غیر مسلم کا نماز جنازہ پڑھنے، اور ان کو مسلمانوں کے قبرستان…

غیر مسلم کا نماز جنازہ پڑھنے، اور ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے کا حکم، اور اگر کافر چپکے سے اپنا مردہ مسلمانوں کے قبرستان میں گاڑ دیں تو اس کا اکھاڑ دینا واجب ہے


صفحہ 2 از 3

فقہ حنبلی: شیخ امام موفق الدین ابو محمد عبداللہ بن احمد بن محمد بن قدامہ المقدسی الحنبلیؒ المغنی میں، اور امام شمس الدین ابوالفرج عبدالرحمن بن محمد بن احمد بن قدامہ المقدسی الحنبلیؒ الشرح الکبیر میں لکھتے ہیں کہ اگر نصرانی عورت، جو اپنے مسلمان شوہر سے حاملہ تھی مر جائے تو اسے (نہ تو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے اور نہ نصاریٰ کے قبرستان میں) بلکہ مسلمانوں کے قبرستان اور نصاریٰ کے قبرستان کے درمیان الگ دفن کیا جائے۔ امام احمدؒ نے اس کو اس لئے اختیار کیا ہے کہ وہ عورت تو کافر ہے اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں کیا جائے گا کہ اس کے عذاب سے مسلمان مردوں کو ایذا نہ ہو، اور نہ اسے کافروں کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا کیونکہ اس کے پیٹ کا بچہ مسلمان ہے، اسے کافروں کے عذاب سے ایذا ہو گی، اس لئے اس کو الگ دفن کیا جائے گا۔ اسی کے ساتھ یہ بھی حضرات واثلہ بن الاسقعؒ سے اسی قول کے مثل مروی ہے، اور سیدنا عمرؓ سے جو مروی ہے ایک ایسی عورت کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا، ابن المنذرؒ کہتے ہیں یہ روایت سیدنا عمرؓ سے ثابت نہیں۔ ہمارے اصحاب نے کہا ہے کہ اس نصرانی عورت کو بائیں کروٹ پر لٹا کر اس کی پشت قبلے کی طرف کی جائے تاکہ بچے کا منہ قبلے کی طرف رہے، کیونکہ پیٹ میں بچے کا چہرہ عورت کی پشت کی طرف ہوتا ہے۔

مندرجہ بالا تصریحات سے معلوم ہوا کہ یہ شریعت اسلامی کا متفق علیہ اور مسلم مسئلہ ہے کہ کسی غیر مسلم کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں کیا جاسکتا۔

اگر کافر چپکے سے اپنا مردہ مسلمانوں کے قبرستان میں گاڑ دیں تو اس کا اکھاڑنا واجب ہے۔ اسکی چند وجہیں ہیں۔

اول: یہ ہے کہ مسلمانوں کا قبرستان مسلمانوں کی تدفین کے لئے وقف ہے، کسی غیر مسلم کا اس میں دفن کیا جانا غصب ہے اور جس مردے کو غصب کی زمین میں دفن کیا جائے اس کا نبش (اکھاڑنا) لازم ہے کیونکہ کافر و مرتد کی لاش، جبکہ غیر محل میں دفن کی گئی ہو، لائق احترام نہیں۔ چنانچہ امام بخاریؒ لکھتے ہیں کہ: مسجد نبوی کے لئے جو جگہ خریدی گئی اس میں کافروں کی قبریں تھیں۔ فامر النبىﷺ بقبور المشركين فنبشت پس آنحضرتﷺ نے مشرکین کی قبروں کو اکھاڑنے کا حکم فرمایا، چنانچہ وہ اکھاڑ دی گئیں۔

حافظ ابن حجرؒ امام بخاریؒ کے اس باب کی شرح میں لکھتے ہیں کہ: مشرکین کی قبروں کو اکھاڑا جائے گا انبیاء کرام علیہم السلام اور ان کے متبعین کی قبروں کو نہیں، کیونکہ اس میں ان کی اہانت ہے، بخلاف مشرکین کے ،کہ ان کی کوئی حرمت نہیں۔

حافظ بدرالدین عینیؒ اس حدیث کے ذیل میں لکھتے ہیں کہ: اگر کہا جائے کہ مشرک و کافر مردوں کو ان کی قبروں سے نکالنا کیسے جائز ہو سکتا ہے؟ جبکہ قبر مدفون کے ساتھ خاص ہوتی ہے ،اس لئے نہ اس کی جگہ کو بیچنا جائز ہے اور نہ مردے کو وہاں سے منتقل کرنا جائز ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ قبریں جن کے اکھاڑنے کا نبی کریمﷺ نے حکم فرمایا غالباً دفن ہونے والوں کی ملک نہیں تھیں ،بلکہ وہ جگہ غصب کی گئی تھی، اس لئے مالکوں نےاس کو فروخت کرایا ۔اور اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ یہ جگہ ان مردوں کے لیے مخصوص کر دی گئی تھی تب بھی یہ لازم نہیں، کیونکہ مسلمانوں کا قبروں میں رکھنا لازم ہے، کافروں کا نہیں۔ اسی بنا پر فقہائے کرام رحمتہ اللہ علیہم نے کہا ہے کہ جب مسلمان کو غصب کی زمین میں دفن کر دیا گیا ہو تو اسکو نکالنا جائز ہے، چہ جائیکہ کافر و مشرک کا نکالنا۔

پس جو قبرستان کہ مسلمانوں کے لئے وقف ہے، اس میں کسی کافر کو دفن کرنا اس میں کسی جگہ کا غصب ہے، کیونکہ وقف کرنے والے نے اسکو مسلمانوں کے لئے وقف کیا ہے، کسی مرتد و کافر کو اس وقف کی جگہ میں دفن کرنا غاصبانہ تصرف ہے، اور وقف میں ناجائز تصرف کی اجازت دینے کا کوئی شخص بھی اختیار نہیں رکھتا ، بلکہ اس ناجائز تصرف کو ہر حال میں ختم کرنا ضروری ہے۔ اس لئے جو غیر مسلم مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا گیا ہو، اس کو اکھاڑ کر اس غصب کا ازالہ کرنا ضروری ہے اور اگر مسلمان اس تصرفِ بے جا اور غاصبانہ حرکت پر خاموش رہیں گے اور غضب کے ازالے کی کوشش نہیں کریں گے تو سب گنہگار ہوں گے۔ اور اس کی مثال بالکل ایسی ہی ہو گی کہ ایک جگہ مسجد کے لئے وقف ہو، اس میں گرجا اور مندر بنانے کی اجازت دے دی جائے، یا اگر اس جگہ پر غیر مسلم قبضہ کر کے اپنی عبادت گاہیں تعمیر کرلیں تو اس ناجائز تصرف اور غاصبانہ قبضے کا ازالہ بھی واجب ہو گا۔

دوم: یہ کہ کسی کافر کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا مسلمان مردوں کے لئے ایذا کا سبب ہے۔ کیونکہ کافر اپنی قبر میں معذّب ہے اور اس کا اس کی قبر محلِ لعنت و غضب ہے اس کے عذاب سے مسلمان مُردوں کو ایذا ہو گی اس لئے کسی کافر کو مسلمانوں کے درمیان دفن کرنا جائز نہیں اور اگر دفن کر دیا گیا ہو تو مسلمانوں کو ایذاء سے بچانے کے لئے اس کو وہاں سے نکالنا ضروری ہے اس کی لاش کی حُرمت نہیں بلکہ مسلمان مرُدوں کی حرمت کا لحاظ کرنا ضروری ہے۔ امام ابو داؤدؒ نے آنحضرتﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے:

أنا برىء من كل مسلم يقيم بين اظهر المشركين، قالوا: يا رسول اللّٰہ! لم؟ قال: لا ورأيت نارهما  میں بری ہوں ہر اس مسلمان سے جو کافروں کے درمیان ہو۔ صحابہ کرام رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: یارسول اللہﷺ! یہ کیوں؟ آپﷺ نے فرمایا: دونوں کی آگ ایک دوسرے کو نظر نہیں آنی چاہیئے۔

نیز امام ابو داؤدؒ نے ایک اور حدیث نقل کی ہے: من جامع تلمشرك و يكن معه فإنه مثله جس شخص نے مشرک کے ساتھ سکونت اختیار کی، وہ اسی کے مثل ہو گا۔بس جب دنیا کی ہر چیز زندگی میں کافی اور مسلمان کی اکٹھی سکونت کو گوارا نہیں فرمایا گیا تو قبر کی طویل ترین زندگی میں اس اجتماع کو کیسے گوارا کیا جا سکتا ہے۔ 

صفحہ 2 از 3