سیدنا حسن اور ان کے بھائی حسین رضی اللہ عنہما سے لوگوں کی محبت اور مسجد حرام میں ان کے اردگرد لوگوں کی بھیڑ
علی محمد الصلابیابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ امام کے ساتھ عصر کی نماز پڑھ کر حجر اسود کے پاس آئے، اس کا استلام کیا، پھر سات چکر طواف کیا اور دو رکعت نماز ادا کی، لوگوں نے کہا: یہ دونوں نواسۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، لوگوں نے ان کے اردگرد بھیڑ لگا دی یہاں تک کہ ان کا آگے بڑھنا مشکل ہوگیا، ان کے ساتھ ایک رکانی (یہ نسبت ہے رکانہ بن عبدیزید بن ہاشم بن عبدالمطلب بن عبدمناف کی جانب ہے جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو مرتبہ کشتی ہوئی تھی، جیسا کہ القاموس کے مادہ ’’ر ک ن‘‘ میں ہے۔) شخص تھا، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے اس کا ہاتھ پکڑا اور لوگوں کو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچنے سے روکا، میں نے دونوں کو دیکھا کہ جب بھی حطیم کی جانب سے ہوتے ہوئے رکن یمانی کے پاس سے گزرتے تو اس کا استلام کرتے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے ابوسعید رضی اللہ عنہ سے کہا: تب تو دونوں سات چکر پورا نہیں کر پائے ہوں گے کہ نماز کا وقت ہوگیا ہوگا؟ کہا: نہیں، دونوں نے پورے سات چکر لگا لیے تھے۔
(تاریخ ابن عساکر: جلد 14 صفحہ 69)