چودہواں مسئلہ
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہمزی، ودی، عضو مخصوص سے جو رطوبت خارج ہوتی ہے وہ پلید ناقص الوضو ہے لیکن شیعہ مذہب میں مدی اور ودی جو شرم گاہ سے خارج ہوتی ہے اسے وضو نہیں ٹوٹتا نہ نماز فاسد ہوتی ہے اگر بہہ کر ایڑیوں تک چلی جائے شرمگاہ کو دھونے کی حاجت نہیں ہے چنانچہ فروعِ کافی: جلد، 1 صفحہ، 21 میں ہے:
عَنْ زَرَارَةَ عَنْ أَبِی عَبْدِاللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ سَالَ من ذَكَرِكَ مِنْ مذى أَوْ وَدِىِّ وَأَنْتَ فِی الصَّلوٰةِ فَلَا تَغْسِلَهٗ وَلَا تَقْطَعِ الصَّلوٰةِ وَلَا تَنْقُضَ لَهٗ الْوُضُوْء وَاِنْ بَلَغَ عَقَبَيْكَ فَاِنَّمَا ذٰلِکَ بِمَنْزَلَةِ النَّخامَةِ۔
ترجمہ: سیدنا جعفر صادقؒ نے فرمایا اگر تیرے ذکر سے مذی یا مدی خارج ہو جب تم نماز پڑھ رہے ہو تو اس کو مت دھو اور نماز کو مت توڑو وضو بھی شکست نہ سمجھو اگرچہ یہ بہہ کر تمہاری ایڑیاں تک جا پہنچے کیونکہ یہ ایسا ہے جیسا ناک کا پانی بہنا۔
من لا یحضره الفقیہ: صفحہ، 13 میں ہے:
كَانَ اَمِيْرُ الْمُؤْمِنِينَ عَلَيْهِ لَايَرىٰ فِى الْمَذِىَّ وَضُوَّ لَا غَسَلَ مَا اَصَابَ مِنْهُ وَرُوِىَ أنّ الْمَذِىَّ وَالْوَدِىَّ بِمِنْزِلَةِ الْبُصَاقِ وَ الْمُخَاطِ فَلَاالْمَذِىَّ مِنْهما الثَّوْابُ وَلَا اِلِّا حَليْلٍ۔
ترجمہ: سیدنا جعفر صادقؒ مذی میں وضو کا حکم نہ دیتے تھے اور نہ اس چیز کو دھونے کا جس کو مذی لگی ہو اور روایات کیا گیا ہے کہ مذی اور ودی تھوک یا ناک کے پانی کا حکم رکھتی ہے بس جس کپڑے کو لگ جائے اسے دھونے کی حاجت نہیں ہے بلکہ شرمگاہ جہاں سے یہ پلیدی نکلی ہے وہ بھی دھونے کی ضرورت نہیں واہ شیعہ! پاک مذہب کا کیا کہنا منہ ناک اور شرمگاہ کو یکساں بنا دیا جیسے منہ اور ناک سے نکلی ہوئی رطوبت پاک ہے ویسے ہی اس ناپاک عضو مخصوص سے نکلی ہوئی رطوبت بھی پاک ہے کوئی جانے تو کیا جانے کوئی سمجھے تو کیا سمجھے۔