سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی سخاوت و فیاضی - دفاعِ اہلِ سنت |…

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی سخاوت و فیاضی

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

سیدنا حسنؓ کی فیاضی کا واقعہ ہے کہ سیدنا حسنؓ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے پاس گئے، وہ جاں کنی کے عالم میں وا کرباہ وا حزناہ (ہائے مصیبت، ہائے غم) کہہ رہے تھے، تو ان سے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کہا: اے چچا جان! آپ کو کس چیز کا غم ہے؟ انھوں نے جواب دیا: اے نواسۂ رسول! مجھ پر ساٹھ ہزار درہم قرض ہے، میں اسے ادا نہیں کرسکا ہوں، اس پر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تمھاری جانب سے اسے ادا کردوں گا، ان سے اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے نواسۂ رسول! اللہ آپ کی مشکلوں کو آسان کرے، بلاشبہ اللہ کو علم ہے کہ رسالت کہاں موزوں رہے گی۔

(المحاسن و المساوی: صفحہ 57)

لوگ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی سخاوت کی شہادت دیتے تھے، اس کی دلیل یہ ہے کہ ایک بدوی مدینہ آکر لوگوں سے مانگ رہا تھا، اس سے کہا گیا کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے پاس جاؤ یا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ یا سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس، اس کی ملاقات سعید بن عاص رضی اللہ عنہ سے ہوئی چنانچہ انھو ں نے اسے اس کی چاہت کے مطابق دے دیا۔

(غایۃ المرام: عز الدین القریشی: جلد 1 صفحہ 95)

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی سخاوت کا اس سے بھی پتہ چلتا ہے کہ ان سے پوچھا گیا: کس کی زندگی سب سے بہتر ہے؟ سیدنا حسنؓ نے جواب دیا: جو اپنی زندگی میں دوسروں کو شریک کرے، ان سے پوچھا گیا کہ سب سے بُرا آدمی کون ہے؟ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: جس کی زندگی میں کوئی شریک و ساجھی نہ ہو۔

(تاریخ الیعقوبی: جلد 2 صفحہ 226، 227)

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا: آپؓ فاقہ کے باوجود کسی سائل کو کیوں واپس نہیں کرتے ہیں؟ جواب دیا: میں اللہ ہی سے سوال کرتا ہوں، اسی کو چاہتا ہوں، اللہ تعالیٰ نے مجھ میں یہ عادت ڈال دی ہے کہ وہ مجھے اپنی نعمتیں نوازتا رہتا ہے، اور میں اس کی نعمتیں لوگوں کو دیتا رہتا ہوں، میں ڈرتا ہوں کہ اگر میں نے دینا بند کردیا تو اللہ تعالیٰ نوازنا بند کردے گا۔

(نصیحۃ الملوک للماوردی: صفحہ 438)

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اپنے جود و سخا اور ایثار میں مالدار، غریب، چھوٹے، بڑے اور قریب و دور کے مابین کوئی امتیاز نہیں برتتے تھے، اس لیے کہ جو شخص خرچ کرکے اور دے کر راحت محسوس کرتا ہو، جود و سخا جس کی فطرت میں شامل ہو، اسے لوگوں کو خوش کرنے میں لذت محسوس ہوتی ہے۔

(الدوحۃ النبویۃ الشریفۃ: صفحہ 84)

حافظ ابراہیم نے ان اشعار میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ ہی کو مراد لیا ہے:

إنی لتطربنی الخلال کریمۃ

طرب الغریب بأوبۃ و تلاق

’’مجھے اچھی خصلتوں سے ایسی ہی خوشی حاصل ہوتی ہے جیسی کہ وطن سے دور رہنے والے کو وطن کی واپسی اور لوگوں سے ملاقات کی۔‘‘

و یہزنی ذکر المروئۃ و الندی بین الشمائل ہزۃ المشتاق

’’مروت و سخاوت جیسی خصلتوں کے تذکرے پر میں ایک عاشق کے مانند جھوم جھوم جاتا ہوں۔‘‘

فإذا رزقت خلیقۃ محمودۃ فقد اصطفاک مقسم الأرزاق

’’جب تمھیں کوئی اچھی عادت نصیب ہو تو سمجھ لو کہ روزی رساں اللہ نے تمھارا انتخاب کیا ہے۔‘‘

فالناس ہذا حظہ مال، و ذا علم، و ذاک مکارم الأخلاق

’’کچھ لوگوں کے نصیب میں مال، کچھ کے نصیب میں علم اور کچھ کے نصیب میں اچھے اخلاق ہوتے ہیں۔‘‘

سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے لوگوں کو خطاب کیا پھر فرمایا: بلاشبہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے مال جمع کیا ہے، وہ تمھارے مابین تقسیم کرنا چاہتے ہیں، چنانچہ لوگ آئے تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر فرمایا: میں نے فقراء کے لیے جمع کیا ہے، چنانچہ آدھے لوگ چلے گئے۔ سب سے پہلے سیدنا حسنؓ سے لینے والے اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ تھے۔

(الطبقات جلد: 1 صفحہ 278، اس کی سند صحیح ہے)

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی سیرت سے پتہ چلتا ہے کہ نفس انسانی کا دنیاوی کشش اور بخل سے چھٹکارا پانے اور رضائے الہٰی کے حصول کی جانب مائل ہونے کی ابتداء اللہ کی راہ میں برابر خرچ کرنے سے ہوتی ہے تاآنکہ وہ مستقل عادت بن جاتی ہے، اس طرح نفس انسانی مال سے بے رغبت ہوجاتا ہے، اس کی محبت دل سے نکل جاتی ہے، اس لیے وہ نہ تو مال کی زیادتی پر خوش ہوتاہے اور نہ ہی اس کی کمی پر رنجیدہ ہوتا ہے، اس فرمان الہٰی کے مطابق:

لِّـكَيۡلَا تَاۡسَوۡا عَلٰى مَا فَاتَكُمۡ وَلَا تَفۡرَحُوۡا بِمَاۤ اٰتٰٮكُمۡ‌ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخۡتَالٍ فَخُوۡرِ‏ ۞ (سورۃ الحديد آیت 23)

ترجمہ: یہ اس لیے تاکہ جو چیز تم سے جاتی رہے، اس پر تم غم میں نہ پڑو، اور جو چیز اللہ تمہیں عطا فرما دے، اس پر تم اتراؤ نہیں، اور اللہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو اتراہٹ میں مبتلا ہو، شیخی بگھارنے والا ہو۔

نفوس کے تزکیہ میں صدقہ کا بڑا مؤثر کردار ہوتا ہے۔ دنیا و آخرت میں اس کے بڑے فوائد ہیں۔ ان میں سے چند درج ذیل ہیں:

صدقہ مال کو بارآور بنانے کا سب سے افضل طریقہ ہے:

عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رضی اللّٰه عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي الله عليه وسلم : مَنْ تَصَدَّقَ بِعَدْلِ تَمْرَۃٍ مِنْ کَسْبٍ طَیِّبٍ وَلَا یَقْبَلُ اللّٰہُ إِلَّا الطَّیِّبَ، فَإِنَّ اللّٰہَ یَقْبَلُہَا بِیَمِیْنِہٖ، ثُمَّ یُرَبِّیْہَا لِصَاحِبِہَا کَمَا یُرَبِّيْ أَحَدُکُمْ فُلُوَّہٗ حَتّٰی یَکُوْنُ مِثْلَ الْجَبَلِ۔

(یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔)

’’ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو حلال کمائی سے ایک کھجور کے برابر صدقہ کرتاہے تو چوں کہ اللہ تعالیٰ صرف حلال چیز کو قبول کرتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ اسے اپنے داہنے ہاتھ سے قبول کرلیتا ہے، پھر اسے صاحبِ صدقہ کے لیے بڑھاتا رہتا ہے، جیسے کوئی اپنے گھوڑے کے بچے کو بڑھانے کے لیے اس کی دیکھ ریکھ کرتا ہے، تاآنکہ وہ پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے۔‘‘

صدقہ جہنم سے آڑ ہے:

عَنْ عَائِشَۃَ رضی اللّٰه عنہا قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي الله عليه وسلم یَا عَائِشَۃُ اَسْتَتَرِیْ مِنَ النَّارِ وَ لَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍ فَإِنَّہَا تَسُدُّ مِنَ الْجَائِعِ مَسَدَّہَا مِنَ الشَّبْعَانِ۔

(صحیح الترغیب و الترہیب للالبانی: رقم: 855)

صفحہ 2 از 3