس کے سابقہ گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔‘‘

ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: انھی دونوں حدیثوں پر دین کے مقامات کا دار و مدار ہے، اور انھی پر انتہا ہے، یہ دونوں حدیثیں اللہ کی ربوبیت و الوہیت، رسول کی اطاعت، اور دین سے راضی ہونے کو شامل ہیں۔ جس کو بھی یہ چار چیزیں میسر ہو جائیں وہ بلاشبہ صدیق ہے، زبان سے ان چیزوں کا دعویٰ سب سے آسان ہے، لیکن حقیقت میں اور امتحان کے وقت بہت مشکل ہے، بالخصوص جب مزاج اور طبیعت کے خلاف کوئی معاملہ ہو تو اس وقت معلوم ہوتا ہے کہ رضا کا دعویٰ زبانی تھا نہ کہ حقیقی۔

صفحہ 1 از 2