اولا خلافت حسن رضی اللہ عنہ کی تنصیص کا قضیہ باطل ہے -…

اولا خلافت حسن رضی اللہ عنہ کی تنصیص کا قضیہ باطل ہے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 4 از 5

بارہ اماموں کے عقیدہ کی ابتداء حسن عسکری کی وفات کے بعد ہوئی۔

(اصول الشیعۃ الإمامیۃ: جلد 2 صفحہ 808)

متعینہ عدد میں اماموں کو محصور کرنے کا عقیدہ سراسر فاسد و باطل ہے، امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد اس سے بری ہے، شیعوں کی معتمد کتاب ’’نہج البلاغۃ‘‘ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہتے ہیں:

’’مجھے چھوڑ دو اور (اس خلافت کے لیے) میرے علاوہ کسی اور کو ڈھونڈ لو، ہمارے سامنے ایک ایسا معاملہ ہے جس کے کئی رخ اور رنگ ہیں، جسے نہ قلوب برداشت کرسکتے ہیں، اور نہ ہی عقلیں اسے مان سکتی ہیں،(دیکھو) افق عالم پر گھٹائیں چھائی ہوئی ہیں، راستہ پہچاننے میں نہیں آتا، تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ اگر میں تمھاری اس خواہش کو مان لوں تو تمھیں اس راستے پر لے چلوں گا جو میرے علم میں ہے، اور اس کے متعلق کسی کہنے والے کی بات اور کسی ملامت کرنے والے کی سرزنش پر کان نہیں دھروں گا۔ اور اگر تم میرا پیچھا چھوڑ دو تو پھر جیسے تم ہو میں بھی ویسا ہی ہوں، اور ہوسکتا ہے کہ جسے تم اپنا امیر بناؤ اس کی میں تم سے زیادہ سنوں اور مانوں، اور میرا (تمھارے دنیوی مفاد کے لیے) امیر ہونے سے وزیر ہونا بہتر ہے۔‘‘

(نہج البلاغۃ: خطبہ: رقم: 92، صفحہ 236)

اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی امامت پر من جانب اللہ تنصیص ہوتی تو کسی بھی حال میں سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے لیے جائز نہ ہوتا کہ لوگوں سے کہیں ’’دَعُوْنِیْ وَ الْتَمِسُوْا غَیْرِیْ‘‘ (مجھے چھوڑ کر دوسرے کو تلاش کرو) اور : ’’اَنَا لَکُمْ وَزِیْرًا خَیْرٌلَّکُمْ مِّنِّیْ اَمِیْرًا‘‘ (تمھارے لیے میرا وزیر ہونا خلیفہ ہونے سے بہتر ہے) ایسا کیسے ہو سکتا ہے، جب کہ لوگ آپ کو چاہتے تھے اور آپ سے بیعت کرنے آرہے تھے۔

(ثم أبصرت الحقیقۃ: صفحہ 158)

’’نہج البلاغۃ‘‘ میں اس سے بھی زیادہ صریح اور واضح قول موجود ہے:

’’جن لوگوں نے ابوبکر و عمر اور عثمان( رضی اللہ عنہم ) کے لیے بیعت کی تھی انھوں نے میرے ہاتھ پر انھی اصولوں کے مطابق بیعت کی ہے جن اصولوں پر وہ ان کی بیعت کر چکے تھے اور اس کی بنا پر جو حاضر ہے اسے نظر ثانی کا حق نہیں، اور جو بروقت موجود نہ ہو اسے رد کرنے کا اختیار نہیں اور شوریٰ کا حق صرف مہاجرین و انصار کو ہے، ان کا اگر کسی پر اتفاق ہو جائے اور اسے خلیفہ سمجھ لیں تو اسی میں اللہ کی رضا و خوشنودی سمجھی جائے گی، اب جو کوئی اس کی شخصیت پر اعتراض یا نیا نظریہ اختیار کرتا ہوا الگ ہو جائے تو اسے وہ سب اسی طرف واپس لائیں گے جدھر سے وہ منحرف ہوا ہے، اور اگر انکار کرے تو اس سے لڑیں گے کیوں کہ وہ مومنوں کے طریقے سے ہٹ کر دوسری راہ پر ہو لیا ہے، اور جدھر وہ پھر گیا ہے، اللہ تعالیٰ بھی اسے ادھر ہی پھیر دے گا۔‘'

(نہج البلاغۃ: صفحہ 526: رقم 6)

امیر المؤمنین نے اس عبارت سے چند قابل توجہ حقائق کی جانب اشارہ کیا ہے:

  • سیدنا نے واضح کردیا کہ مجلس شوریٰ میں مہاجرین و انصار صحابہ کرام ہوں گے، وہی اصحابِ حل و عقد ہوں گے۔
  •  ان کا کسی شخص پر متفق ہونا اللہ کی رضا کا باعث اور من جانب اللہ ان کی موافقت کی علامت ہوگا۔
  • ان کے زمانے میں ان کے بغیر، اور ان کے انتخاب کے بغیر امامت و خلافت منعقد نہیں ہوگی۔
  • ان کی بات کا انکار اور ان کی حکم عدولی، بدعتی، باغی اور غیر ایمانی راہ اختیار کرنے والا ہی کرسکتا ہے، یہ اہم تصریحات شیعہ اثنا عشریہ پر کس طرح مخفی رہیں۔

(ثم أبصرت الحقیقۃ: صفحہ 161)

تنصیص کا مسئلہ کسی طرح بھی ثابت نہیں ہے، اور چند لوگوں میں امامت کو محصور کرنے کا مسئلہ کتاب و سنت کی روشنی میں مردود ہے، اسی طرح عقل اور حقیقت واقعہ بھی اسے قبول نہیں کرتی، اس لیے کہ متعینہ عدد کے ختم ہوجانے کے بعد کیا امت بغیر امام کے رہے گی؟ اثنا عشریہ کے نزدیک ائمہ کا زمانہ ڈھائی صدی سے کچھ زیادہ ہے، امرِ واقع یہ ہے کہ وہ سب اس وقت سے اب تک بغیر امام کے ہیں، ان کی اس حالت سے یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ ان کے خیال میں امام معصوم کے وجود کے لیے جو ضروری سبب اور مصلحت ہے وہ اسے مفقود پاتے ہیں اور یہ سراسر تناقض و تضاد ہے، اسی لیے شیعہ نے مسئلہ حصرِ ائمہ کے اشکال سے بچنے کے لیے ایک نئے مسئلے کو جنم دیا کہ مجتہد امام کا نائب ہوگا، نیابت کی حدود میں ان کے اقوال مختلف ہیں، عصر حاضر میں اپنے دین کی اس بنیاد کو مکمل طور سے چھوڑنے پر مجبور ہوگئے، اور حاکم وقت کی تعیین انتخاب کے طریقے سے کرنے لگے، حصر عدد کو چھوڑ کر حصرِ نوع کے قائل ہوگئے، چنانچہ ان کے نزدیک ملک کا سربراہ صرف شیعی فقیہ ہوسکتا ہے،

(اصول الشیعۃ: جلد 2 صفحہ 814، الحکومۃ الإسلامیۃ للخمینی: صفحہ 248)

جب کہ وہ بالفعل و بالاتفاق غیرمعصوم ہوتا ہے اور نہ ہی اس کے پاس کوئی نص صریح ہوتی ہے جو اسے امامت کا اہل بناتی ہو۔

انھوں نے اپنے اس طرز عمل سے اس نظریۂ امامت کو منسوخ کردیا جس کی وجہ سے انھوں نے امت کے اتحاد کو پارہ پارہ کردیا تھا، چنانچہ ان کے نزدیک ایک عام آدمی جو اہل بیتؓ میں سے نہ ہو اپنے فقیہ ہونے کے ناتے اس بات کا اہل ہوسکتا ہے کہ وہ حکومت و قیادت کرے۔

احمد کاتب نے شوریٰ سے لے کر ولایت فقیہ تک شیعی سیاسی فکر کے ارتقاء کی تفصیلات بیان کی ہیں۔ امیر المؤمنین حسن بن علی رضی اللہ عنہما اور شوریٰ کے بارے میں اس نے گفتگو کی ہے اور واضح طور پر بیان کیا ہے کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے لوگوں کو اپنی بیعت کی جانب بلانے میں اپنے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا اپنے والد امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کی جانب سے کسی نص پر اعتماد نہیں کیا، نیز بتایا ہے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ شورائی نظام اور خلیفہ کے انتخاب میں امت کے حق کے قائل تھے، آپ کا یہ نظریہ دوبارہ اس وقت کھل کر سامنے آیا جب آپ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں خلافت سے دستبردار ہوگئے، اور ان پر یہ شرط عائد کی کہ مسلمانوں کے مابین شورائی نظام لوٹنا چاہیے۔

صفحہ 4 از 5