سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی سخاوت و فیاضی
علی محمد الصلابیسیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی شخصیت میں رچے بسے قرآنی اخلاق میں سے سخاوت و فیاضی اور راہِ خدا میں بکثرت خرچ کرنا ہے، قرآن کریم نے خرچ کرنے والوں کی بڑی تعریف کی ہے، یہ تعریف قرآن کی ابتدا سے ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ دوسری سورت کے شروع ہی میں فرماتا ہے:
الٓمّٓ۞ ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ فِيْهِ ھُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ ۞ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ وَ يُـقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ يُنْفِقُوْنَ ۞ (سورۃ البقرة آیت 1 تا 3)
ترجمہ: الم۔ یہ کتاب ایسی ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں یہ ہدایت ہے ان ڈر رکھنے والوں کے لئے۔ جو بےدیکھی چیزوں پر ایمان لاتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا اس میں سے (اللہ کی خوشنودی کے کاموں میں) خرچ کرتے ہیں۔
پھر ان کا وصف بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے۔
اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ۞ (سورۃ البقرة آیت 5)
ترجمہ: یہ ہیں وہ لوگ جو اپنے پروردگار کی طرف سے صحیح راستے پر ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔
امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کی عملی تربیت، نبوی اور قرآنی قدروں کا امیر المؤمنین حسن رضی اللہ عنہ پر کافی اثر تھا، سیدنا حسنؓ کی شخصیت پر اس کی چھاپ دکھائی دیتی ہے، سیدنا حسنؓ نے ایسے واضح آثار چھوڑے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ جود و سخا اور انفاق جیسے اعلیٰ اخلاق آپ کی شخصیت میں رچ بس گئے تھے، آپ جود و سخا کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے، ایسا ہونا ہی تھا اس لیے کہ نبوی خانوادے کے پروردہ تھے، بچپن ہی میں یہ اچھی خصلت سیدنا حسنؓ میں گھر کر چکی تھی، سیدنا حسنؓ کی سخاوت و فیاضی کے واقعات ضرب المثل اور بڑے لوگوں کے لیے نمونہ بن گئے۔
(الدوحۃ النبویۃ الشریفۃ: صفحہ 84)
ان میں سے چند درج ذیل ہیں:
محمد بن سیرینؒ کہتے ہیں:
’’بسا اوقات سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے ایک ہی شخص کو ایک لاکھ دے دیا۔‘‘
(تہذیب الکمال: جلد 6 صفحہ 234)
سعید بن عبدالعزیزؒ کہتے ہیں:
’’سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے اپنی بغل میں ایک شخص کو اللہ سے دعا کرتے ہوئے سنا کہ اللہ اسے دس ہزار درہم کا مالک بنا دے، تو آپ گھر گئے اور اس کے پاس مذکورہ مبلغ بھیج دیا۔‘‘
(سیر أعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 260)
لوگ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا حسنؓ نے مدینہ کے ایک باغ میں ایک غلام کو دیکھا کہ وہ روٹی کا ایک لقمہ خود کھاتا ہے اور وہاں موجود کتے کو ایک لقمہ کھلاتا ہے، سیدنا حسنؓ نے اس سے پوچھا: ایسا کیوں کر رہے ہو؟ اس نے جواب دیا: مجھے شرم آتی ہے کہ میں کھاؤں اور اس کو نہ کھلاؤں، چنانچہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: میرے آنے تک یہیں رہنا، سیدنا حسنؓ اس کے آقا کے پاس گئے، اسے اس سے خریدا اور وہ باغ بھی خریدا جس میں وہ تھا، پھر اسے آزاد کردیا اور اسے باغ کا مالک بنا دیا، اس پر غلام نے سیدنا حسنؓ سے کہا: اے میرے آقا! میں نے باغ کو اس کے لیے ہبہ کردیا جس کے لیے آپؓ نے اسے میرے لیے ہبہ کیا تھا۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 11 صفحہ 196)
ابو ہارون عبدی کہتے ہیں: ہم حج کے لیے نکل پڑے، مدینہ پہنچ کر سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے پاس گئے، سیدنا حسنؓ کو اپنے احوال اور سفر سے باخبر کیا، جب ہم سیدنا حسنؓ کے پاس سے چلے آئے تو سیدنا حسنؓ نے ہم میں سے ہر شخص کے پاس چار سو درہم بھیج دیا، ہم لوٹ کر سیدنا حسنؓ کے پاس گئے اور آپ کو اپنی فارغ البالی کے بارے میں بتایا، اس پر آپ نے فرمایا: آپ لوگ میری دی ہوئی چیز کو واپس نہ کریں، اگر میری حالت دوسری ہوتی تو سیدنا حسنؓ لوگوں کو یہ واپس کرنا ٹھیک تھا، مگر آپ لوگوں کو سفر حج میں زادِ راہ دے رہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن فرشتوں کے مابین اپنے بندوں پر فخر کرتا ہے۔
(سیر أعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 261)
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے ان حاجیوں کو فارغ البالی کے باوجود یہ مال دیا تھا، اگر وہ محتاج ہوتے تو کیا حال ہوتا، اور جب انھوں نے یہ بتلایا کہ انھیں ضرورت نہیں ہے تو ان سے مال واپس نہیں لیا، یہ جود و سخا کے بےپایاں جذبے کی دلیل ہے، اس مال سے بہتر زادِ راہ دینا بھی نہ بھولے، چنانچہ سیدنا حسنؓ نے انھیں یوم عرفہ کی فضیلت یاد دلائی جس دن کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے فخر کرتا ہے۔
(التاریخ الإسلامی: جلد 17 صفحہ 136)
عبداللہ بن عبید اللہ بن عمیر سے مروی ہے کہتے ہیں کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے بارے میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: انھوں نے اپنے اور اللہ کے مابین اپنے مال کو تین مرتبہ تقسیم کیا، یہاں تک کہ سیدنا حسنؓ چرمی موزہ دے دیتے اور جوتا روک لیتے۔
(سیر أعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 260)
یہ سخاوت کی بڑی نادر مثال ہے، اس لیے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ اپنے مال کو دو حصوں میں تقسیم کیا، اور ہر مرتبہ آدھے مال کو بطور صدقہ دے دیا۔
بڑی باریکی سے سیدنا حسنؓ اپنے نفس کا محاسبہ کرتے تھے، احتساب کا یہ عمل سیدنا حسنؓ ایک فریضہ سمجھ کر ادا کرتے تھے، چنانچہ سیدنا حسنؓ چرمی موزہ دے دیا کرتے تھے اور جوتا روک لیتے تھے، جب کہ دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ ایسا کرکے سیدنا حسنؓ نے اپنے آپ کو مسلمانوں کے سامنے خیر و احسان کے کاموں میں ایک نمونے کے طور پر پیش کیا۔
(التاریخ الإسلامی: جلد 17 صفحہ 137)
سیدنا حسنؓ اپنے ہم عصروں میں سب سے زیادہ سخی تھے،
(المحاسن و المساوی: صفحہ 55، الحسن بن علی: صفحہ 32)
سیدنا حسنؓ کا شمار سخی لوگوں میں ہوتا تھا
( الحسن بن علی: صفحہ 32، رسالۃ ماجستیر: صفحہ 32)
آپ کی سخاوت کا واقعہ ہے کہ سیدنا معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہما نے آپ کے پاس ایک لاکھ بھیجا، تو سیدنا حسنؓ نے اسے اپنے ساتھ بیٹھنے والوں میں تقسیم کردیا، چنانچہ ان میں سے ہر ایک کو دس ہزار ملا۔
(البدایۃ و النہایۃ: نقلا عن الحسن بن علی: صفحہ 32)
سیدنا حسنؓ کی فیاضی کا واقعہ ہے کہ سیدنا حسنؓ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے پاس گئے، وہ جاں کنی کے عالم میں وا کرباہ وا حزناہ (ہائے مصیبت، ہائے غم) کہہ رہے تھے، تو ان سے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کہا: اے چچا جان! آپ کو کس چیز کا غم ہے؟ انھوں نے جواب دیا: اے نواسۂ رسول! مجھ پر ساٹھ ہزار درہم قرض ہے، میں اسے ادا نہیں کرسکا ہوں، اس پر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تمھاری جانب سے اسے ادا کردوں گا، ان سے اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے نواسۂ رسول! اللہ آپ کی مشکلوں کو آسان کرے، بلاشبہ اللہ کو علم ہے کہ رسالت کہاں موزوں رہے گی۔
(المحاسن و المساوی: صفحہ 57)
لوگ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی سخاوت کی شہادت دیتے تھے، اس کی دلیل یہ ہے کہ ایک بدوی مدینہ آکر لوگوں سے مانگ رہا تھا، اس سے کہا گیا کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے پاس جاؤ یا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ یا سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس، اس کی ملاقات سعید بن عاص رضی اللہ عنہ سے ہوئی چنانچہ انھو ں نے اسے اس کی چاہت کے مطابق دے دیا۔
(غایۃ المرام: عز الدین القریشی: جلد 1 صفحہ 95)
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی سخاوت کا اس سے بھی پتہ چلتا ہے کہ ان سے پوچھا گیا: کس کی زندگی سب سے بہتر ہے؟ سیدنا حسنؓ نے جواب دیا: جو اپنی زندگی میں دوسروں کو شریک کرے، ان سے پوچھا گیا کہ سب سے بُرا آدمی کون ہے؟ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: جس کی زندگی میں کوئی شریک و ساجھی نہ ہو۔
(تاریخ الیعقوبی: جلد 2 صفحہ 226، 227)
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا: آپؓ فاقہ کے باوجود کسی سائل کو کیوں واپس نہیں کرتے ہیں؟ جواب دیا: میں اللہ ہی سے سوال کرتا ہوں، اسی کو چاہتا ہوں، اللہ تعالیٰ نے مجھ میں یہ عادت ڈال دی ہے کہ وہ مجھے اپنی نعمتیں نوازتا رہتا ہے، اور میں اس کی نعمتیں لوگوں کو دیتا رہتا ہوں، میں ڈرتا ہوں کہ اگر میں نے دینا بند کردیا تو اللہ تعالیٰ نوازنا بند کردے گا۔
(نصیحۃ الملوک للماوردی: صفحہ 438)
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اپنے جود و سخا اور ایثار میں مالدار، غریب، چھوٹے، بڑے اور قریب و دور کے مابین کوئی امتیاز نہیں برتتے تھے، اس لیے کہ جو شخص خرچ کرکے اور دے کر راحت محسوس کرتا ہو، جود و سخا جس کی فطرت میں شامل ہو، اسے لوگوں کو خوش کرنے میں لذت محسوس ہوتی ہے۔
(الدوحۃ النبویۃ الشریفۃ: صفحہ 84)
حافظ ابراہیم نے ان اشعار میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ ہی کو مراد لیا ہے:
إنی لتطربنی الخلال کریمۃ
طرب الغریب بأوبۃ و تلاق
’’مجھے اچھی خصلتوں سے ایسی ہی خوشی حاصل ہوتی ہے جیسی کہ وطن سے دور رہنے والے کو وطن کی واپسی اور لوگوں سے ملاقات کی۔‘‘
و یہزنی ذکر المروئۃ و الندی بین الشمائل ہزۃ المشتاق
’’مروت و سخاوت جیسی خصلتوں کے تذکرے پر میں ایک عاشق کے مانند جھوم جھوم جاتا ہوں۔‘‘
فإذا رزقت خلیقۃ محمودۃ فقد اصطفاک مقسم الأرزاق
’’جب تمھیں کوئی اچھی عادت نصیب ہو تو سمجھ لو کہ روزی رساں اللہ نے تمھارا انتخاب کیا ہے۔‘‘
فالناس ہذا حظہ مال، و ذا علم، و ذاک مکارم الأخلاق
’’کچھ لوگوں کے نصیب میں مال، کچھ کے نصیب میں علم اور کچھ کے نصیب میں اچھے اخلاق ہوتے ہیں۔‘‘
سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے لوگوں کو خطاب کیا پھر فرمایا: بلاشبہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے مال جمع کیا ہے، وہ تمھارے مابین تقسیم کرنا چاہتے ہیں، چنانچہ لوگ آئے تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر فرمایا: میں نے فقراء کے لیے جمع کیا ہے، چنانچہ آدھے لوگ چلے گئے۔ سب سے پہلے سیدنا حسنؓ سے لینے والے اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ تھے۔
(الطبقات جلد: 1 صفحہ 278، اس کی سند صحیح ہے)
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی سیرت سے پتہ چلتا ہے کہ نفس انسانی کا دنیاوی کشش اور بخل سے چھٹکارا پانے اور رضائے الہٰی کے حصول کی جانب مائل ہونے کی ابتداء اللہ کی راہ میں برابر خرچ کرنے سے ہوتی ہے تاآنکہ وہ مستقل عادت بن جاتی ہے، اس طرح نفس انسانی مال سے بے رغبت ہوجاتا ہے، اس کی محبت دل سے نکل جاتی ہے، اس لیے وہ نہ تو مال کی زیادتی پر خوش ہوتاہے اور نہ ہی اس کی کمی پر رنجیدہ ہوتا ہے، اس فرمان الہٰی کے مطابق:
لِّـكَيۡلَا تَاۡسَوۡا عَلٰى مَا فَاتَكُمۡ وَلَا تَفۡرَحُوۡا بِمَاۤ اٰتٰٮكُمۡ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخۡتَالٍ فَخُوۡرِ ۞ (سورۃ الحديد آیت 23)
ترجمہ: یہ اس لیے تاکہ جو چیز تم سے جاتی رہے، اس پر تم غم میں نہ پڑو، اور جو چیز اللہ تمہیں عطا فرما دے، اس پر تم اتراؤ نہیں، اور اللہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو اتراہٹ میں مبتلا ہو، شیخی بگھارنے والا ہو۔
نفوس کے تزکیہ میں صدقہ کا بڑا مؤثر کردار ہوتا ہے۔ دنیا و آخرت میں اس کے بڑے فوائد ہیں۔ ان میں سے چند درج ذیل ہیں:
صدقہ مال کو بارآور بنانے کا سب سے افضل طریقہ ہے:
عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رضی اللّٰه عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي الله عليه وسلم : مَنْ تَصَدَّقَ بِعَدْلِ تَمْرَۃٍ مِنْ کَسْبٍ طَیِّبٍ وَلَا یَقْبَلُ اللّٰہُ إِلَّا الطَّیِّبَ، فَإِنَّ اللّٰہَ یَقْبَلُہَا بِیَمِیْنِہٖ، ثُمَّ یُرَبِّیْہَا لِصَاحِبِہَا کَمَا یُرَبِّيْ أَحَدُکُمْ فُلُوَّہٗ حَتّٰی یَکُوْنُ مِثْلَ الْجَبَلِ۔
(یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔)
’’ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو حلال کمائی سے ایک کھجور کے برابر صدقہ کرتاہے تو چوں کہ اللہ تعالیٰ صرف حلال چیز کو قبول کرتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ اسے اپنے داہنے ہاتھ سے قبول کرلیتا ہے، پھر اسے صاحبِ صدقہ کے لیے بڑھاتا رہتا ہے، جیسے کوئی اپنے گھوڑے کے بچے کو بڑھانے کے لیے اس کی دیکھ ریکھ کرتا ہے، تاآنکہ وہ پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے۔‘‘
صدقہ جہنم سے آڑ ہے:
عَنْ عَائِشَۃَ رضی اللّٰه عنہا قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي الله عليه وسلم یَا عَائِشَۃُ اَسْتَتَرِیْ مِنَ النَّارِ وَ لَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍ فَإِنَّہَا تَسُدُّ مِنَ الْجَائِعِ مَسَدَّہَا مِنَ الشَّبْعَانِ۔
(صحیح الترغیب و الترہیب للالبانی: رقم: 855)
’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدھی کھجور ہی کو صدقہ کرکے جہنم سے بچو، وہ آسودہ شخص کی طرح بھوکے شخص کی ضرورت کو پورا کرتی ہے۔‘‘
صدقہ صاحبِ صدقہ کے لیے بروز قیامت سایہ ہوگا:
عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ رضی اللّٰه عنہ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلي الله عليه وسلم یَقُوْلُ: کُلُّ امْرِیٍٔ فِیْ ظِلِّ صَدَقَتِہٖ حَتّٰی یُقْضٰی بَیْنَ النَّاسِ۔
(صحیح الترغیب و الترہیب: رقم: 822)
’’عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے: ہر شخص اپنے صدقہ کے سایہ میں ہوگا تاآنکہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے مابین فیصلہ کردے۔‘‘