Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

خاندان نبویﷺ میں غیرت

  علی محمد الصلابی

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما اپنی ایک ضرورت سے بازار گئے، دکان والے سے ایک سامان کا بھاؤ پوچھا، اس نے عام بھاؤ بتایا، پھر اسے معلوم ہوا کہ آپ نواسۂ رسولﷺ حسن بن علی رضی اللہ عنہما ہیں، چنانچہ سیدنا حسنؓ کے اعزاز و اکرام میں بھاؤ کم کردیا، لیکن سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے اسے قبول نہ کیا، ضرورت کی چیز چھوڑ کر چلے گئے، اور فرمایا: مجھے یہ پسند نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک اپنے مقام و مرتبہ کا کسی معمولی چیز میں فائدہ اٹھاؤں۔

(المرتضیٰ للندوی: صفحہ 228)

یہی حال کتاب اللہ و سنت رسولﷺ پر عامل تمام اہل بیت کا تھا، چنانچہ سیدنا زین العابدین علی بن حسین رحمہ اللہ کے بارے میں جویریہ بن اسماء جو آپ کے خادم خاص تھے کہتے ہیں: سیدنا علی بن حسین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی قرابت کے عوض کبھی ایک درہم تک نہیں کھایا۔

(البدایۃ والنھایۃ نقلا عن المرتضیٰ للندوی: 228)

جب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سفر کرتے تو اپنے آپ کو ظاہر نہیں کرتے تھے، اس سلسلے میں ان سے پوچھا گیا تو فرمایا: مجھے یہ چیز پسند نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے باعث وہ چیز لے لوں جو مجھے عام حالات میں نہ دی جائے۔

(وفیات الأعیان: جلد 2 صفحہ 434)

اسی طرح ابوالحسن علی رضا بن موسیٰ کاظم کے بارے میں مروی ہے کہ جب وہ سفر کرتے تو اپنے آپ کو ظاہر نہیں کرتے تھے، اس سلسلے میں ان سے پوچھا گیا تو بتایا کہ مجھے یہ چیز ناپسند ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے وہ چیز لے لوں جو مجھے عام حالات میں نہ دی جائے۔

(وفیات الأعیان: جلد 2 صفحہ 434)

یہ اہل بیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی قرابت کے بارے میں کافی غیرت مند تھے، دنیاوی مقاصد کے لیے اس قرابت کا استغلال نہیں کرتے تھے، جیسا کہ دوسرے ادیان کے رہنماؤں(جنھیں لوگ ہر حال میں مقدس سمجھتے ہیں) کے خاندان والے کرتے ہیں۔ وہ لوگ اہل بیت کے نام پر دنیا کمانے اور ان کی لاشوں پر فخر کے محل تعمیر کرنے سے دور رہتے تھے، ان کی شانِ استغناء و عزت نفس ان کی سیرت و سلوک کی ایسی تصویر پیش کرتی ہے جو دوسرے ادیان و ملل میں دین کے ٹھیکے داروں برہمنوں اور پجاریوں کی سیرت سے بالکل مختلف ہے۔ پیدائشی طور سے انھیں عظمت و تقدس حاصل ہوتی ہے، انھیں معاش اور زندگی کی دیگر ضروریات کے حصول کے لیے کچھ بھی محنت اور مشقت کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔

(المرتضیٰ للندوی: صفحہ 228)