Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

تقیہ کی ایجاد

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

 موجدانِ مذہبِ شیعہ نے جب یہ دیکھا کہ جناب امیرؓ کے خطبات اور ائمہ اہلِ بیتؓ کے اقوال سے اصحابِ ثلاثہؓ کی تعریف بے حد پائی جاتی ہے اور جناب امیرؓ عہدِ خلافتِ اصحابِ ثلاثہؓ میں ان کے شیر و شکر رہے اور ہر معاملہ میں ان کے مشیر با تدبیر رہے ان کے پیچھے نمازیں پڑھتے رہے، مالِ غنائم سے حصہ لیتے رہے، اور ماہانہ وظائف نقد و جنس حاصل کرتے رہے پھر کس طرح یقین کیا جائے کہ اصحابِ ثلاثہؓ سے وہ ناراض اور ان کی خلافت کو ناجائز سمجھتے تھے؟ اس کے جواب کے لیے انہوں نے مسئلہ تقیہ ایجاد کیا کہ یہ سب کچھ جناب امیرؓ اور اہلِ بیتؓ کا تقیہ تھا اور بےحد فضیلت رکھتا ہے اور دین کے دس اجزاء میں سے 9 اجزاء تقیہ میں ہیں اور تمام ائمہ بلکہ انبیاء علیہم السلام کا دین اور ایمان تقیہ ہی تھا چلو چھٹی ہوئی جاہل مریدوں کی تسکینِ خاطر کے لیے تقیہ کی پڑیا کافی ہے یہاں تک کہہ دیا کہ ائمہ اہلِ بیتؓ نے فرما دیا ہے کہ دینِ حق ظاہر کرنے کے لیے نہیں بلکہ چھپانے کے لیے ہوتا ہے۔ اصولِ کافی صفحہ 475 میں ہے کہ سیدنا جعفر صادقؒ نے اپنے ایک خاص شیعہ کو یوں فرمایا يَا سُلَيْمَانُ إِنَّكُمْ عَلىٰ دِينِ مَنْ كَتَمَهٗ اَعَزَهُ اللّٰه وَمَنْ اَذَاعَهٗ اَذلَّهُ اللّٰه۔

ترجمہ: اے سلیمان تم ایسے دین پر ہو جو اس کو چھپائے اللہ اس کو عزت دے گا اور جو اس کو ظاہر کرے خدا اس کو ذلیل کرے گا۔

دوسری جگہ اس کتاب کے صفحہ 556 میں ہے:

عَنْ اَبِی عَبْدِاللّٰهِ عَلَيْهِ السَّلَام منْ اَذَاع عَلَيْنَا شَيْئًا مِنْ امرنَا كَمَنْ قَتَلنَا عَمَدًا وَلَمْ يَقْتُلنَا خَطَاءً۔

ترجمہ: سیدنا صادقؒ نے فرمایا جو شخص ہمارے مذہب میں سے کچھ ظاہر کر دے گویا اس نے ہمیں عمداً قتل کر دیا نہ خطاءً۔

نیز کتابِ مذکور کے صفحہ551 میں ہے کہ: 

مَنْ اَذاعَ عَلَيْنَا حديثًا سَلَبَهٗ اللّٰهُ الْاِيْمَانَ۔

ترجمہ: سیدنا صادقؒ نے فرمایا جو ہماری حدیث کو ظاہر کر دے خدا اس کا ایمان چھین لیتا ہے۔

ہر ایک عاقل ذی بصیرت سمجھ سکتا ہے کہ یہ حدیثیں یار لوگوں کی گھڑت ہیں ورنہ ائمہ دین ایسا کیوں کہیں، کہ حق کے اظہار سے ایمان جاتا رہتا ہے اور مذہب اور دین کی اشاعت موجبِ قہرِ الٰہی اور اس کا کتمان باعثِ خوشنودی خدا ہے اور ائمہ حدیث یا ان کا مذہب ظاہر کر دینا ایسا ہے جیسا ان کو عمداً قتل کر دینا ہاں یہ درست ہے کہ روافض کا مذہب ضرور چھپانے کے قابل ہے اس کی تشہیری باعث فتنہ و فساد اور امن عامہ میں خلل اندازی کا موجب ہے اور مذہبِ روافض ہرگز ہرگز مذہبِ اہلِ بیتؓ نہیں بھلا جس مذہب میں امہات المومنین (ازواجِ رسول) کو گالیاں دینا ان کو لعنت تبرا بھیجنا جائز بلکہ داخل عبادت ہو وہ کبھی اہلِ حق کا مذہب کہلا سکتا ہے؟ شاعر نے خوب کہا ہے۔

رکھیں جو ناخلف بغض و حسد امت کی ماؤں سے 

انہیں پھر آبِ کوثر شیر مادر ہو نہیں سکتا