حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے حالات زندگی - دفاعِ اہلِ…

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے حالات زندگی

  اسعد اعظمی

صفحہ 2 از 2
آپؓ ذوالنورین تھے، یعنی نبی اکرمﷺ کی دوہری دامادی کا آپؓ کو شرف حاصل تھا، پہلے حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا سے آپؓ کی شادی ہوئی، سن 2ھ میں غزوۀ بدر کے موقع پر یہ وفات پا گئیں، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چھوٹی صاحبزادی حضرت اُمِ کلثوم رضی اللہ عنہا سے سن 3 ہجری میں نکاح ہوا جو 9ھ میں انتقال کر گئیں۔ یہ وہ خصوصیت ہے جو کسی اور کو حاصل نہیں ہوئی، اور اسی وجہ سے آپؓ کو’’ ذو النورین‘‘ یعنی دو نور والے کہا جاتا ہے۔
آپؓ ذوالہجرتین تھے، یعنی ایک بار آپؓ نے مکہ سے حبشہ کی طرف ہجرت فرمائی، دوسری بار مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی، اس خصوصیت میں اگرچہ بعض دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی آپؓ کے ساتھ شریک ہیں، لیکن اس میں جو چیز آپؓ کو ممتاز کرتی ہے وہ یہ کہ اس امت میں آپؓ ایسے پہلے شخص ہیں جنہوں نے اپنے اہل کے ساتھ ہجرت کی۔
صلح حدیبیہ کے موقع پر جب رسول اکرمﷺ مسلمانوں کو ساتھ لے کر عمرہ کی غرض سے مکہ تشریف لے جا رہے تھے تو قریش نے آپﷺ کو روک دیا، ان سے بات چیت اور مصالحت کی غرض سے آپﷺ نے حضرت عثمانؓ کو اپنا سفیر بنا کر مکہ بھیجا، مکہ سے واپسی میں سیدنا عثمان غنیؓ کو تاخیر ہوئی تو اللہ کے رسولﷺ مضطرب ہو گئے، اسی حالت میں ایسی خبریں آنے لگیں کہ انہیں شہید کر دیا گیا ہے، رسول اللہﷺ نے یہ خبر سن کر سیدنا عثمانؓ کے خون کے انتقام کے لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ایک درخت کے نیچے بیعت لی۔ اور آخر میں آپﷺ نے اپنا دایاں دست مبارک بائیں پر رکھتے ہوئے فرمایا کہ یہ سیدنا عثمانؓ کی طرف سے ہے۔’’یہ حضرت عثمانؓ کے تاجِ فخر کا وہ طرۂ شرف ہے جو ان کے علاوہ کسی اور کے حصہ میں نہ آیا‘‘۔
علامہ محب الدین الخطیب سیدنا عثمانؓ کی اس منقبت کے تذکرے کے موقع پر لکھتے ہیں کہ امیر المؤمنین سیدنا عثمانؓ اگر مسیح علیہ السلام کے حواریوں میں سے ہوتے اور ان کو حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی طرف سے یہ شرف حاصل ہوا ہوتا جس شرف سے اللہ تعالیٰ نے انہیں نبی رحمت جناب محمد رسول اللہﷺ کے ذریعہ نوازا تھا تو عیسائی ان کی پرستش کرنے لگتے۔ لیکن تعجب ہے اس امت پر کہ اس میں ایسے ایسے نادان پڑے ہیں جو بیعتِ رضوان سے حضرت عثمانؓ کی غیر حاضری کو ان کا جرم گردانتے ہیں، اور ان نادانوں میں کچھ ایسے خود ساختہ بہادر ہیں جو اس رحم دل خلیفہ کا خون بہانے کی جرأت کرتے ہیں اور اس کے جواز کے لیے ان کے چند قصور گناتے ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے۔ (العواصم من القواصم: صفحہ، 106 حاشیہ نمبر، 2)
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اس امت کے سب سے حیا دار شخص ہیں، خود اللہ کے رسولﷺ ان کی اس صفت کا بہت پاس و لحاظ رکھتے تھے، اور فرماتے تھے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی حیا سے فرشتے بھی شرماتے ہیں۔ ایک حدیث میں ’’اصدقہا حیاء عثمان‘‘ کہہ کر آپﷺ نے حضرت عثمانؓ کو امتِ محمدیہ کا سب سے حیا دار فرد قرار دیا ہے۔
غزوۀ احد کے بعد 4 ہجری میں غزوۀ ذات الرقاع پیش آیا، نبی اکرمﷺ جب اس مہم میں تشریف لے گئے تو حضرت عثمانؓ کو مدینہ میں اپنا قائم مقام اور نائب مقرر فرمایا، یہ بہت بڑا اعزاز تھا جو بارگاہِ رسالت سے ان کو عطا ہوا تھا۔
سیدنا عثمانؓ نبی اکرمﷺ پر نازل ہونے والی وحی کو تحریر کرنے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں بھی شامل تھے۔
مذہبی خدمات کے سلسلے میں حضرت عثمانؓ کا سب سے روشن کارنامہ قرآن کریم کو اختلاف و تحریف سے محفوظ کرنا اور اس کی عام اشاعت ہے، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے توجہ دلانے پر آپؓ نے اُم المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے عہدِ صدیقی میں مرتب و مدون کیا ہوا نسخہ لے کر حفاظ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک کمیٹی سے اسے نقل کرا کر پوری سلطنت میں اس کی اشاعت کی اور جن مصاحف کو لوگوں نے مختلف املاء سے لکھا تھا صفحہ ہستی سے معدوم کر دیا۔
ازواج:
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مختلف اوقات میں متعدد شادیاں کیں، آپؓ کی پہلی بیوی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا بنتِ رسول اللہﷺ تھیں جو 2ھ میں فوت ہوئیں ان کے بطن سے سیدنا عبداللہؓ پیدا ہوئے جو بچپن ہی میں فوت ہو گئے۔
آپؓ کی دوسری بیوی سیدہ اُمِ کلثوم رضی اللہ عنہا بنتِ رسول اللہﷺ تھیں جن سے3ھ ہجری میں آپؓ کا عقد ہوا، یہ 9ھ میں فوت ہو گئیں۔ ان سے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ ان کے علاوہ جو خواتین آپؓ کے عقد میں آئیں ان کے نام یہ ہیں:
فاختہ بنتِ غزوان، اُمِ عمرو بنتِ جندب، فاطمہ بنتِ ولید، اُم البنین بنتِ عیینہ، رملہ بنتِ شیبہ، نائلہ بنتِ فرافصہ
اولاد:
1: عبداللہ (جوحضرت رقیہؓ کے بطن سے تولد ہوئے)
2: عبداللہ (جو حضرت فاختہؓ کے بطن سے تولد ہوئے)
3: عمرو
4: خالد
5: ابان
6: عمر
7: مریم (یہ پانچوں اُمِ عمرو سے پیدا ہوئے) 
8: ولید
9: سعید
10: اُمِ سعید (یہ تینوں فاطمہ کے بطن سے پیدا ہوئے)
11: عبدالملک (اُم البنین کے بطن سے)
12: عائشہ
13: اُمِ ابان
14: اُمِ عمرو (یہ تینوں رملہ کے بطن سے تولد ہوئے)
15: مریم (نائلہ کے بطن سے تولد ہوئیں) 
اس طرح آپؓ کی بیویوں کی کل تعداد آٹھ ہوئی اور اولاد کی کل تعداد پندرہ (15) جن میں (9) بیٹے اور (6) بیٹیاں ہیں۔

صفحہ 2 از 2