Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی سرداری

  علی محمد الصلابی

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بارہا لوگوں کے سامنے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے اعلیٰ مقام، سرداری اور عظمتِ شان کا ذکر کیا، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول بہ تواتر روایتوں میں وارد ہے:

إِنَّ اِبْنِیْ ہٰذَا سَیِّدٌ۔

’’بلاشبہ میرا یہ لاڈلا سردار ہے۔‘‘

ابن عبدالبرؒ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے متواتر روایتیں وارد ہیں کہ آپﷺ نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے بارے میں فرمایا:

إِنَّ اِبْنِیْ ہٰذَا سَیِّدٌوَ عَسَی اللّٰہُ أَنْ یَبْقِیَہٗ حَتّٰی یُصْلِحَ بَیْنَ فِئَتَیْنِ عَظِیْمَتَیْنِ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔

(صحیح البخاری: فضائل الصحابۃ: جلد 7 صفحہ 94)

’’میرا یہ لاڈلا سردار ہے، اور امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے مسلمانو ں کی دو بڑی جماعتوں کے مابین صلح کرانے تک باقی رکھے۔‘‘

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إِنَّ اِبْنِیْ ہٰذَا -یَعْنِی الْحَسَنَ- سَیِّدٌ وَ لْیُصْلِحَنَّ اللّٰہُ بِہٖ بَیْنَ فِئَتَیْنِ الْمُسْلِمِیْنَ۔

(المعجم الکبیر للطبرانی: رقم: 2597) 

’’میرا یہ لاڈلا، آپ کی مراد حسن رضی اللہ عنہ سے تھی۔ سردار ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ سے مسلمانوں کی دو جماعتوں کے مابین صلح کرائے گا۔‘‘

سعید بن ابوسعید سے مروی ہے کہتے ہیں: ہم سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما آئے، ہم سے سلام کیا، ہم نے سلام کا جواب دیا، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو علم نہ ہو سکا، وہ چلے گئے تو ہم نے کہا: اے ابوہریرہ! یہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما تھے جنھوں نے ہم سے سلام کیا ہے، چنانچہ وہ کھڑے ہوئے اور ان سے جاملے اور کہا: یا سیدی (اے میرے سردار) میں نے ان سے کہا: آپ ’’یا سیدی‘‘ کہتے ہیں؟ اس پر انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا ہے:

اِنَّہٗ لَسَیِّدٌ۔

(المستدرک: جلد 3 صفحہ 169، امام حاکمؒ کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔)

 ’’بلاشبہ وہ سردار ہیں۔‘‘

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں: جو چاہتا ہو کہ جنتی جوانوں کے سردار کو دیکھے تو اسے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو دیکھنا چاہیے۔

(صحیح ابن حبان: جلد 15 صفحہ 422، 421 مجمع الزوائد: جلد 9 صفحہ 178)

ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اَلْحَسَنُ وَ الْحُسَیْنُ سَیِّدَا شَبَابِ أَہْلِ الْجَنَّۃ

(المستدرک للحاکم: جلد 3 صفحہ 166، یہ حدیث کئی طرق سے ثابت ہے۔)

’’سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما جنتی جوانوں کے سردار ہیں۔‘‘

جنت میں سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے سردار ہونے کی خبر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک بڑی تعداد سے منقول ہے، ایسا اس لیے ہوا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی بڑی محفلوں میں اور بارہا اس کا ذکر کیا ہے۔

(الدوحۃ النبویۃ الشریفۃ: صفحہ 81)

حالات اور مرور ایام نے ثابت کردیا کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ میں سرداری کی صفت پائی جاتی ہے، جب توفیق الہٰی سے سیدنا حسنؓ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ صلح کرلی اور امت کو متحد رکھا تو سیدنا حسنؓ کی سرداری کی صفت اپنی انتہا کو پہنچ گئی، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی سیرت سے پتہ چلتا ہے کہ حقیقی سرداری ظلم و زیادتی، خوں ریزی اور مال و عزت تباہ کرکے نہیں ملتی، بلکہ سرداری مال و عزت کو محفوظ کر کے، بغض و عداوت کو دور کرکے حاصل ہوتی ہے، آپ کی مصالحت اور مسلمانوں کے خون کی حفاظت نے آپ کو سرداری کے اس اعلیٰ مقام پر پہنچا دیا جہاں تک طاقت و قوت کے ذریعہ سے نہیں پہنچا جاسکتا۔

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے اس حالت میں صلح کی کہ آپ کے ساتھ ہزاروں لوگ تھے، ان میں کچھ لالچی اور دوسروں کے تیار کردہ تھے، لیکن ان کی اکثریت مخلص اور وفادار تھی، سیدنا حسنؓ نے نہیں چاہا کہ آپ کی وجہ سے ایک قطرہ خون بہے، یا اس راہ میں کسی مسلمان کو زخم پہنچے۔ اگر قوموں کی سرداری ان کی حفاظت و صیانت اور ترقی کے ذریعہ سے نہ حاصل کی گئی ہو تو وہ اندھی سرکشی، حماقت کے باعث کسی معاملے میں کود پڑنا، خطرناک اقدام اور اپنے وجود کو داؤ پر لگانا ہے، اس کے نتیجے میں ہلاکت و بربادی اور ذلت و رسوائی ہی ہاتھ آنے والی ہے، ایسی سرداری والے غضب الہٰی اور تاریخ کی لعنت کے مستحق ہوتے ہیں، حصول دنیا، سلطنت اور سرداری کی لالچ ہی کے باعث انسانی خون کی ندیاں بہتی رہی ہیں۔

(الدوحۃ النبویۃ الشریفۃ: صفحہ 94)