فرد تنقیح
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ
1: کیا امامت و خلافت دو علیحدہ علیحدہ چیزیں ہیں یا دونوں کا ایک ہی مفہوم ہے؟ اور کیا امامت اصولِ دین سے ہے یا نہ؟
2: کیا امامت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا ہی حق تھا اور وہ خلیفہ بلافصل تھے؟ اس کے متعلق قرآن یا حدیث سے کوئی نص ہو چکی تھی؟ یا انتخاب خلافتِ شوریٰ مہاجرین وانصار و اتفاق اہلِ حل و عقد سے ہی ہوتا رہا ہے اور اسی میں رضائے الٰہی تھی؟
3: کیا حضرت علیؓ خود طالبِ خلافت بلافصل تھے اور خلافت چھن جانے پر وہ مہاجرین و انصار کے در بدر حسنینؓ کو ساتھ لے کر پھرتے رہے یا ان کو مطلق رغبت نہ تھی اور یہ بہ نسبت خلافت کے وزارت کو زیادہ پسند کرتے تھے اور پہلے خلافت کے دعویدار ہونے کو قبل از وقت مطالبہ تصور فرماتے تھے۔
4: کیا سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے خلفائے ثلاثہؓ کی بیعت کی؟ اگر کی تو جبراً یا قہراً یا برضا مندی خود کی؟