امر دوم: کیا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ خلیفہ بلا فصل…

امر دوم: کیا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ خلیفہ بلا فصل تھے؟

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

صفحہ 2 از 2

(اہلِ حق کی تھوڑی) جماعت اہلِ باطل کی بڑی جماعت پر غالب ہوا کرتی ہے آپ ضرور اس مقابلہ میں کامیاب ہوتے جب رسول اللہﷺ کفار کے مقابلہ میں لا الہ الا اللہ کی تیغ عریاں ہاتھ میں لے کر کھڑے ہوئے تھے۔ آپ کے ساتھ کون تھا؟ وہی نصرتِ الٰہی آپ کے شاملِ حال تھی اور اسی وجہ سے دنیا کی طاقتیں آپ کے مقابلہ سے عاجز آ گئیں اور اسد اللہ الغالب لافتٰی الا علی لا سيفَ إِلَّا ذُوالفقار کے مصداق تو اکیلے مقابلہ پر کھڑے ہو جاتے تو مخالفین کو تہس نہس کر دیتے۔ جیسا کہ نہج البلاغت مطبوعہ بیروت: جلد 2، صفحہ 65 ایضاً مطبوعہ تہران: صفحہ 507 میں لکھا ہے:

قَالَ أَمِير الْمُؤْمِنِينَ إِنِّی وَاللَّهِ لَوْ لَقِيتَهُمْ وَاحِدًا وَّهُمُ طِلاءُ الأرْضِ كُلِّهَا مَا بَالَيْتُ وَ لَاسْتَوْحَشْتُ۔

ترجمہ: جناب امیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا خدا کی قسم اگر میں اُن کے مقابلہ میں کھڑا ہو جاؤں اور زمین سے پر ہوں تو مجھے کچھ پرواہ نہ ہو اور نہ مجھے کچھ دہشت ہو۔

پھر جب آپ تنِ تنہا سارے جہان کا مقابلہ کے لیے کافی تھے اور اصحابِ ثلاثہؓ نے آپ سے زبردستی خلافت چھین لی ہوتی تو وہ اُن کو دنیا میں دم نہ لینے دیتے اور ایک پل میں تباہ کر دیتے۔ اس سے صاف ثابت ہے کہ حضرت امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ خلافت بلافصل اپنا حق نہیں سمجھتے تھے اور جس طرح خلافت کی ترتیب عمل میں آئی اسی پر راضی تھے اور خدا کو بھی یہی منظور تھی۔ 

پانچویں دلیل:

اگر ترتیبِ خلافت حق نہ تھی اور اصحابِ ثلاثہؓ نے خلافت زبردستی چھین لی تھی اور اپنے وقت میں وہ جور و جفا اور بے انصافی کرتے رہے تھے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا پہلے تو اُن سے جہاد کرنا فرض تھا۔ اگر اس کی طاقت نہ رکھتے تھے تو اُن کے مشیر کار نہ بنے رہتے اور مالِ غنیمت میں حصہ گیر نہ ہوتے بلکہ ان کا فرض تھا کہ ملک چھوڑ کر ہجرت کر جاتے جیسا کہ ایسے موقع پر ہجرت کر جانا بحکمِ الہٰی فرض ہے۔

(قرآن میں ہے: الَّذِيۡنَ تَوَفّٰٮهُمُ الۡمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِىۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ قَالُوۡا فِيۡمَ كُنۡتُمۡ‌ قَالُوۡا كُنَّا مُسۡتَضۡعَفِيۡنَ فِىۡ الۡاَرۡضِ‌ قَالُوۡۤا اَلَمۡ تَكُنۡ اَرۡضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوۡا فِيۡهَا‌ فَاُولٰٓئِكَ مَاۡوٰٮهُمۡ جَهَـنَّمُ‌ وَسَآءَتۡ مَصِيۡرًا ۞

(سورۃ النساء: آیت 97)

ترجمہ: جن لوگوں کی فرشتوں نے اس حالت میں روح قبض کی کہ انہوں نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا ہوا تھا۔ فرشتے پوچھیں گے کہ تم کس حالت میں تھے۔ کہیں گے کہ ہم زمین میں ہارے ہوئے تھے۔ فرشتے کہیں گے کیا خدا کی زمین وسیع نہ تھی تم اس میں ہجرت کر جاتے۔ ان لوگوں کا ٹھکانا دوزخ ہوگا جو برا ٹھکانا ہے)

جب کہ نہ لڑائی کی، نہ ہجرت فرمائی بلکہ ہر ایک امر میں ان کے صلاح کار اور مشیر بنے رہے اور غنائم سے حصہ لیتے رہے تو اس سے اس امر کا یقین ہوتا ہے کہ آپ ہرگز ہرگز خلافت بلافصل اپنا حق نہ سمجھتے تھے۔

ان پانچ دلائل سے ہر ایک با سمجھ انسان اس نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے کہ حضرت علیؓ بلافصل نہ تھے۔ پہلی خلافتیں صحیح اور درست تھیں اور حضرت نے ان کو درست تسلیم کیا اور خدا کو بھی یہی منظور تھا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ شیعہ کے پاس خلافت بلافصل علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے متعلق کیا دلائل ہیں؟ اور ان کا جواب کیا ہے؟


صفحہ 2 از 2