تیرواں مسئلہ خنزیر کے بال چمڑا وغیرہ
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہمسلمان خنزیر کو ایسا نجس سمجھتے ہیں کہ اس کا نام لینے سے بھی نفرت ہے لیکن شیعہ حضرات خنزیر کے بال پشم چمڑے کو پاک سمجھتے ہیں چنانچہ خنزیر کے بالوں کی رسی بنا کر کنویں سے پانی نکال کر پینا کوئی حرج نہیں نیز خنزیر پہ چمڑا ا کا ڈول بنا کر استعمال کیا جا سکتا ہے روایات میں ملاحظہ ہو:
1: فروعِ کافی: جلد 1 صفحہ 4 میں ہے:
عَنْ زَرَارَهَ عَنْ أَبِی عَبْدِاللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ سَالَتَهٗ مِنَ الْحبْلِ يَكُوْنُ مِن شَعرِ الْخِنْزِيْر يستقىٰ بِهِ الْمَاءُ مِنَ الْبِيْر هَلْ يُتَوضَّاءُ مِن ذَالِكَ الْمَاء قَالَ لَابَاسَ۔
ترجمہ: زرارہ کہتے ہیں میں نے سیدنا صادقؒ سے دریافت کیا کہ خنزیر کے بالوں کی رسی سے کنویں سے پانی نکال کر اسے وضو کیا جا سکتا ہے آپ نے کہا کچھ حرج نہیں۔
2: فروعِ کافی: جلد، 2 جز، 2 صفحہ، 103 میں ہے:
قَالَ فقلتُ لَهٗ فَشعُر الْخِنْزِيْرِ يَعْمَلُ حَبلاً وَّ يُسْتَقىٰ بِهٖ مِنَ الْبِيْرِ الَّتِی يُشْربُ مِنْهَا اَوْ يتوَّضُآءُ مِنْهَا قَالَ لَابَاسَ بِهٖ وَزَادَ فِيْهِ علَُىِ بْن عُقْبَه وَعلىُّ بْنُ الْحُسَيْنُ بْن رِبَاطٍ قَالَ والشَّعرُ والصُّوْفُ كُلُّهٗ زَكِى۔
ترجمہ: راوی کہتا ہے میں نے سیدنا صادقؒ سے پوچھا خنزیر کے بالوں کے رسی بنا کر کنویں سے پانی نکالا جائے جس سے پانی پیا جائے یا وضو کیا جائے کہا اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور علی بن عقبہ اور علی بن حسین بن رباب نے یہ ازاد کیا ہے فرمایا کہ خلیل کے بعد اور پشم سب پاک ہے۔
3: من لایحضرہ الفقیہ: صفحہ، 50 میں ہے۔
(سٌئلِ اَبٍوْجَعْفَرَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَاَبُوْ عَبْدِ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقِيْلَ لَهُمَا أنَّا نَشترَىْ ثِيَابًا يُصِیْبُهَا الْخَمْرُ وَ وَدَكَ الْخِنْزِيْر أبعد حِكِّهَا انُصَلِّىُ فِيْهَا قَبْلَ أَنْ نَغْسِلَهَا فَقَالَا نَعم لَا لَابَاس إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ اَكله وَشَْرْبَهٗ وَلَمْ يُحَرِّمُ لَبٌسَهٗ وَمسَّهُ وَ الصَّلوٰةَ فِيْهَا۔
ترجمہ: سیدنا محمد باقرؒ اور سیدنا جعفر صادقؒ سے دریافت کیا گیا کہ ہم ایسے کپڑے خرید لیا کرتے ہیں کہ ان کو خنزیر کی چربی اور شراب لگا ہوا ہوتا ہے کیا ان کو چھیل کر دھوئے بغیر نماز ان میں بھی پڑھی جا سکتی ہے انہوں نے کہا بے شک خدا نے خنزیر کا کھانا اور شراب کا پینا حرام کیا ہے ان سے ملوث کپڑے پہن لینا یا چھونا اور ان سے نماز پڑھنا منع نہیں ہے خوب! یہ شیعہ پاک مذہب کی برکات ہیں کہ کپڑے کو خنزیر کی چربی لگی ہو یا شراب سے آلودہ ہو اس کو خوشی سے استعمال کرنا کچھ مضائقہ نہیں ہے ان اشیاء کا کھانا پینا حرام ہے ویسے برت لینا منع نہیں ہے۔