حضرت ت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی ہتک صریح
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہحضرات شیعہ جناب امیرؓ کی شجاعت کے اس قدر افسانے بیان کرنے کے باوجود جب دوسرا پہلو بدلتے ہیں تو جناب شجاعتِ مآب کو ایسا نکما اور بزدلانہ بنا دیتے ہیں کہ مخالفین آپؓ کو گلے میں رسی ڈال کر بیعتِ ابوبکرؓ کے واسطے گھسیٹ لے جاتے ہیں اور معاذاللہ خاتونِ جنت کے شکم محترم پر دروازہ گرا کر محسن کو شہید کر دینے کی روایات بیان کر کے توہین عترتِ رسولﷺ کا حق ادا کرتے ہیں۔ چنانچہ جلاء العیون: اردو صفحہ 152 میں ہے۔
پس اشقیائے امت گلوئے مبارک جناب امیرؓ میں رسیاں ڈال کر مسجد میں لے گئے اور بروایت دیگر جب دروازہ پر پہنچے اور حضرت فاطمہؓ پر مارا کہ بازو سیدہ فاطمہؓ کا شکستہ ہو گیا اور سوج گیا مگر پھر بھی سیدہ فاطمہؓ نے جناب امیر سے ہاتھ نہ اُٹھایا اور ان اشقیاء کو گھر میں آنے سے منع کیا یہاں تک کہ دروازه شکم سیدہ فاطمہؓ پر گرا دیا اور پسلیوں کو شکتہ کیا اور اس فرزند کو جو شکم میں سیدہ فاطمہؓ کے تھا اور رسول اللہﷺ نے اس کا نام محسن رکھا تھا شہید کیا۔
اب جائے غور ہے اس سے زیادہ توہین عترتِ رسولﷺ کیا ہو سکتی ہے؟ کہ اصحابؓ کو بدنام کرنے کے لیے ایسی روایات وضع کی جاتی ہیں جو سیدنا علیؓ اور خاتونِ جنت کی غایت درجہ کی توہین کا باعث ہیں۔ کیا کوئی عقلمند شخص ایک منٹ کے لیے بھی یقین کر سکتا ہے کہ اگر اصحابِ رسولﷺ خاتونِ جنت جگر گوشہ رسول اللہﷺ کی یوں ہتک کرتے تو کوئی متنفس بھی ان کی بیعت اختیار نہ کرتا۔ اور جناب امیر خاتونِ جنت کی اس درجہ توہین دیکھ کر خاموش رہ سکتے یا خود مر جاتے یا خصم کو مار دیتے اور یہ کس کی جرأت تھی کہ شیرِ خدا کی گردن میں رسی ڈال کر گھسیٹ کر لے جائے اور آپ چوں تک نہ کریں۔
بات یہ ہے کہ شیعہ حضرات دوستی کے پردہ میں جس قدر دشمنی اہلِ بیتؓ سے کرتے ہیں ایسے خارجی بھی جرات نہیں کرتے۔
کیوں دوستی کے پردہ میں کرتے ہو دشمنی
کیوں دامن ادب کی اُڑاتے ہو دھجیاں