اولا خلافت حسن رضی اللہ عنہ کی تنصیص کا قضیہ باطل ہے -…

اولا خلافت حسن رضی اللہ عنہ کی تنصیص کا قضیہ باطل ہے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 5

2۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے آپﷺ کی اس بیماری میں عیادت کے بعد باہر آئے جس میں آپﷺ کی وفات ہوئی ہے۔ لوگوں(صحابہ) نے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آج کیسے ہیں؟ سیدنا علیؓ نے کہا: بحمد اللہ ٹھیک ہیں، عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے سیدنا علیؓ کا ہاتھ پکڑ کر کہا: اللہ کی قسم تم تین دن کے بعد دوسرے کے تابع ہو کر زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاؤ گے، اللہ کی قسم مجھے تو ایسے آثار نظر آ رہے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مرض سے شفا یاب نہیں ہو سکیں گے، موت کے وقت بنوعبدالمطلب کے چہروں کی مجھے خوب شناخت ہے، اب ہمیں آپﷺ کے پاس چلنا چاہیے، اور آپﷺ سے پوچھنا چاہیے کہ ہمارے بعد خلافت کسے ملے گی؟ اگر ہم اس کے مستحق ہیں تو ہمیں معلوم ہو جائے گا اور اگر کوئی دوسرا مستحق ہوگا تو وہ بھی معلوم ہو جائے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے متعلق اپنے خلیفہ کو ممکن ہے کچھ وصیتیں کردیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم اگر ہم نے اس وقت آپﷺ سے اس کے متعلق کچھ پوچھا اور آپﷺ نے انکار کردیا تو پھر لوگ ہمیں ہمیشہ کے لیے اس سے محروم کردیں گے، میں تو اللہ کی قسم ہرگز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق کچھ نہیں پوچھوں گا۔

(صحیح البخاری: کتاب المغازی: رقم: 4447)

آپ کے مذکورہ قول میں اس بات کی شہادت موجود ہے کہ صحابہ کرامؓ فرامینِ نبویہ کو لازماً نافذ کرتے تھے، اگر آپﷺ کی کوئی وصیت ہوتی تو کوئی اس سے پیچھے نہ ہٹتا، اور سقیفۂ بنو ساعدہ میں انصار پوری آزادی اور دلیری سے ’’منا امیر و منکم امیر‘‘

(صحیح البخاری: کتاب الحدود: رقم: 6830) نہ کہتے، جس کے لیے وصیت ہوتی اس کے لیے بیعت کرلیتے، یا کم از کم ان میں سے بعض اس کا تذکرہ کرتے۔

اور اگر وصیت ہوتی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ عباس رضی اللہ عنہ سے یوں کہتے:

’’ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیسے پوچھیں کہ خلافت کن لوگوں میں ہوگی جب کہ آپﷺ نے میرے لیے خلافت کی وصیت کردی ہے؟‘‘

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی دن وفات پاگئے۔

جب اس سلسلے میں کوئی صحیح چیز نہیں ملی تو اس سے یہ بات صاف ہوگئی کہ تنصیص کا دعویٰ بے بنیاد ہے، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی تنصیص کے سلسلے میں جو کچھ بیان کرتے ہیں، وہ سب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اس صریح نص کے مخالف ہونے کے باعث مردود و ناقابل قبول ہے۔ ان کی تمام سمعی دلیلیں یا تو دعویٰ پر دلالت نہیں کرتیں یا دلالت کرتی ہیں لیکن وہ موضوع و من گھڑت ہیں۔ 

(الإمامۃ والرد علی الرافضۃ: تحقیق علی ناصر الفقیہی: صفحہ 238)

3۔ (ابوطفیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ لوگوں کے لیے کوئی چیز خاص کی ہے؟ سیدنا علیؓ نے جواب دیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے کوئی ایسی چیز خاص نہیں کی ہے جسے اور لوگوں میں عام نہ کیا ہو، سوائے اس کے جو میری اس تلوار کی نیام میں ہے، چنانچہ سیدنا علیؓ نے ایک تحریر نکالی جس میں لکھا تھا:

لَعَنَ اللّٰہُ مَنْ ذَبَحَ لِغَیْرِ اللّٰہِ وَ لَعَنَ مَنْ سَرَقَ مَنَارَ الْأَرْضِ وَ لَعَنَ اللّٰہُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَہٗ وَ لَعَنَ اللّٰہُ مَنْ آوٰی مُحْدِثًا۔

(صحیح مسلم: جلد 3 صفحہ 1567، رقم: 1978)

’’جو غیر اللہ کے لیے ذبح کرے اس پر اللہ کی لعنت ہے، جو زمین کی حد بندی کے نشان کو مٹا دے اس پر لعنت ہے، جو اپنے والد پر لعنت بھیجے اس پر اللہ کی لعنت ہے اور جو کسی بدعتی کو پناہ دے اس پر اللہ کی لعنت ہے۔‘‘

ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’صحیحین وغیرہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی صحیح حدیث رافضی فرقہ کے اس زعم باطل کی کہ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے خلافت کی وصیت کی تھی‘‘ تردید کرتی ہے، اگر معاملہ ان کے زعم کے مطابق ہوتا تو صحابہ اس کا انکار نہ کرتے، وہ سب تو اللہ کے اور اس کے رسول کی حیات میں اور وفات کے بعد بھی مطیع و فرمانبردار تھے، وہ من مانی نہیں کرسکتے تھے کہ آپﷺ کے مقدم کیے ہوئے شخص کے علاوہ کسی اور کو وہ مقدم کریں، اور جس کی تقدیم پر آپﷺ نے تنصیص کی ہو اسے مؤخر کردیں، ایسا نہیں ہوسکتا تھا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں جو ایسا سوچتا ہے، وہ انھیں گناہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دشمنی پر اتفاق کرنے اور آپﷺ کے حکم اور تنصیص کی مخالفت کی جانب منسوب کرتا ہے، جب کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ان کی تعریف نازل فرمائی ہے، جو شخص بھی اس مقام کو پہنچ جاتا ہے، ائمہ اعلام کا اجماع ہے کہ وہ اسلام کا قلادہ اتار پھینکتا ہے اور کافر ہو جاتا ہے۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 5 صفحہ 221)

امام نوویؒ فرماتے ہیں اس میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی وصیت اور دوسری من گھڑت باتوں کے بارے میں روافض اور امامی شیعہ کا جو باطل عقیدہ ہے اس کی تردید ہے۔

(شرح صحیح مسلم: جلد 13 صفحہ 151)

4۔ عمرو بن سفیان سے مروی ہے کہتے ہیں: جنگ جمل کے دن جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ لوگوں کے سامنے آئے تو فرمایا: لوگو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خلافت کے سلسلے میں ہمیں کوئی حکم نہیں دیا ہے، تاآنکہ اپنی رائے سے ہم نے باہم مشورہ سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا، چنانچہ آپ نے لوگوں کو درست کیا اور خود درست رہے تاآنکہ آخرت کی راہ لی۔

(الاعتقاد: صفحہ 184، دلائل النبوۃ میں بیہقی کہتے ہیں اس کی سند حسن ہے۔)

5۔ امام ابوبکر بیہقیؒ اپنی سند سے شقیق بن سلمہ کی حدیث روایت کرتے ہیں انھوں نے کہا کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: کیا آپ اپنے بعد خلیفہ کی تعیین نہیں کریں گے؟ تو سیدنا علیؓ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خلیفہ کی تعیین نہیں کی کہ میں کروں، لیکن اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کی بھلائی چاہے گا تو انھیں ان کے افضل شخص پر اکٹھا کردے گا، جیسا کہ انھیں ان کے نبی کے بعد ان کے افضل شخص پر اکٹھا کردیا تھا۔

(الاعتقاد: صفحہ 184 اس کی سند جید ہے۔)

صفحہ 2 از 5