حضرت محمد باقر و جعفر صادق رحمہما اللہ
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہان حضرات پر تو شیعہ صاحبان کی انتہا سے زیادہ عنایت ہے بلکہ وہ اپنے مذہب کا دار و مدار ہی حضرت جعفر و باقر رحمہما اللہ پر رکھتے ہیں۔ ان حضرات کی نسبت جو جو اتہام شیعہ صاحبان نے لگائے ہیں سن کر تعجب آتا ہے۔
1: حضرت محمد باقرؒ کی نسبت شیعہ کی معتبر کتاب من لا يحضره الفقيہ: جلد 1، صفحہ 10 میں لکھا ہے:
دخل ابو جعفر الباقر فی بيت الخلاء فوجد لقمة فی القدر فاخذها وغسلها ودفعها الى مملوك كان معه فقال تكون معك لا كلها اذا خرجت فلما خرج قال للمملوك اين اللقمة قال اكلتها يا بن رسول الله.....
ترجمہ: امام محمد باقر بیت الخلا (پاخانہ) میں داخل ہوئے تو وہاں ایک روٹی کا ٹکڑا گونہہ میں پڑا ہوا دیکھا۔ آپ نے اُٹھا کر دھو لیا اور اپنے غلام کے حوالہ کیا کہ اسے محفوظ رکھنا جب میں باہر نکلوں گا اسے کھاؤں گا۔ جب آپ باہر نکلے تو نوکر سے ٹکڑا مانگا اس نے کہا حضرت وہ تو میں نے کھا لیا۔ آپ نے کہا جا میں نے تجھے آزاد کیا کیونکہ تو ٹکڑے کے کھانے سے جنتی ہو گیا اور جنتیوں سے خدمت نہیں لیا کرتے۔
دیکھیے! یہ کیسا الزام حضرت والا مقام پر ہے کہ آپ گونہہ سے ملوث ٹکڑا کھا لینا جائز سمجھتے تھے۔ بلکہ اس میں الٹا ثواب سمجھتے کہ کھانے سے جنت مل جاتی ہے۔ بھائی جنت تو پاک ہے۔ پھر ناپاک چیز کے کھانے سے کیسے مل سکتی ہے؟
2: کیا حضرت پہلے جنتی نہ تھے؟ گونہہ سے ملوث ٹکڑا کھا کر جنتی بننا چاہتے تھے؟
3: یہ بھی عجیب بات ہے کہ جنت ایسی ارزاں ہو گئی ہے کہ صرف ایسے متعفن لقمہ کھانے سے مل جاتی ہے۔ بہر حال حضرت کی طرف ایسی روایت منسوب کرنا ان کی ذات اقدس کی ازحد توہین ہے۔
ان ابا جعفر عليه السلام كان يقول من كان يؤمن بالله واليوم الاخر فلايدخل الحمام الا بميزر قال فدخل ذات يوم الحمام فتنور فلما ان اطبقت النورة على بدنه القى الميزر فقال له مولى له بابی انت وامی انك لتوصينا بالميزر ولقد القيته عن نفسك فقال اما علمت ان النورة اطبقت العورة
فروع کافی: جز 2، جلد 2، صفحہ 61
ترجمہ: امام باقر علیہ السلام کہا کرتے تھے کہ جو خدا اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ حمام میں تہ بند باندھے بغیر داخل نہ ہوا کرے۔ ایک روز آپ حمام میں داخل ہونے لگے تو اپنی شرمگاہ کو آپنے چونہ لگا دیا جب چونہ لگا چکے تو تہ بند کھول کر پھینک دیا۔ غلام نے عرض کی میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ تو ہمیں تہ بند باندھنے کا ضروری حکم دیا کرتے تھے آج آپ نے تہ بندا اتار کر پھینک دیا ہے۔ فرمانے لگے تجھے معلوم نہیں ہے کہ چونہ نے شرمگاہ کو چھپا لیا۔
توبہ! توبہ! ائمہ پاک کے ذمہ یہ کیسا افتراء ہے کہ لوگوں کو تہ بند باندھے حمام میں داخل ہونے کا حکم دیتے تھے اور خود شرمگاہ کو چونہ لگا کر تہ بند پھینک کر اپنے غلام کے سامنے ننگ دھڑنگ کھڑے ہوئے اور اس کے معترض ہونے پر یہ جواب با ثواب دیا کہ چونہ لگا لینا ستر عورت کے لیے کافی ہے۔ کیا ایسی حرکت بھی کوئی باحیا آدمی کر سکتا ہے؟ ایسی بیہودہ روایات آپ کے ذمے لگا کر آپ کی ہتک کی جاتی ہے۔ استغفر اللہ۔ ایک اور سنیے۔
3: فروع کافی: جلد 2، جز 2، صفحہ 60 میں ہے:
عن ابی حسن الماضی قال العورة عورتان القبل والدبر اما الدبر فمستور بالا ليتين فاذا سترت القضيب والبيضتين فقد سترت العورة وقال فی رواية اخرى فاما الدبر فقد سترته الاليتان فاما القبل فاستره بيدك۔
ترجمہ: امام ابو الحسن ماضی فرماتے ہیں کہ شرمگاہیں صرف دو ہیں اگلی اور پچھلی لیکن پچھلی تو خود چوتڑوں میں چھپی ہوئی ہے پس جب تو نے ذکر اور خصیتین کو چھپا لیا تو تو نے اپنی شرمگاہ کو چھپالیا اور دوسری روایت میں ہے کہ دبر کو تو چوتڑوں نے چھپا لیا ہے اور اگلی کو فقط ہاتھ سے چھپا لو بس سترِ عورت ہو گیا۔
لاحول ولاقوۃعن! امامانِ پاک کا درجہ تو بہت رفیع ہے کوئی باحیا شخص ایسا حکم نہیں دے سکتا کہ انسان سرتا پاننگا صرف ذکر پر ہاتھ رکھ کر کھڑا ہو جائے۔
4: اسی فروع کافی: جز 2، جلد 2، صفحہ 61 میں ہے۔
عن ابی عبدالله عليه السلام قال النظر الى عورة من ليس بمسلم مثل نظرك الى عورة الحمار۔
ترجمہ: سیدنا صادقؒ نے فرمایا کافر مرد یا عورت کی شرمگاہ کو دیکھ لینا ایسا ہے جیسا گدھے کی شرمگاہ دیکھ لینے میں مضائقہ نہیں ہے۔
واه چہ خوش! حضرات شیعہ اپنے ائمہ عظام کی طرف کیسے عجیب مسائل منسوب کرتے ہیں کہ مسلمان مرد اور عورت کی شرمگاہ تو چونہ سے ڈھانپ لینا چاہیے ہاں کافر مرد عورت کی شرم گاہ دیکھا کرو جیسے گدھے کی شرمگاہ کا ستر نہیں کافر کا بھی وہی حکم ہے کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
نگاہِ شوق کو حاصل ہے کیا کیا لطف نظارہ
کہ عریاں دیکھنا جائز ہے معشوقانِ کافر کو
اسی قسم کے عجیب و غریب مسائل اہلِ بیتؓ کی طرف منسوب کیے گئے ہیں ان میں سے کسی قدر مسائل بطورِ مشت نمونہ خروار درج کیے جاتے ہیں۔