گیارواں مسئلہ میت پر بددعا
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہایک مشہور کہاوت ہے مرے ہوئے کو مارے شاہ مدار مرے ہوئے شخص سے کسی کو بیر باقی نہیں رہتا ہر ایک متنفس کو اس حالت کی اس کی حالت پر رحم آتا ہے اور اس کے لیے دعاءِ خیر کرتا ہے لیکن یہ حضرات ایسے صاف باطن ہیں کہ میت شیعہ نہ ہو بلکہ سنی ہو تو اس کے جنازے میں کھڑے ہو کر بجائے دعا کے بد دعا کرتے ہیں جیسا کہ ہم بروایت تحفۃ العلوم ثابت کر چکے ہیں، اور غضب یہ ہے کہ ائمہ طاہرین کے ذمہ بھی الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ بھی ایسا کیا کرتے تھے چنانچہ فروع کافی: صفحہ، 99 جلد، 1 میں ہے:
عَنْ اَبِىْ عَبْدِاللّٰهَ عَلَيْهِ السَّلَامُ اِنَّ رَجُلاً مِنَ الْمُنٰفِقِیٌنَ مَاتَ وَخَرَجَ الحُسَين بْنُ عَلىٍّ صَلوٰت اللّٰه عَلَيْهِ يَمْشِى وَلَقِيَهٗ مَوْلىَ لَّهٗ فَقَالَ لَهٗ الْحُسَيْنُ عَلَيْهِ السَّلَامُ ايْنَ تَذْهَبُ يَا فَلَانُ قَالَ فَقَال لَهُ مُذلهُ اَفِرُّ مِن جَنازةِ هٰذَا الْمُنَافِقِ أَنْ اُصَلِىْ عَلَيهَا فَقَال الْحُسَيْنُ اُنْظُر أَنْ تَقُوْمَ عَلىٰ يَمْيْنى فَمَاسَمِعْتنى اَقوْلُ فَقُلْ مِثْلَهٗ فَلَمَّا أَنْ كَبَّرَ عَلَيْهِ الِامَامُ اللّٰه اَكْبَرَ قَالَ اَلَّهُمَّ العَنْ فَلَانَا عَبْدَكَ اَلفَ الفِ لَعْنَةٍ مُوْتَلَفَة غَيْرَ مُختِلِفَةٍ اَلَّهُمَّ اَخْرِ عَبْدِكَ فِی عِبَادِكَ وَبَلَادِكَ وَ اَصْلِهٖ حَرَّ نَارِكَ اَذِقَهُ اَشَدَّ عَذَابِِكَ فَاِنَّهٗ كَانَِ يَتَوَلّٰى اَعدَاءكَ وَيُعَادىْ اَوليَاءَكَ وَيُبُغِضُ اَهْلَ بَيْتِ نَبِيِّكْ۔
ترجمہ: سیدنا صادق رحمۃاللہ سے روایت ہے کہ ایک منافق مر گیا حضرت حسین رضی اللہ عنہ جنازے کے ہمراہ چلے جا رہے تھے کہ آپ کا غلام راستہ میں مل گیا امام نے پوچھا کہاں جاتا ہے کہا میں اس کے جنازے سے بھاگتا ہوں اس پر نماز پڑھنا نہیں چاہتا آپ نے کہا دیکھ میری دہنی جانب کھڑا ہو جانا اور جو کچھ میں کہوں تو بھی کہتے جانا جب تک تکبیر ہوئی سیدنا حسینؓ نے یوں کہا الٰہی تو اپنے فلاں فلاں بندے کو ہزار ہزار لعنتیں کر جوڑی ہوئی الگ الگ نہ ہوں الٰہی تو اپنے اس بندے کو اپنے بندوں اور شہروں میں رسوا کر اور آگ کی گرمی میں تپا اور اس کو سخت عذاب چکھا یہ تیرے دشمنوں سے دوستی اور دوستوں سے دشمنی کرتا تھا اور تیرے نبی کے اہلِ بیتؓ کا دشمن تھا۔
جائے غور ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ ایسے بے رو وریاء شخص کو جس نے یزید کی بیت نہ کرنے کے باعث اپنے اور اپنے اہلِ بیتؓ کا سر کٹا دیا ایک منافق کے جنازہ پڑھنے کی ضرورت ہی کیا تھی جس کی وجہ سے حاضرینِ جنازہ دھوکے میں پڑ جائیں کہ یہ تو کوئی بڑا پکا سچا مسلمان تھا اس کے جنازہ میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ جیسے برگزیدہ امام بانفس نفیس تشریف لائے اور اس کے جنازے کی نماز ادا فرمائی غلام کے سواء کسی اور شخص کو کیا معلوم تھا کہ چپکے چپکے آپ کیا کہہ گئے دعاء دی یا بد دعاء کرتے تھے۔
دوم: نمازِ جنازہ تو صرف دعاء کے لیے ہوتی ہے اگر سیدنا حسینؓ کو اس کم بخت میت کے لیے بددعاء کرنا ہی منظور تھی تو گھر میں بیٹھ کر کر سکتے تھے جنازے پر آنے کی کیا ضرورت تھی امام والا مقام کی بددعاء گھر بیٹھے ہی تیر بہدف تھی دیکھیے کیسی کیسی بےہودہ روایات گھڑ کر ائمہ کرام کے ذمہ اتہام لگاتے ہیں بھلا جس شخص کے نانا رسول اللہﷺ کی یہ شان ہو کے ایک منافق کے جنازے پر جائے تو اس کے لیے طلب مغفرت کریں حتیٰ کہ اللہ رب العزت فرمائیں کہ اگر 70 دفعہ بھی اس نام بےکار کے لیے استغفار کی گئی تو یہ بھی بخشا نہ جائے گا قربان جائیں اس نبی رؤف رحیم کے آپ ﷺ فرمانے لگے میں 71 دفعہ استغفار کرتا اگر اس سے بخش جاتا پھر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اپنے جدامجد کے خلاف ایسی سنگ دلی کریں گے کہ میت کے جنازے پر دعاء کرنے کے لیے مدعو ہوں اور الٹا بد دعاء کرنے لگیں۔ استغفر اللہ!