Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

نواں مسئلہ

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

یہ مسئلہ بھی مسلم ہے کہ علم ما كَانَ وَ مَا يَكُون خاصہ ذاتِ باری ہے مگر شیعہ کہتے ہیں کہ ائمہ کو یہ سب معلومات حاصل ہیں اصولِ کافی صفحہ 159 میں باب ہی یوں باندھا ہے: بَابُ اَنَّ الاَئِمَة عَلَيْهِمُ السَّلامُ يَعْلَمُونَ عِلْمً مَا كَانَ وَ مَا يَكُون وَاِنَّهٗ لا يَخْفى عَلَيْهِمْ شَیٌ۔

ترجمہ: باب اس کا کہ ائمہ کو علم ماکان وما یکون حاصل ہوتا ہے اور ان پر کوئی امر کائنات سے مخفی نہیں ہے۔

کتاب مذکور کے صفحہ 160 میں ہے:

سَمِعُو اَبَا عَبْدِاللّٰهِ عَلَيْهِ السَّلام يَقُولُ انِّی لَا اعْلَمَ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ وَاعْلَمُ مَا فِی الْجَنَّةِ وَ اَعْلَمُ مَا فِی النَّارِ وَاَعْلَمُ مَا كَانَ وَ مَا يَكُونُ۔ 

ترجمہ: سیدنا صادقؒ نے فرمایا کہ جو کچھ آسمان و زمین میں سے ہے سب کچھ جانتا ہوں اور گزشتہ اور آئندہ کل واقعات دنیا کا بھی مجھے علم ہے۔