اولا خلافت حسن رضی اللہ عنہ کی تنصیص کا قضیہ باطل ہے -…

اولا خلافت حسن رضی اللہ عنہ کی تنصیص کا قضیہ باطل ہے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 5

یہ واضح دلیل ہے کہ تنصیص کے دعویٰ کو ان رافضیوں نے گھڑلیا تھا جن کے دل علی و اہل بیت سمیت تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بغض و عناد سے بھرے ہوئے تھے، وہ اہل بیتؓ کی محبت کا دعویٰ محض اس لیے کرتے تھے کہ اسلام کی آڑ میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرسکیں۔

(عقیدۃ أہل السنۃ فی الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 620)

ان قطعی نصوص سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ من گھڑت وصیت کی کوئی بنیاد نہیں ہے، اور جس بنیاد پر شیعوں نے اعتماد کیا ہے وہ عبداللہ بن سبا کی گھڑی ہوئی ہے، سب سے پہلے اسی نے وصیت کو جنم دیا، پھر اس کے لیے سندیں اور حدیثیں گھڑی گئیں، پھر بہتان تراشی اور غلط طریقے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب انھیں منسوب کردیا گیا، اس سے ان کا مقصد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مطعون کرنا تھا کہ وہ سب فرمان نبویﷺ کی مخالفت کرتے ہیں اور اس بارے میں ان کا اجماع ہے، پھر اس کے ذریعہ سے ان کے نقل کردہ قرآن و حدیث کو مطعون کرنا تھا۔

(خلافۃ علی بن أبی طالب: صفحہ 65 عبدالحمید)

حلی کی تردید کرتے ہوئے امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کی تنصیص محدثین کی کسی معتمد کتاب میں نہیں ہے، اس کے باطل ہونے پر محدثین کا اجماع ہے۔

ابومحمد بن حزمؒ کہتے ہیں: اس ادعائی تنصیص سے متعلق ہمیں کوئی روایت نہیں ملی ہے سوائے ایک مجہول شخص کی روایت کے جس کی کنیت ابوالحمراء ہے، اللہ کی مخلوق میں وہ کون ہے ہمیں معلوم نہیں۔

(المنہاج: جلد 8 صفحہ 362، الفصل: جلد 4 صفحہ 161)

ایک دوسرے مقام پر کہتے ہیں: ’’یہاں اس بات کا پتہ چل گیا کہ شیعہ جس تنصیص کا دعویٰ کرتے ہیں اسے نہ تو پہلے کسی محدث نے سنا ہے نہ بعد میں، اسی لیے محدثین جس طرح غلط طریقے سے منقول دوسری چیزوں کے جھوٹ کو جانتے ہیں اس منقول چیز کے جھوٹے ہونے کو لازمی طور پر جانتے ہیں۔‘‘

(المنہاج: جلد 7 صفحہ 50)

بعد میں ایسے غلو پسند شیعہ آئے جنھوں نے امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ سے متعلق عبداللہ بن سبا کے نظریہ کو زندہ کیا پھر اسے علی و حسین رضی اللہ عنہما کی نسل کے دوسرے لوگوں پر عام کردیا تاکہ لوگوں کے جذبات کو ابھارا جا سکے، لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی جا سکے، اور اس کی آڑ میں وہ اسلامی حکومت کے خلاف اپنے مقاصد کوحاصل کر سکیں، سب سے پہلے جس نے یہ بات پھیلانی شروع کی کہ امامت اہلِ بیت کے چند مخصوص لوگوں میں منحصر ہے، وہ شیطان الطاق ہے جسے شیعہ ’’مومن الطاق‘‘ کے لقب سے یاد کرتے ہیں۔

(اصول الشیعۃ الإمامیۃ: جلد 2 صفحہ 800)

زید بن علی رحمہ اللہ کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو انھوں اسے بلا بھیجا تاکہ اس افواہ کی حقیقت سے آگاہ ہوں، چنانچہ اس سے زید بن علی نے کہا: مجھے پتہ چلا ہے کہ تمھارا خیال ہے کہ آلِ محمد میں ایسا امام ہوتا رہے گا جس کی اطاعت فرض ہوگی، شیطان الطاق نے کہا: ہاں، اور تمھارے والد علی بن حسین ان میں سے ایک تھے، اس پر انھوں نے کہا: یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ وہ گرم لقمے کو ٹھنڈا کر لیتے تھے پھر مجھے کھلاتے تھے، تم ہی بتاؤ کہ وہ لقمے کی گرمی سے میرے سلسلے میں خائف رہیں گے اور جہنم کی گرمی سے خائف نہ ہوں گے؟ شیطان الطاق کہتا ہے کہ میں نے ان سے کہا: تمھیں بتانا اس لیے ناپسند کیا ہو گا کہ تم کافر ہو جاؤ گے پھر وہ تمھاری شفاعت نہیں کرسکیں گے۔

(رجال الکشی: صفحہ 186)

ان کی ثقہ ترین کتب رجال میں مروی یہ قصہ واضح طور پر یہ بتلاتا ہے کہ امامت کا یہ نظریہ اس طرح مخفی طریقے سے لوگوں کے مابین رائج تھا کہ اہلِ بیت کے امام زید پر بھی مخفی رہا۔

محب الدین خطیب نے واضح کیا ہے کہ شیطان الطاق نے سب سے پہلے اس گمراہ عقیدہ کو گھڑا، امامت و تشریع کو اہل بیت کے مخصوص لوگوں میں محصور کردیا اور ان کے معصوم ہونے کا دعویٰ کیا۔

(مجلۃ الفتح: صفحہ 5، العدد: 862، عام: 1367ھ)

ہشام بن حکم متوفی 179ھ نامی شخص شیطان الطاق کا شریک کار رہا۔

(أصول الشیعۃ الإمامیۃ: جلد 3 صفحہ 803)

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہشام و شیطان الطاق کے کچھ متبعین کی کوششوں سے کچھ متعین لوگوں میں امامت کے محصور کرنے کا عقیدہ کوفہ میں پھیل گیا تھا،

(أصول الشیعۃ الإمامیۃ: جلد 2 صفحہ 805، بحار الأنوار: جلد 1 صفحہ 259)

چند مخصوص لوگوں میں امامت کے محصور کرنے کے عقیدے کی بنیاد دوسری صدی ہجری میں ایک ایسے گروہ نے رکھا جو اہل بیتؓ سے اپنے تعلق کا دعویدار ہے، جیسے شیطان الطاق، ہشام بن حکم وغیرہ۔

(اصول الشیعۃ: جلد 2 صفحہ 806)

ائمہ کی تعداد سے متعلق شیعوں کے نظریات و آراء مختلف ہیں، مختصر التحفۃ الاثنی عشریۃ میں ہے کہ شیعہ امامیہ ائمہ کے محصور ہونے کے قائل ہیں، لیکن ان کی مقدار میں ان کا اختلاف ہے، بعض کے نزدیک پانچ، بعض کے نزدیک سات، بعض کے نزدیک آٹھ، بعض کے نزدیک بارہ، اور بعض کے نزدیک تیرہ ہیں۔

(مختصر التحفۃ الاثنی عشریۃ: صفحہ 193)

عجیب وغریب بات یہ ہے کہ نظریۂ امامت کے قائلین کئی فرقوں میں بٹ گئے، ہر فرقہ اپنے امام کے بارے میں ایسی روایتیں نقل کرتا ہے جو دوسرے فرقے کے بالکل متضاد و متناقض ہیں، پھر انھیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی جانب منسوب کرتے ہیں، شیعوں کی کتابوں میں یہ اختلاف و تناقض منقول ہے، چاہے وہ اسماعیلیہ فرقے کی کتابیں ہوں جیسے تاشی اکبر کی ’’مسائل الإمامۃ‘‘ اور ابو حاتم رازی کی ’’الزینۃ‘‘ یا اثنا عشریہ فرقے کی کتابیں ہوں، جیسے اشعری کی ’’المقالات و الفرق‘‘ اور نوبختی کی ’’فرق الشیعۃ‘‘

ان کے نزدیک امامت کا مسئلہ کوئی ایسا فرعی مسئلہ نہیں ہے جس میں اختلاف معمولی قسم کا ہو، بلکہ وہ دین کی بنیاد و جڑ ہے، جو ان کے امام پر ایمان نہ لائے وہ دین سے خارج ہے، اور اسی بنا پر ان میں سے بعض بعض کو کافر و ملعون قرار دیتے ہیں۔

(اصول الشیعۃ الإمامیۃ: جلد 2 صفحہ 807)

فرقہ اثنا عشریہ کی رائے بعد میں اس بات پر ٹھہر گئی کہ امامت بارہ اماموں میں محصور ہے، جب کہ عہد نبوی و عہد خلفائے راشدین ابوبکر، عمر، عثمان، علی رضی اللہ عنہم میں اور خاندان نبوت بنوہاشم میں کوئی بھی بارہ اماموں کی امامت کا قائل نہ تھا۔

(منہاج السنۃ: جلد 2 صفحہ 11)

صفحہ 3 از 5